سرورقسیاسی و مذہبی مضامین

جن کو کفایت کرنی تھی وہ قرضوں میں ڈوبے ہیں-محمد مصطفی علی سروری

ممبئی شہر کے کولابا علاقے میں واقع ایک اپارٹمنٹ کی چھٹی منزل پر ڈبل بیڈ روم کا ایک فلیٹ ہے جس میں 5 فیٹ 9 انچ کے قد کا حامل 82 سال کا ایک معمر شخص قیام کرتا ہے

ممبئی شہر کے کولابا علاقے میں واقع ایک اپارٹمنٹ کی چھٹی منزل پر ڈبل بیڈ روم کا ایک فلیٹ ہے جس میں 5 فیٹ 9 انچ کے قد کا حامل 82 سال کا ایک معمر شخص قیام کرتا ہے۔ جس کے پاس اکیسویں صدی کے اس تیز رفتار دور میں بھی خود اپنا کوئی موبائل فون نہیں ہے اور جو دنیا بھر کے واقعات سے اپنے آپ کو باخبر رکھنے کے لیے اخبارات اور میگزین کا مطالعہ کرتا رہتا ہے۔
قارئین یوں تو خوابوں کی نگری ممبئی میں دو کروڑ بارہ لاکھ لوگ رہتے ہیں۔ اس شہر میں ہزاروں، لاکھوں اپارٹمنٹ ہیں اور لاکھوں معمر افراد بھی ہیں جو اسی شہر میں قیام بھی کرتے ہیں تو اس پس منظر میں ایک فرد کا ذکر کیا معنی رکھتا ہے ۔
جی ہاں قارئین ممبئی میں ایک ڈبل بیڈ روم کے فلیٹ میں قیام پذیر یہ شخص کوئی معمولی شخص نہیں ہے بلکہ یہ ہندوستان کا ایک مالدار شخص ہے لیکن اس کی سیدھی سادی زندگی اور دو بیڈ روم کے فلیٹ والی رہائش گاہ جو کہ اپارٹمنٹ کی چھٹی منزل پر واقع ہے کو دیکھ کر کوئی اس بات پر یقین نہیں کرپاتا کہ یہ شخص دراصل رتن ٹاٹا کا چھوٹا بھائی ہے۔ جی ہاں وہی رتن ٹاٹا جو کبھی ٹاٹا گروپ کے چیئرمین تھے۔
اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ رتن ٹاٹا جیسے امیر ترین صنعت کار کا چھوٹا بھائی ایسی سیدھی سادی زندگی کیوں گذار رہا ہے۔ کیا یہ ان کا سوتیلا بھائی ہے؟ کیا رتن ٹاٹا نے اپنے چھوٹے بھائی کو اپنی دولت میں سے کچھ بھی حصہ نہیں دیا؟
قارئین یہ رتن ٹاٹا کا کوئی سوتیلا بھائی نہیں ہے بلکہ حقیقی چھوٹا بھائی ہے۔ دوم رتن ٹاٹا نے اپنے بھائی کو ٹاٹا کمپنیوں میں نہ صرف حصہ داری دی ہے بلکہ وہ اب بھی ٹاٹا کی کمپنیوں میں شیئر ہولڈر ہیں۔
کیا رتن ٹاٹا کے چھوٹے بھائی بری عادتوں کا شکار ہیں؟ کیا وہ کچھ ایسا کیے ہیں کہ ان کی دولت لٹ گئی ہے؟
حقیقت میں قارئین ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔ اخبار فینانشیل ایکسپریس کی 9؍ جون 2023 کی رپورٹ کے مطابق رتن ٹاٹا کے چھوٹے بھائی کا نام جمی ٹاٹا ہے۔ وہ زندگی کے شور شرابے سے دور اور میڈیا سے اپنے آپ کو بچا کر سادگی کے ساتھ زندگی گذارنے پر یقین رکھتے ہیں۔
Fortune India ویب سائٹ کے مطابق نومبر 2022 تک جمی ٹاٹا کی دولت کا جو تخمینہ لگایا گیا ہے وہ 23,874 کروڑ روپئے ہے۔ یعنی (2.99) بلین امریکی ڈالر ہے۔
19؍ جنوری 2022ء کو ہرش گوئنکا نے اپنے ٹویٹر اکائونٹ پر لکھا ہے کہ رتن ٹاٹا کے چھوٹے بھائی جمی ٹاٹا ڈبل بیڈ روم کے ایک فلیٹ میں ممبئی کولابا کے علاقے میں بڑی سادہ زندگی بسر کرتے ہیں۔ بزنس میں بھی بہت کم دلچسپی رکھتے ہیں اور اسکوائش کے زبردست کھلاڑی ہیں اور میں جب بھی ان کے ساتھ اسکوائش کھیلتا ہوں ہار جاتا ہوں…
فینانشیل ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق جمی ٹاٹا، ٹاٹا موٹرس، ٹاٹا اسٹیل، ٹاٹا سنس، ٹی سی ایس، ٹاٹا پاور، انڈین ہوٹل، ٹاٹا کمیکلس کے شیئر ہولڈر ہیں۔
قارئین یہ ہندوستان کے ایک مالدار ترین فرد کی زندگی کا قصہ ہے جس کے پاس سب کچھ ہے۔ مال و دولت، عزت و شہرت، لیکن وہ ان سب سے دور رہ کر سادگی والی زندگی کو ترجیح دیتا ہے۔
22؍ مئی 2023ء کو وحید عباس نے خلیج ٹائمز میں ایک شادی کے متعلق تفصیل سے رپورٹ شائع کی۔ رپورٹ میں بتلایا گیا کہ دوبئی اب دنیا بھر سے شادیوں کی تقاریب منعقد کرنے کا ایک اہم مرکز بنتا جارہا ہے۔ اور گذشتہ دنوں دوبئی میں سر انجام پانے والی ایک شادی کی ویڈیو سوشیل میڈیا کے ذریعہ خوب وائرل ہوگئی جس میں شادی کی تقریب کے دوران دلہن کو ترازو میں بٹھا کر اس کے وزن کے مساوی سونے کی اینٹوں کو تولا جارہا تھا۔ کسی نے بتلایا کہ یہ جہیز میں دلہن کے والد کی جانب سے دیا جانے والا سونا ہے ، تو کسی نے کہا کہ دلہن کو جس سونے میں تولا جارہا تھا وہ اس کا مہر تھا۔
خیر سے اس ویڈیو میں جو دلہا، دلہن دکھائی دے رہے تھے ان کے متعلق خلیج ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں واضح کرتے ہوئے لکھا کہ ویڈیو جس میں دلہن کو ترازو میں بٹھاکر اس کے وزن کے برابر سونے میں تولا جارہا تھا وہ دلہن کوئی اور نہیں بلکہ عائشہ طاہر ہے اور دلہن کے خاندان والوں نے وضاحت کردی کہ دلہن کو تولنے کے لیے اصلی سونے کی اینٹیں نہیں بلکہ سونے کی پالش کردہ اینٹیں تھیں۔ دلہن کا نام جہاں عائشہ طاہر تھا تو دولہا عادل تھا۔ ان دونوں کا تعلق پاکستانی خاندان سے ہے جو دوبئی میں کاروبار کرتے ہیں۔ چھ مہینے پہلے ان دونوں کی منگنی ہوئی تھی اور شادی کی یہ تقریب بُرج خلیفہ ٹاور میں انجام دی گئی تھی۔ شادی کے بعد دلہن اور دلہا کے افراد خاندان ترکی کے خوبصورت مقامات پر گئے جہاں پر شادی کے فوٹو اور ویڈیوز کی شوٹنگ انجام دی گئی۔
شادی کی اس تقریب کے متعلق دلہن کے خاندان والوں نے یہ وضاحت تو کردی کہ اس تقریب میں جو اینٹیں استعمال کی گئی وہ خالص سونے کی نہیں ہیں لیکن خاندان کے بڑے حضرات کی مرضی سے طئے پائی اس شادی میں کیے جانے والے اسراف کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ شادی کے لیے ایک خاص Theme کا انتخاب کیا گیا تھا۔
قارئین یہ تھیم کیا تھی وہ بھی جان لیجئے۔ اس تھیم کا نام جودھا- اکبر تھا جس کے دوران بالی ووڈ کی دنیا سے مختلف کرداروں کا انتخاب کیا گیا جو یہ لوگ اپنی شادی میں ادا کر رہے تھے۔ صرف کرداروں کی طرح لباس ہی نہیں بلکہ ان کرداروں کی مناسبت سے گانوں کا بھی انتخاب کیا گی تھا۔ اور دوبئی جیسے شہر میں منعقد ہونے والی اس شادی میں ایک ہزار مہمانوں کو مدعو کرنے کی تصدیق کی گئی اور جہاں تک دلہن کو سونے میں تولے جانے کا منظر تھا وہ بھی فلم جودھا اکبر سے اخذ کردہ تھا۔
دلہن کے لباس اور زیورات کے وزن کو مد نظر رکھ کر 100 کیلو سونے کی پرت چڑھائی ہوئی اینٹوں کو ترازو میں دلہن کے وزن کے برابر سونا تولنے کے منظر کشی کے لیے استعمال کیا گیا۔ شادی کے ان رسومات کو (Ayshada Mian) عائشہ کے شوہر کے نام سے انسٹاگرام پر بھی اپ لوڈ کیا گیا جس کا3 لاکھ سے لے کر 10 لاکھ افراد نے مشاہدہ کیا۔
برصغیر ہندوستان و پاکستان میں مسلمانوں کے درمیان اپنی دولت کی نمائش اور شادی بیاہ کی رسومات پر بے جا اصراف کو طرح طرح سے جائز اور قابل تقلید بتانے کی ہر ممکنہ کوشش کی جاتی ہے۔
پہلے پہل سماج کے نو دولتیے اور این آر آئیز اپنے گھروں کی شادی بیاہ کی تقریبات کی تصاویر و خبریں اخبارات میں شائع کرواکر لوگوں کو مرعوب کرتے اور اپنی پرتعیش تقاریب کی نمائش کرتے تھے۔ سوشیل میڈیا کے آنے کے بعد تو یہ جراثیم سماج کے سبھی طبقات میں سرائیت کر گئے ہیں۔ حالانکہ دنیا بھر کے امیر ترین افراد کی فہرست میں بہت کم مسلمان ہیں لیکن مسلمان دولت اور مال نہیں ہونے کے باوجود اپنی زندگی کی ساری بچت اور تو اور قرضے لے کر بھی اصراف کرنے سے پیچھے نہیں ہٹتے ہیں۔
دنیا کے امیر ترین افراد کے ذکر پر یاد آیا کہ وارن بفٹ کا شمار دنیا کے آٹھویں امیر ترین فرد میں ہوتا ہے۔ Forbes میگزین کے مطابق وارن بفٹ کی دولت کا تخمینہ 125 بلین ڈالر لگایا گیا ہے۔ لیکن قارئین اسٹاک مارکٹ میں مشہور زمانہ اس شخص کے متعلق کہا جاتا ہے کہ اس سے بڑا دوسرا کوئی کفایت شعار نہیں ہے۔
نیویارک سے قریب 2008 کیلومیٹر دور ایک امریکی ریاست اوماہا ہے۔ وارن بفٹ اسی ریاست میں قیام کرتے ہیں۔ اور ان کا قیام کسی بڑے منشن، حویلی یا کامپلیکس میں نہیں بلکہ ایک ایسے پرانے گھر میں ہے جو انہوں نے اکتیس ہزار پانچسو ڈالر میں سال 1958ء میں خریدا تھا۔
اس وقت بفٹ کی عمر صرف 28 برس تھی۔ اور وہ گذشتہ 64  برسوں سے اپنے اسی گھر میں قیام پذیر ہیں۔ امریکی نشریاتی ادارے CNBC سے انٹرویو کے دوران وارن بفٹ نے اپنے پرانے گھر کو کبھی بھی کسی بھی قیمت پر چھوڑنے سے انکار کردیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ میں اپنے اس پرانے گھر میں ہی خوش ہوں۔
دنیا کا یہ امیر ترین شخص اپنے گھر پر پکوان کروانے کے لیے کسی باورچی کو بھی نہیں رکھتا ہے بلکہ آج بھی کام کے لیے جاتے ہوئے آفس کے راستے میں وہ میک ڈونالڈ کی دوکان پر ناشتہ کرلیتے ہیں۔

کیا بفٹ صرف پرانے گھر میں رہ کر اور گھر کے باہر کا سستا کھانا کھاکر ہی بچت کرتے ہیں؟ 

دنیا کا امیر ترین شخص وارن بفٹ سفر کرنے کے لیے کونسی گاڑی استعمال کرتا ہے۔ یہ جاننے کے لیے بھی دنیا بھر کے لوگ دلچسپی رکھتے ہیں اور قارئین سال 2009 میں وارن بفٹ کی بیٹی Susie بفٹ نے بی بی سی کی جانب سے بنائی گئی ڈاکیومنٹری میں بتلایا کہ ان کے والد نئی گاڑیاں خریدنے کے بجائے ایسی گاڑیاں خریدتے ہیں جو مرمت شدہ ہوں۔ جن کو طوفان اور کسی حادثہ میں نقصان پہنچا تھا اور جو مرمت کرنے کے بعد دوبارہ بازار میں بیچی جاتی ہوں۔ (بحوالہ بی بی سی ڈاٹ کو ڈاٹ یو کے۔ اکتوبر 2009)
وارن بفٹ کس حد تک کفایت شعاری کو پسند کرتے ہیں اس کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ وارن بفٹ جب بھی اپنے دوست بل گیٹس کے بارے میں سنتے ہیں کہ وہ ان سے ملنے کے لیے آرہے ہیں تو بفٹ اپنی کار خود چلا کر ایئر پورٹ جاتے ہیں اور بل گیٹس کو خود ہی ایئر پورٹ سے اپنی گاڑی میں بٹھاکر گھر لاتے ہیں اور ان کی مہمان نوازی کرتے ہیں۔ بفٹ نے سال 2020 کے CNBC کو دیئے گئے انٹرویو میں بتلایا تھا کہ وہ نوکیا کا فون استعمال کر رہے تھے لیکن جب وہ فون بالکل ناکارہ ہوگیا تو انہوں نے آئی فون (11) استعمال کرنا شروع کیا۔
ہندوستان کی وہ قوم جو تعلیمی، سماجی، معاشی اور معاشرتی طور پر پسماندہ ہے ان کے لیے بھی لمحۂ فکر ہے کہ وہ اپنا محاسبہ کریں اور طئے کریں ان کے لیے کفایت شعاری کس قدر ضروری ہے۔
قارئین یقینا مال و دولت اللہ رب العزت کی نعمت ہے۔ قرآن کریم میں اللہ رب العزت کا ارشاد ہے کہ اور رشتہ داروں کو ان کا حق دو اور مسکین اور مسافر کو، اور فضول خرچ نہ کرو۔ بے شک فضول خرچی کرنے والے شیطان کے بھائی ہیں اور شیطان اپنے رب کا بڑا ناشکرا ہے۔ (بنی اسرائیل ۔ آیت نمبر 27)
اللہ رب العزت ہم سب مسلمانوں کو ہر طرح کی ناشکری سے محفوظ فرمائے۔ (آمین یارب العالمین)
(کالم نگار مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے شعبۂ ترسیل عامہ و صحافت میں بحیثیت اسوسی ایٹ پروفیسر کارگذار ہیں)

متعلقہ خبریں

Back to top button