بین الاقوامی خبریں

تحریک طالبان پاکستان کے ہزاروں جنگجو افغان سرحد پر موجود: اقوام متحدہ

واشنگٹن،27جولائی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)اقوام متحدہ نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ اختلافات کے باوجود تحریک طالبان پاکستان اور افغان طالبان کے مابین پہلے جیسے ہی تعلقات قائم ہیں۔ اقوام متحدہ نے اپنی ایک رپورٹ میں پاک #افغان سرحد کے قریب تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے ہزاروں تربیت یافتہ عسکریت پسندوں کی موجودگی کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ ’بڑھتے ہوئے عدم اعتماد کے باوجود طالبان کے ساتھ اس کے قریبی تعلقات حسب سابق برقرار ہیں۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کیلئے تیار کردہ ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ #افغانستان میں #پاکستانی سرحد کے قریب کالعدم عسکریت پسند گروپ تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے تقریباً چھ ہزار تربیت یافتہ جنگجو موجود ہیں۔اقوام متحدہ کی ’تجزیاتی معاونت اور پابندیوں‘ کی نگرانی کرنے والی ٹیم کے سربراہ ٹی ایس تریمورتی نے پیش کردہ اس رپورٹ میں افغانستان کی سرحد کے قریب #بیجنگ مخالف سینکڑوں عسکریت پسندوں کی موجودگی کی بھی تصدیق کی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حالانکہ ٹی ٹی پی پر عائد #پابندیوں کی وجہ سے #طالبان اور اس گروپ کے مابین جھڑپیں ہو چکی ہیں اور دونوں کے درمیان عدم اعتماد میں اضافہ بھی ہوا ہے تاہم ان سب کے باوجود دونوں میں تعلقات پہلے جیسے ہی قائم ہیں۔رپورٹ کے مطابق دسمبر 2019 اور اگست 2020 کے عرصے میں افغانستان میں ٹی ٹی پی اور بعض گروپوں کے درمیان دوبارہ اتحاد ہوا۔

اس میں شہر یار محسود گروپ، جماعت الاحرار، امجد فاروقی گروپ اور عثمان سیف اللہ گروپ (جو پہلے لشکر جھنگوی کے نام سے مشہور تھا) شامل تھے جبکہ القاعدہ نے مبینہ طورپر ان گروپوں کے مابین ثالثی کا کردار ادا کیا۔رپورٹ کے مطابق ٹی ٹی پی #پاکستان کی سرحد کے قریب صوبہ ننگر ہار میں موجود ہے۔ اقو ام متحدہ کی سلامتی کونسل کی اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ الگ الگ گروپوں کی ٹی ٹی پی میں شمولیت سے ان کی طاقت میں اضافہ ہوا ہے۔

نور ولی محسود اس گروپ کی قیادت کر رہے ہیں اور ایک محتاط اندازے کے مطابق مسلح #جنگجوؤں کی تعداد اس وقت ڈھائی سے چھ ہزار کے درمیان ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس گروپ کے مقاصد نہ صرف پاکستان مخالف ہیں بلکہ یہ افغانستان کے اندر افغان فورسز کے خلاف افغان طالبان کی مدد بھی کرتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button