بین الاقوامی خبریں

غزہ کے تین فلسطینی اسیران رہائی کے فوری بعد ہلاک کر دیئے گئے

ہاتھوں کو پلاسٹک کی بنی ہوئی ہتکھڑیاں لگی تھیں

مقبوضہ بیت المقدس، 9جولائی :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)ایک عینی شاہد نے تین فلسطینی قیدیوں کی ہلاکت کے واقعے کے بارے میں کہا گیا ہے کہ ان کو اسرائیلی فوج نے پہلے اپنی قید سے چھوڑا اور جب یہ رہائی کے بعد غزہ کی سرحد کے قریب پہنچے تو انہیں ظاہری رہائی کے باوجود ہتھکڑیاں لگی ہوئی تھیں۔ جیسے ہی یہ فلسطینی غزہ کی سرحد کے قریب پہنچے انہیں اسرائیلی فوج نے ہتھکڑیوں میں ہی ہلاک کر دیا۔عبدالہادی غبائین ایک ہلاک کیے گئے فلسطینی اسیر کامل غبائین کے انکل ہیں۔ ان کے بقول ان کے بھتیجے کو صبح پانچ بجے ہفتے کے روز اسرائیلی فوج اٹھا کر لے گئی تھی۔ وہ اس گرفتاری کے بعد اپنے بھتیجے کی تلاش میں تھے کہ اتوار کے روز بھی وہ اسی کے لیے باہر نکلے ہوئے تھے۔ان کا کہنا تھا کہ اس دوران میں نے اس کی نعش کو ایسی حالت میں دیکھا کہ میرا بھتیجا اور اس کے ساتھ دو مزید فلسطینی شہید ہو چکے تھے۔انہوں نے بتایا تینوں نعشیں زمین پر پڑی تھیں، ان کے ہاتھوں کو پلاسٹک کی بنی ہوئی ہتکھڑیاں لگی تھیں مگر ان کے جسموں پر کوئی کپڑا نہیں تھا۔

یہ تینوں نعشیں اتوار کے روز اسرائیل کے زیر قبضہ کرم شالوم راہداری کی جانب سرحدی باڑ کے ساتھ جنوبی غزہ سے متصل پڑی تھیں۔بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز ابھی ان عینی شاہدوں کے بیانات کی تصدیق نہیں کی ہے۔ کیونکہ ابھی تک اس بارے میں اسرائیلی فوج نے بھی کچھ نہیں بتایا ہے۔ رائٹرز کے مطابق اس بارے می پوچھنے پر بھی اسرائیلی فوج نے جواب نہیں دیا ہے۔تاہم عبدالہادی غبائین نے مزید بتایا ہے کہ ان تینوں زیر حراست ہلاکتوں میں سے ایک کی ٹانگ بھی کاٹ دی گئی تھی۔جبکہ بقیہ نعش بھی کئی ٹکڑوں کی شکل میں تھی۔ اسرائیلی فوج نے انہیں رہا کرنے کے فوری بعد ہی ہلاک کر دیا تھا۔

عبدالہادی غبائیین کے مطابق اس نے ٹانگ کٹی لاش کو اکٹھا کرنا چاہا، تو اسرائیلی فوجیوں نے مجھے گولی مارنے کی دھمکی دی۔ یہ دیکھ کر میں رک گیا۔ تاہم بعد ازاں وہ تینوں لاشیں ایک ٹرک میں ڈال کر خان یونس کے نصیرات ہسپتال لے آیا۔جہاں ان تینوں کی شناخت کر لی گئی۔ ایک عبدالہادی کا بھتیجا کامل غبائین تھا اور اس کے علاوہ محمد عواد رمضان ابو حجازی اور رمضان عواد رمضان ابی حجازی شامل تھے۔ایک اور فلسطینی محمد ابو طہ کے مطابق ان فلسطینی اسیران کو اسرائیلی فوج نے رہائی کے فوری بعد ہی ہلاک کر دیا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button