اٹاوہ؍لکھنؤ ، 13اکتوبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)یوپی کے ضلع اٹاوہ کی عدالت نے سال 2004 میں ایک طالبہ کے اغوا اور زیادتی کے الزام میں دو حقیقی بھائیوں سمیت تین افراد کو عمر قید کی سزا سنائی ہے ، نیز 10 ہزار جرمانہ بھی کیا ہے۔ جرمانہ کی رقم ادا نہ کرنے پر تینوں کو مزید تین سال قید کی سزا بھگتنی پڑ سکتی ہے۔تین بدمعاشوں کی عمر قید سزا کے پیچھے اٹاوہ پولیس کی مضبوط پیروی کا نتیجہ ہے۔ اٹاوہ کے اسسٹنٹ ڈسٹرکٹ گورنمنٹ ایڈوکیٹ ترون کمار شکلا نے بتایا کہ چوبیا تھانہ علاقہ کے ایک گاؤں کے رہائشی کسان کی 15 سالہ بیٹی سال 2004 میں 11 ویں جماعت کی طالبہ تھی۔
وہ 6 نومبر 2004 کو اپنے دو چھوٹے بھائیوں کے ساتھ ا سکول جا رہی تھی۔چوبیا تھانہ علاقہ کے کاکڑ پورہ گاؤں کے رہنے والے سنجیو ، امیش اور سیفئی کے واموری گاؤں کے رہنے والے گڈو ، جو موٹر سائیکل پر آئے تھے ، انہوں نے دیسی پستول کے زور پر طالبہ کو روک لیا ، طالبہ کو موٹر سائیکل پر لے جانے کے بعد ایک خالی مکان میں لے گئے ۔سنجیو نے پستول کی زور پر طالبہ کو مارا اوراس کے ساتھ جنسی زیادتی کی ،نیزجان سے مارنے کی دھمکی بھی دی۔
گڈو نے مار پیٹ بھی کی اور دھمکی دی کہ اگر اس نے کسی کو بتایا تو سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔ کپڑوں میں خون کے د ھبے کو سنجیو نے دھونے پر مجبور کیا۔ 8 نومبر کو سنجیو کا بھائی امیش آیا ، سنجیو کو بتایا کیا کہ پولیس معاملہ میں تلاش کر رہی ہے۔ اس دوران رات کو پستول کی نوک پر موٹر سائیکل پر بیٹھا کر گاؤں کے قریب پہنچ کر لڑکی کو موٹر سائیکل سے پھینک دیا اور بھاگ گئے۔
10 نومبر کو متاثرہ خاندان کے افراد کے ساتھ چوبیا تھانے گئی ، لیکن پولیس نے رپورٹ درج نہیں کی۔ اس معاملہ کی اس وقت کے ایس ایس پی کو شکایت کی ، پھر 11 نومبر کو پولیس نے رپورٹ درج کی اور تینوں ملزمان کو گرفتار کرکے جیل بھیج دیا۔ اس وقت وہ تینوں ہائی کورٹس سے ضمانت پر رہا تھا۔ایڈیشنل سیشن جج (ایف ٹی سی -1) شیریں زیدی نے دونوں فریقین کے دلائل سنے۔
اس کے بعد سنجیو ، امیش اور گڈو کو طالبہ کے اغوا اور زیادتی کے معاملہ میں عمر قید کی سزا سنائی گئی،نیز دس ہزار روپے جرمانہ بھی عائد کیا گیا۔ جرمانہ ادا نہ کرنے پر تینوں کو تین تین سال اضافی قید بھگتنا پڑے گی۔



