سرورقصحت اور سائنس کی دنیا

موسم سرما کی تین چیزیں

پیش کش: رافعہ عروہ افضل بنگلور

موسم سرما کے پھل کینو، موسمی، نارنگی، وغیرہ۔ وٹامن سی سے بھرپور ہوتے ہیں۔ رب العالمین نے موسم سرما میں خاص ایسے پھل اور سبزیاں پیدا کیں جو وٹامن سی سے بھرپور ہوں۔ سردی کے موسم میں کئی قسم کے پھل پیدا ہوتے ہیں، ان کا ذائقہ ترش ہوتا ہے۔ عموماً لوگوں کو سردی میں ترش اورکھٹی چیزیں کچھ زیادہ ہی کھٹی محسوس ہوتی ہیں اس کی وجہ موسم کی خنکی ہوتی ہے۔

بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ سرد موسم میں ترش پھل کھانا نقصان دہ ہوتا ہے حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ جو پھل خاص سردیوں میں ہوتے ہیں وہ انسانی صحت کیلئے نقصان دہ ہوں۔سردی میں ہمیں وٹامن سی کی ضرورت زیادہ ہوتی ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے اس موسم میں خاص ایسے پھل اور سبزیاں پیدا فرمائے۔ وٹامن سی ہمارے جسم میں موجود پانی اورخون میں حل ہوجاتا ہے۔ یہ ہمارے بالوں اور جلد کی نشو ونما کو بڑھاتا ہے۔ یہ وٹامن شکرقندی، ٹماٹر، کینو،نارنگی، اسٹرابیری،سبز مرچ، پیاز،لیموں، چکوترا، پالک، آلو، چقندر اور شملہ مرچ میں پایا جاتا ہے۔

ایک تحقیق کے مطابق وٹامن سی فالج کے مریضوں کی صحت کی بحالی میں نمایاں کردار ادا کرتا ہے۔ اسی طرح بلڈ پریشر کو کنٹرول کرنے اور اس کو متوازن رکھنے میں مددگار ہے۔ کولیسٹرول، اعصابی تناؤ، ہڈیوں اور ناخنوں کی کمزوری، الرجی اور خشک جلد سے بچاؤ میں وٹامن سی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ دل کی بیماریوں سے بچاؤ میں وٹامن سی معاون ہے۔ سردی کے موسم میں نزلہ زکام ایک عام بیماری تصور کی جاتی ہے، وٹامن سی کے معتدل استعمال سے نزلہ زکام سے بچا جا سکتا ہے اور سرد موسم سے لطف اندوز ہوسکتے ہیں۔ جس طرح ہر چیز کے فائدے بھی ہوتے ہیں اسی طرح نقصانات بھی ہوتے ہیں۔ وٹامن سی کو بھی اعتدال میں رہ کراستعمال کرنا چاہیے۔ماہرین عموما ایک دن میں 75 سے 90 ملی گرام وٹامن سی استعمال کرنے کا مشورہ دیتے ہیں۔ اب ہم چند اشیاء جو وٹامن سی سے بھرپور ہوتی ہیں۔ان کا ذکر انفرادی طور پر پیش کرتے ہیں۔

کینو

کینو موسم سرما کا خاص پھل ہے۔ اس میں 85 فیصد کیلوریز ہوتی ہیں۔ اس میں کولیسٹرول کی مقدار نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے۔ دن میں کم از کم دو کینو کے استعمال سے نہ صرف آپ کی غذائی ضرورت پوری ہو سکتی ہے بلکہ کمزور جسم والے افراد اور بچوں میں بھوک کی اشتہا بڑھانے کا بہترین عمل ہے۔ کینو کے متواتر استعمال سے قوت مدافعت میں بھی اضافہ ہوتا ہے، جس سے جسم بیماریوں سے لڑنے کی خوب طاقت حاصل کرتا ہے۔کینو کے استعمال سے فربہی مائل افراد اپنے وزن پر قابو پاسکتے ہیں، اس سے جلد، ناخن اور بال کی خوب صورتی میں خاطر خواہ اضافہ ہوتا ہے۔ شوگر کے مریض اپنا انسولین لیول بڑھا سکتے ہیں۔ اسی طرح کینو کھانے سے بینائی پر بھی اچھا اثر پڑتا ہے اور موتیا جیسی بیماری سے بچاؤ ہوتا ہے۔
کینوکے استعمال کے ساتھ اس کے چھلکے کو بھی کارآمد بنایا جا سکتا ہے۔ کینو کے چھلکے دھوپ میں سکھا کر پھر ان کو پیس کر سفوف بنالیں،اس میں چکنائی نکلا دودھ یا عرق گلاب ملا کر چہرے پر ماسک لگائیں اس کو آپ ہاتھوں اور پیروں پر بھی لگا سکتے ہیں، چند دنوں میں آپ پھٹی اور خشک جلد میں ایک نمایاں فرق محسوس کریں گے۔

چقندر

سردی کے موسم میں چقندر جیسی مفید اور سستی سبزی آپ کو وٹامن سی اور خون کی کمی سے نجات دلاکر صحت مند جلد اور خوبصورت جسم عطا کرتی ہے۔ چقندر کو بطور سلاد اور سالن کی صورت میں پکا کر بھی کھایا جاسکتا ہے۔ اس کا جوس خون کی کمی دور کرنے کے لیے بہترین ہے۔ کمزور افراد گاجر کی طرح چقندر کا حلوہ بھی بنا کر استعمال کرسکتے ہیں۔ اسے پیس کر یا جوس نکال کر چہرے پر لگانے سے چہرہ سرخی مائل اور شاداب ہو جاتا ہے۔

لیموں

لیموں سردیوں اور گرمیوں دونوں کی پیداوار ہے۔ لیموں کے لاتعداد فوائد ہیں اس کے استعمال سے آپ اپنا وزن کنٹرول کرکے خوب صورت بن سکتے ہیں۔ لیموں کا اچار پرانے زمانے کی روایات میں سے ہے،جو آج بھی اسی طرح مقبول ہے۔ ہلدی، سرکہ اور نمک کے ساتھ لیموں کو مرتبان میں محفوظ کردیا جاتا ہے۔ لیموں کے چھلکے خشک کرکے اپنے کچن کیبینٹ اور درازوں میں رکھ دیں۔ حشرات الارض سے حفاظت رہے گی۔ فریج کی بدبو ہو یا صفائی کا معاملہ،داغ دھبے دور کرنے ہوں یا کمرا مہکانا ہو، لیموں آپ کے ہر جگہ کام آئے گا۔

چہرے کے داغ دور کرنے ہوں یاجھائیوں ہوں یا دانتوں کا پیلاپن دور کرنا ہو، لیموں ایک بہترین اینٹی سیپٹک کا کردار ادا کرتا ہے۔ چاندی کے زیورات اور المونیم کے برتنوں پر لیموں رگڑنے سے ایک نئی چمک نمودار ہوتی ہے۔ بلاشبہ لیموں وٹامن سی کا خزانہ ہے۔


گاجر کا جوس

گاجر کا جوس وٹامن اے، سی اور کے سے بھر پور ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ اس کے اندر ایک نباتاتی مادہ کیر و ٹینوائڈ بھی ہوتا ہے جو کہ جسم میں اینٹی آکسیڈنٹ کے طور پر عمل کرتا ہے۔ گاجر کا جوس بینائی کو بہتر بناتا ہے۔ گاجر کے رس میں وٹامن اے کی بڑی مقدار موجود ہوتی ہے جو کہ آنکھوں کے لیے بہت مفید ہے۔ یہ رس آنکھوں کو غذائیت فراہم کرتے ہیں مگر ماہرین غذائیت کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس رس کو متواتر استعمال نہیں کرنا چاہیے۔ گاجر کارس پھلوں کے رس کا ایک بہتر نعم البدل ہو سکتا ہے کیوں کہ اس رس میں فائبر کی مقدار کم ہوتی ہے۔

اس کے علاوہ اس میں قدرتی شو گر موجود ہوتی ہے۔ فائبر کی مقدار کی کمی کے سبب اس رس میں شامل شو گر تیزی سے خون کا حصہ بنتی ہے، لہٰذا اس رس کا زیادہ استعمال خون میں شوگر کی مقدار کو بڑھانے کا بھی باعث بن سکتا ہے۔

گاجر کے رس میں موجود اجزا جلد کے لیے بہت مفید ہوتے ہیں۔ اس میں موجود وٹامن سی اینٹی آکسیڈنٹ کے طور پر جلدی کی حفاظت کا کام کرتی ہے۔ گاجر کا رس دل کی بیماریوں کے خطرے سے بچاتا ہے، اس میں موجود پوٹاشیم اور اینٹی آکسیڈنٹ بلڈ پریشر کو کم کرتا ہے اور دل کے بیماریوں کے خطرات کو بھی کم کرتا ہے۔ گاجر کا جوس ایک کم کیلوری والا مشروب ہے جو کہ وزن کم کرنے والوں کے لیے بہترین ہے، یہ جسم کی جمی ہوئی چکنائی کو پگھلانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں

طبی دنیا کا معتبر نام رحیمی شفاخانہ بنگلور،بالمشافہ ملاقات کریں یا آن لائن رابطہ کریں فون نمبر: 9343712908

متعلقہ خبریں

Back to top button