صحت اور سائنس کی دنیا

گلے کی بیماریاں اور احتیاط✍️ڈاکٹر امۃ المعیز فرزانہ افضل بنگلور

گلے کی سوزش کے اسباب

گلے کی ساخت اور بیماریوں کا تعارف

زبان کا آخری حصہ گلا اور حلق کہلاتا ہے۔ یہ انسانی جسم کا حساس ترین حصہ ہے جو سانس اور خوراک دونوں کے لیے راستہ فراہم کرتا ہے۔ روز مرہ زندگی میں گلے کی سوزش ایک عام شکایت ہے جو عموماً جراثیم یا وائرس کے سبب پیدا ہوتی ہے۔ اگرچہ ہمارے جسم کا مدافعتی نظام ان جراثیم سے مقابلہ کرتا ہے، لیکن کمزوری، ناقص غذا یا بدپرہیزی کے باعث یہ جراثیم حملہ آور ہو کر گلے میں سوزش پیدا کر دیتے ہیں۔


گلے کی سوزش کے اسباب

گلے میں سوزش کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں:

  • تیز مرچ مصالحہ، کھٹی اشیاء اور گرم کھانا: یہ گلے کی جھلیوں کو نقصان پہنچاتے ہیں۔

  • سودے والے مشروبات: ان میں موجود تیزاب گلے میں خراش پیدا کرتا ہے۔

  • پان، سگریٹ اور نسوار: گلے کے خلیوں کو نقصان پہنچاتے ہیں اور دیرپا سوزش کا باعث بنتے ہیں۔

  • سردی اور نمی والا موسم: اس دوران قوتِ مدافعت کم ہو جانے سے گلے کے امراض عام ہو جاتے ہیں۔

  • پیشہ ورانہ دباؤ: اساتذہ، گلوکار، مقرر اور سیاست دان گلے کا زیادہ استعمال کرتے ہیں، اس لیے ان میں سوزش کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔


گلے کی عام بیماریاں

کچھ مشہور بیماریاں جو گلے کو متاثر کرتی ہیں:

  1. خناق (Diphtheria): گلے میں پیپ بننے اور پھوڑے کا سبب بنتی ہے۔

  2. تپ دق (Tuberculosis): سانس کے ذریعے پھیلنے والی بیماری جو حلق تک اثر ڈال سکتی ہے۔

  3. کالی کھانسی (Whooping Cough) اور خسرہ (Measles): بچوں میں عام وائرس زدہ امراض جو گلے میں سوزش پیدا کرتے ہیں۔

  4. تپ محرقہ (Typhoid): اس میں گلے کی جھلیاں متاثر ہوتی ہیں اور کھانسی کے ساتھ بخار بھی ہوتا ہے۔


بچوں میں گلے کی بیماریاں

چھوٹے بچے اکثر فیڈر یا چوسنی استعمال کرتے ہیں، جس سے جراثیم آسانی سے حلق میں پہنچ جاتے ہیں۔ ایسے بچے بار بار گلے کی خرابی کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اس لیے بچوں کے برتن صاف رکھنا، فیڈر کی جراثیم کش صفائی اور چوسنی کا کم استعمال مفید ہے۔


گلے کے لیے احتیاطی تدابیر

  • کھانے کو نہ زیادہ گرم کھائیں نہ بہت ٹھنڈا۔

  • مرچ مصالحہ اور کھٹی اشیاء سے پرہیز کریں۔

  • سگریٹ نوشی، نسوار اور سوڈا سے مکمل اجتناب کریں۔

  • سردی کے موسم میں گردن اور گلے کو ڈھانپ کر رکھیں۔

  • پانی ہمیشہ نارمل درجہ حرارت پر پئیں۔

  • زیادہ بولنے سے پرہیز کریں، خاص طور پر اگر گلا پہلے ہی متاثر ہو۔


گلے کی سوزش کے گھریلو علاج

  1. نمکین پانی کے غرارے: دن میں دو سے تین بار نیم گرم پانی میں نمک ملا کر غرارے کریں۔

  2. ڈسپرین کے غرارے: ڈاکٹر کے مشورے سے استعمال کیے جا سکتے ہیں۔

  3. چینی کا چمچ: پنجابی ماؤں کا آزمودہ نسخہ — ایک چمچ چینی کھانے سے کھانسی اور سوزش میں فوراً آرام ملتا ہے۔

  4. شہد اور لیموں: ایک چمچ شہد میں چند قطرے لیموں ملا کر کھانے سے گلے کی خراش کم ہو جاتی ہے۔

  5. ادرک اور تلسی کی چائے: گلے کو نرم رکھتی ہے اور جراثیم کش اثر رکھتی ہے۔

گلے کی بیماریاں عام ضرور ہیں مگر ان سے بچاؤ ممکن ہے۔ مناسب غذا، حفظانِ صحت کے اصولوں پر عمل اور گھریلو علاج سے گلے کی سوزش سے نجات حاصل کی جا سکتی ہے۔ اگر سوزش یا درد ایک ہفتے سے زیادہ برقرار رہے تو فوراً ڈاکٹر سے رجوع کریں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button