اسرائیل کے ساتھ تعلقات تمام رکاوٹوں کے باوجود برقرار رہیں گے: یو اے ای کا اعلان
غزہ سے فلسطینیوں کی بے دخلی اور دوبارہ اسرائیلی قبضہ قبول نہیں کرسکتے: سعودی عرب
شارجہ :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) غزہ میں اسرائیلی جنگ کے تین ماہ مکمل ہونے پر متحدہ عرب امارات نے اعلان کیا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات کا فیصلہ سٹریٹیجک نوعیت کے فیصلے کی بنیاد پر قائم کیے تھے۔ اس لیے انہیں غزہ میں جاری جنگ کے باوجود اور ہر صورت برقرار رکھا جائے گا۔یہ اعلان صدر امارات کے سفارتی امور کے لیے مشیر انور قرقاش نے دبئی میں ایک کانفرنس کے دوران کہی ہے۔انور قرقاش نے کہا ‘ اسرائیل کے ساتھ تعلقات کا فیصلہ سٹریٹجک بنیادوں پر لیا گیا تھا اور سٹریٹجک نوعیت کے فیصلے جلدی تبدیل نہیں کیے جاتے بلکہ یہ طویل مدتی فیصلے ہوتے ہیں۔اس لیے فلسطینی عسکریت پسند گروپ حماس کے ساتھ اسرائیلی جنگ کا ان تعلقات پر کوئی اثر نہیں ہو سکتا۔
مشیر برائے سفارتی امور کا مزید کہنا تھا ‘ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ سٹریٹجک بنیادوں پر کیے گئے اس فیصلے کی راہ میں کئی رکاوٹیں آئیں گی، جیسا کہ ہم اس وقت بھی ایک بڑی رکاوٹ کا سامنا کر رہے ہیں تاہم اس رکاوٹ کے ساتھ ہمیں نمٹنا ہو گا۔’واضح رہے بعض عرب ملکوں نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کر رکھے ہیں۔ یہ تعلقات غزہ میں جنگ کے باوجود جاری رہے ہیں۔ ان ملکوں میں سے امارات اور بحرین نے ابراہم معاہدے کے تحت اسرائیل کے ساتھ 2020 میں تعلقات قائم کیے تھے۔اسرائیل نے غزہ میں 22000 سے زائد فلسطینیوں کو ہلاک کیا ہے۔ جبکہ 20 لاکھ سے زیادہ فلسطینی اسرائیل کی بمباری کی وجہ سے بے گھر ہو چکے ہیں
غزہ سے فلسطینیوں کی بے دخلی اور دوبارہ اسرائیلی قبضہ قبول نہیں کرسکتے: سعودی عرب
الریاض :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) سعودی عرب نے جمعرات کے روز اسرائیلی وزیروں کے اس بیان کو مسترد کر دیا ہے ، جس میں ان وزیروں نے غزہ سے فلسطینیوں کی بے دخلی اور غزہ میں دوبارہ یہودی آباد کاری کے لیے کہا تھا۔سعودی عرب کی وزارت خارجہ نے اس بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا ‘ اسرائیل کی طرف سے اس طرح کا کوئی بھی اقدام بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہو گا۔ اس لیے مملکت قابض اسرائیلی حکومت کے وزیروں کے ان انتہا پسندانہ بیانات کو دوٹوک انداز میں مسترد کرتی ہے اور ان کی مذمت کرتی ہے۔جس وزیر نے یہ کہا ہے کہ اسرائیل غزہ کی پٹی پر دوبارہ قبضہ کرکے یہودی بستیاں بنائے گا اور فلسطینیوں کو بے دخل کرے گا قابل مذمت ہے۔
مملکت کی طرف سے زور دے کر کہا گیا ہے’ اسرائیل کو اس کی مسلسل عالمی قوانین کی خلاف ورزیوں پر بین الاقوامی قوانین کے تحت کٹہرے میں لانے کی ضرورت ہے۔ اس کے لیے بین الاقوامی برادری کو ٹھوس کوششیں کرنا ہوں گی۔‘واضح رہے اسی ہفتے کے شروع میں اسرائیلی وزیروں بذلیل سموٹریچ اور ایتمار بین گویر نے اپنے بیانات میں کہا تھا ‘ فلسطینیوں کو غزہ سے باہر نکالا جائے۔
سموٹریچ کے مطابق ‘اگر غزہ میں یہودی آباد کیے جائیں گے ( مغربی کنارے کی طرح ) تو یہ غزہ کو کنٹرول کرنے کے لیے اسرائیلی فوج کی مدد کے لیے مفید ہو گا۔ اس لیے ضروری ہے کہ فلسطینیوں کی غزہ چھوڑنے کے لیے حوصلہ افزائی کی جائے۔سموٹریچ نے مزید کہا ‘ اگر ہم نے ‘سٹریٹیجیکلی’ درست اقدامات کیے تو دو ملینز کی تعداد میں موجود فلسطینی صرف ایک دو لاکھ غزہ میں رہ سکیں گے۔ اس طرح جنگ کے بعد کا منظر اور زندگی مختلف ہو گی۔ دو ملین فلسطینیوں کے ساتھ نہیں۔بعد ازاں سموٹریچ کے اسی بیان کو سلامتی کے اسرائیلی وزیر بین گویر نے آگے بڑھایا۔ بین گویر نے کہا ہمیں غزہ سے فلسطینیوں کے انخلاء کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے۔دوسری جانب نیتن یاہو نے 24 لاکھ کی فلسطینی آبادی والے غزہ کے بارے میں ایسی کوئی بات نہیں کی ہے۔ امریکہ کی طرف سے بھی بین گویر کے اس بیان کو مسترد کیا گیا ہے۔امریکی ترجمان میتھیو ملر نے تو یہ بھی کہا ہے کہ ‘اسرائیلی وزیر کا بیان آگ بھڑکانے والا اور غیر ذمہ دارانہ ہے۔



