
تہاڑ جیل سے افضل گرو اور مقبول بھٹ کی قبریں ہٹانے کی درخواست دائر
PIL وشوا ویدک سناتن سنگھ اور جیتندرا سنگھ کی جانب سے دائر کی گئی
نئی دہلی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) دہلی ہائی کورٹ میں ایک PIL دائر کی گئی ہے جس میں درخواست کی گئی ہے کہ تہاڑ جیل میں موجود افضل گرو اور مقبول بھٹ کی قبروں کو جیل کے احاطے سے ہٹا کر خفیہ مقام پر منتقل کیا جائے تاکہ دہشت گردی کی تعریف اور جیل کے غلط استعمال سے بچا جا سکے۔
یہ PIL وشوا ویدک سناتن سنگھ اور جیتندرا سنگھ کی جانب سے دائر کی گئی ہے، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ یہ قبریں ریاستی کنٹرول والے جیل کے اندر تعمیر اور موجودگی کے لحاظ سے "غیر قانونی، آئینی خلاف اور عوامی مفاد کے منافی” ہیں۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ ان قبروں کی موجودگی نے تہاڑ جیل کو "ریڈیکل یاترا” کا مرکز بنا دیا ہے جہاں انتہا پسند عناصر جمع ہو کر سزا یافتہ دہشت گردوں کی تعظیم کرتے ہیں۔ اس سے نہ صرف قومی سلامتی اور عوامی امن متاثر ہوتا ہے بلکہ دہشت گردی کو بھی جائز ٹھہرانے کا خطرہ پیدا ہوتا ہے۔
درخواست میں مزید کہا گیا کہ یہ قبریں "دہلی پرزنس رولز، 2018” کی واضح دفعات کی خلاف ورزی ہیں، جو کہ حکم دیتی ہیں کہ سزائے موت پانے والے قیدیوں کے نعش کو ایسے طریقے سے دفن کیا جائے کہ دہشت گردی کی تعریف نہ ہو، جیل میں نظم و ضبط قائم رہے اور عوامی امن متاثر نہ ہو۔
درخواست گزاروں نے عدالت سے فوری مداخلت کی درخواست کی ہے تاکہ تہاڑ جیل سے یہ قبریں ہٹائی جائیں اور ان کی منتقلی ایک محفوظ اور خفیہ مقام پر کی جائے، جیسا کہ اجمل قصاب اور یعقوب میمن جیسے دہشت گردوں کے معاملات میں کیا گیا تھا۔
PIL میں کہا گیا ہے کہ مقبول بھٹ 1984 میں پھانسی دی گئی تھی جبکہ افضل گرو کو فروری 2013 میں پھانسی دی گئی۔ دونوں "انتہا پسند جہادی نظریات” کے تحت ایسے اقدامات میں ملوث تھے جن سے بھارت کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سلامتی کو شدید خطرہ لاحق ہوا۔



