سرورقسیاسی و مذہبی مضامین

ٹیپو سلطان شہیدؒ کی بے مثال شخصیت-حبیب الامت حضرت مولانا ڈاکٹر حکیم محمد ادریس حبان رحیمی

یہ فطری امر ہے کہ جس کے گھر میں چوری ہوتی ہے اسی کو سب سے زیادہ فکر ہوتی ہے

یہ فطری امر ہے کہ جس کے گھر میں چوری ہوتی ہے اسی کو سب سے زیادہ فکر ہوتی ہے ، اس ملک پر ایک طویل عرصہ تک مسلمانوں نے حکومت کی اور ہر طرح کی ترقی دے کر پوری دنیا کی توجہ اس کی طرف منعطف کردی اورہندوستان کو سونے کی چڑیا کہلانے کا مستحق قرار دیا ۔ لیکن بدقسمتی سے جب انگریز کا نا پاک سایہ اس جنت نشاں ہندوستان پر پڑا اور آہستہ آہستہ تجارت کے بہانے سے وہ اس ملک پر قدم جمانے لگا ، تو مسلمان مشتعل ہوئے اور بے شمار مسلمانوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ اس دھرتی کی حفاظت کیلئے پیش کردیا ۔ 1707ء میں اورنگ زیب عالمگیرؒ کی وفات کے بعد مغلیہ سلطنت کا زوال شروع ہوگیا ۔ دیکھتے ہی دیکھتے ایک وسیع و مستحکم سلطنت انتشار کا شکار ہوگئی، انگریزوں کی تجارت پہلے سیاست پھر حکومت میں تبدیل ہونے لگی،

سینکڑوں راجے ، رجواڑے نوابیں خود مختار بن بیٹھے، اسی دور کشاکش میں جنوب کے دوردراز علاقہ کولار میں 1722ء میں حیدر علی خاں پیدا ہوئے، گوکہ حیدر علی فوج میںایک معمولی سپاہی تھے مگر اپنی دانائی ، اولو العزمی او ربہادری کے باعث ترقی کرتے ہوئے 1761ء میں ریاست میسور کے تخت وتاج کے والی بن گئے، ان کی سلطنت 80ہزار مربع میل پرپھیلی ہوئی تھی، حیدر علی خاں کے بہادر سپوت کا نام فتح علی خاں ٹیپو تھا، ٹیپو 1752ء میں شہر گلستان بنگلور سے 32 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع قصبہ دیونہلی میں پیدا ہوئے، کہتے ہیں فتح علی خاں کی پیدائش حضرت ٹیپو مستانؒ ولی ارکاٹ کی دعاؤں کا ثمرہ تھی، اسی مناسبت و عقیدت کی وجہ سے ٹیپو ان کے نام کا جز بن گیا،1782ء میں نواب حیدر علی خان کے انتقال کے بعد فتح علی خاں ٹیپو تخت نشین ہوئے ۔

حیدر علی کا انتقال

جس وقت حیدر علی کا اخیر وقت تھا اس وقت ٹیپو سلطان ایک مہم پر تھا والد صاحب کے خط پر واپس آنے کے لئے پائیں گھاٹ تک پہونچا تھا وہیں اس کو اطلاع دی گئی والد کے اس حادثہ وفات کی خبر سن کر وہ بے اختیار رونے لگا اور کہنے لگا کہ اگر اللہ تعالیٰ مزید کچھ دن میرے والد کو بقید حیات رکھتا تو انگریزوں کو ملک سے باہر نکال کر ہی دم لیتے ۔ کاش اللہ تعالیٰ ان کو تب تک زندہ رکھتا ۔ ٹیپو سلطان ؒ نے ایک بڑے ہی ناگفتہ بہ حالت میں حکومت کی باگ ڈور سنبھالی تھی ۔ سلطنت خدادادپر آس پاس کے نواب نظریں لگائے ہوئے تھے ، او رٹیپوسلطان کے ایک دوسرے بھائی کو جوناتجربہ کار اور کم عقل تھا کچھ لوگ اس کو حکمراں بنا کر اپنی من مانی حکومت کرنا چاہتے تھے، مگر ٹیپو سلطان نے حکومت کی باگ ڈور اپنے ہاتھوں میں لے کر ہندوستان کی تاریخ میں ایک عظیم انقلاب برپا کیا ۔

ٹیپوسلطانؒ کی شہادت

5؍مئی 1799ء میں سری رنگار پٹن میںانگریزوں سے دست بدست جنگ کرتا ہوا ، ملک کا عظیم سپوت شہید ہوگیا،اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ انگریزوں کی ٹیپو سے نفرت دیکھئے کہ جب ٹیپو کی شہادت کی خبرملی تو ان کی نعش مبارک کی شناخت کرکے ان کی داڑھی تراش لی گئی،انگریزوں نے نعرہ لگایا کہ ہندوستان کے وقار کی علامت میسور کے شیر کی مونچھیں اب سلطنت برطانیہ کے قبضہ میں ہیں۔ہندوستانی عظمت کی علامت ٹیپوکی مونچھیں تراشنے پر تاریخ کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے تھے،207سال بعد اب ایک بار پھر تاریخ کی آنکھوں میں بے بسی کے آنسو ہیں، ملک وملت کے عظیم سپوت ٹیپو کومطعون قرار دے کر ہندوستان کی گنگا جمنی تہذیب کو داؤ پر لگایا جارہا ہے۔

ٹیپو سلطانؒ کی انسان نوازی کو کٹہرے میں کھڑا کرنے والے فسطائی عناصر جہاں ٹیپو کو ہندو دشمن ، کٹر دشمن او رہندوستان دشمن قرار دینے پر تلے ہوئے ہیں وہیں حالانکہ ٹیپو سلطان ایک سیکولر اور فرشتہ صفت حکمران تھے ۔ ان کی شخصیت عظیم المرتبت تھی، ان کے ارادے بلند، صلاحیتیں حیرت انگیز تھیں،ان 17سالہ مختصر دور حکومت میںمیسور نے جتنی ترقی کی اس پر ہندوستان کوبجا طور پر فخر ہوسکتا ہے ، ٹیپوسلطان اگر زندہ رہتے تو ہندوستان پر انگریزوں کے قدم نہیں جم سکتے تھے اور ہندوستان جو کل تک سونے کی چڑیا کہلاتا تھا وہ بہت پہلے سپر پاور بن جاتا اور یورپ و امریکہ سے آگے ہوتا ،لیکن غدار وطن میر صادق اور میر حسین اور غلام لنگڑا اور پورنیہ نے چند کوڑیوں کے لئے بے وفائی کی اور انگریزوں کی کاسہ لیسی کی اور ملک وقوم کو بیچ دیا اوررہتی دنیاتک اپنے لئے ذلت ورسوائی کی تاریخ رقم کردی ہے،لیکن اسی کے ساتھ ساتھ سلطان کی جوانمردی شجاعت و بہادری وطن دوستی بلند ہمتی اوالعزمی کو بھی تاریخ ہمیشہ یاد رکھے گی ،ایسا بہادر کہ جس نے باطل طاقتوں سے لڑتے لڑتے میدان میں اپنی جان قربان کردی ، مگر فرقہ پرست طاقتوں کو اس کی یہ خوبیاں نہیں بھاتی ہیں جس کی وجہ سے تاریخی شہادت کو جھٹلانے پر تلے ہوئے ہیں۔

ٹیپوسلطانؒ کی وسیع القلبی

ٹیپوسلطانؒ کی وسیع القلبی اورجمہوری فکر ونظر کا نتیجہ تھا کہ انہوں نے مجلس وطنی کے نام سے پارلیمنٹ بھی قائم کی تھی،سلطان ٹیپو اس پارلیمنٹ کی تشکیل کے ساتھ عوام کو بھی حکومت میں شامل کرنا چاہتے تھے، ٹیپوسلطانؒ کی خواہش تھی کہ میسور کے عوام حکومت کے معاملات میں اس حد تک دخیل ہوجائیں کہ وہ محض ایک آئینی حکمراں بن کررہیں اور ریاست کی سرپرستی کریں، افسوس اہل میسور اور سلطنت کے رفقاء اس طرز حکومت ، بلند خیالی وعالی ظرفی اور جمہوریت نوازی کا ساتھ نہیں دے سکے، سلطانؒ کا تجربہ ناکام ہوگیا اس ناکامی کے پیچھے بھی بدنام زمانہ غدار میرصادق کاہاتھ تھا، حیرت کی بات یہ ہے کہ آج سے 214سال قبل سلطان ٹیپو ؒ نے ماحولیاتی کثافت کو دور کرنے کے لئے پیڑ لگائے او رپیڑوں کی حفاظت پر خصوصی دھیان دیا، بنگلور اورمیسور کے بے شمار پارک اس با ت کے گواہ ہیں، حیدر علی کے ذریعہ تعمیر شدہ لال باغ میں ٹیپوسلطان نے چین ودیگر ملکوں سے ایسے ایسے درخت و پودے منگوائے کہ جن کی ہوائیں مہلک بیماریوں کیلئے اکسیر کا کام کرتی ہیں، افسوس ان درختوں میں سے بہت سے درخت بلا وجہ کاٹ دیئے گئے ، اور جن پر ٹیپو کے نام کی تختیاں تھیں ہٹا دی گئیں ، یہ تعصب نہیں تو کیا ہے؟

ٹیپوسلطان شہیدؒ کی رعایا بڑی ہی خوشحال تھی ، جس کی تعریف و توصیف دشمن بھی کیا کرتے تھے ،ایک انگریز مؤرخ نے سلطنت خداداد کی خوشحالی کا نقشہ یوں کھینچا ہے۔’’ اگر آپ ایک نئے ملک میں داخل ہوں اور وہاں دیکھیں کہ شہر آباد ہیں زراعت عروج پر ہے ، صنعت وحرفت ترقی کررہی ہے ، تجارت کو فروغ مل رہا ہے اور ہرکام سے رعایا کے خوشحال ہونے کا اندازہ ہورہا ہے تو سمجھ لیں کہ حکومت عوام کی منشاء کے مطابق ہے بالکل یہی ٹیپو کی حکومت کا بھی نقشہ تھا اور میں نے اس کو اسی طرح پایا۔‘‘1793ء میں تین کروڑ انگریزوں کو بطور تاوان جنگ ادا کرنے کے باوجود بھی بہت جلد اپنی حکمت عملی سے اقتصادی بحران پر قابو پالیا۔بنگلور میں سلطانؒ کی روایت کا جادو آج بھی برقرار ہے، بنگلور کے لال باغ ودیگر پارکوں کے اطراف میں جڑی بوٹیوں کی آمیزش والے مشروب فروخت کئے جاتے ہیں ،سلطان نے افزائش حیوانات کے لئے امرت محل نام سے ایک شعبہ قائم کیا تھا۔

اس شعبہ کے ذمہ گائے بیل ،خچر ، ہاتھی ،گھوڑے کی عمدہ نسل کو فروغ دینے کا کام تھا ۔ مگر یہاں بھی سلطان کی جدید فکر کی راہوں میںرکاوٹیں کھڑی کی گئیں، سلطانؒ سیکڑوں سال آگے دیکھ رہے تھے ، سلطان کے خاص رفقاء اور مذہبی رہنماؤں کو اس بات پر سخت اعتراض تھا کہ اعلیٰ نسل کے عربی گھوڑے اور گدھے جیسی ادنیٰ نسل کے اختلاط سے نئی نسل کیوں پیدا کی جائے، یہ مشیت ایزدی میں مداخلت ہے، ٹیپوسلطان ؒ واحد حکمراں تھے جو اپنی رعایا کو اعلیٰ تعلیم سے منورد یکھنا چاہتے تھے، وہ اپنے بیٹوں کو جدید تعلیم کے حصول کیلئے یورپ بھیجنا چاہتے تھے ،سلطان کو مغربی علوم و فنون و ہنر کا بخوبی اندازہ تھا، اس سلسلہ میں اس نے فرانس سے بھی رابطہ قائم کیا،چنانچہ شہزادوں کی پیرس میں تعلیم کا سالانہ خرچ 40 ہزار قرار پایا ۔

مگر افسوس یہ شہزادے اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے بجائے انگریزوں کے یرغمال بن گئے ،انگریز نے ان کو بنارس لے جاکر شہید کردیا آج بھی قدیم قبرستان میں ان کے مزارات موجودہیں۔ سلطان ٹیپوؒ کی وطن سے محبت دیکھئے کہ انہوں نے میسور کے عوام کو اپنے ملک کی چیزوں کو استعمال کرنے کی تلقین کی ، اور اس کے لئے بہت سارے کارخانے بھی قائم کئے تاکہ بے روز گاری دور ہوسکے ، سری رنگا پٹنم میں لوہے کے مراکز اسلحہ کارخانے کے علاوہ کاغذ کا ایک بڑا کارخانہ تھا ، میسور میں بارود، شیشہ اور آلات موسیقی تیار ہوتے تھے ، شہر کے قریب ہی سنگ تراشی کا بھی اعلیٰ پیمانہ پر نظم تھا چن پٹن میں شکر کے کارخانے کے علاوہ شیشے کے آلات بھی تیار ہوتے تھے، بنگلور میں بنکروں کی ایک بڑی ٹیم مختلف جگہوں پر صبح وشام مختلف قسم کے کپڑے تیار کرتی تھی۔

ٹیپو کو اپنے وطن سے محبت تھی

الغرض ٹیپوسلطان کو اپنے ملک کی مٹی سے بے حد محبت تھی اسی طرح اپنی رعایا کو خوشحال صحت مند دیکھنا چاہتا تھا اسے باغات لگانے کا بڑا شوق تھا ، چنانچہ فرانس سے ماہر باغبانوں کو میسور بلایا ، دارالسلطنت اور بنگلور میں لال باغ بنوایا تھا بنگلور کا لال باغ تو آج بھی ہے لیکن اسی کے ساتھ ساتھ کھجور کے علاوہ ان تمام پھلوں کی کاشت کی ممانعت کردی تھی جس سے شرا ب تیار ہوتی ہے۔ حالانکہ اس سے اس کو سالانہ اس زمانہ کے حساب سے ایک کروڑ روپئے کی آمدنی سے ہاتھ دھونا پڑتاتھا ، لیکن اپنی رعایا کو شراب کے مضرات سے بچانے کیلئے اس نے اس خسارے کو بھی برداشت کیا۔آج کی دنیا میں دفاعی اعتبار سے میزائل کو بڑی اہمیت وفوقیت حاصل ہے ۔ مغرب کو میزائل سازی کی صنعت پر اجارہ داری حاصل ہے مگر اصل میں اس ٹکنالوجی کا موجد بھی ٹیپوسلطان ہی تھے، انہوں نے انگریزوں کے ساتھ جنگوں میں کثرت سے میزائل کا استعمال کیا تھا۔

سابق صدر جمہوریہ ہند اور ملک کے عظیم سائنسداں ڈاکٹراے پی جے عبدالکلام نے بار ہا یہ بات کہی کہ ہندوستان کے میزائلوں کا باوا آدم ٹیپوسلطان شہید ہیں، جس کے تاریخی سائنٹفک شواہد ہیں جن سے انحراف نہیںکیا جاسکتا ، صدر محترم نے ماہرین دفاع کی ایک خصوصی ٹیم بنگلور وسری رنگا پٹن بھیجی تھی،اس ٹیم نے بھی تحقیق کے ذریعہ ٹیپوسلطان کے دور میں میزائل بنا نے کی تحقیق کی ہے اور امریکہ سے بھی اس کی توثیق ہوچکی ہے، معلوم ہوا کہ دنیا میں میزائل بنا نے والا پہلاملک ہندوستان ہے ۔

ٹیپو میزائل کے باپ ہیں

سابق صدرجمہوریہ نے اپنی سوانح حیاتWings of fireمیں ٹیپوسلطان کی میزائل سازی کا تفصیل سے ذکر کیا ہے، وہ اپنی بایوگرافی میں رقم طراز ہیں کہ ایک بار میں ناسا کے ذریعہ منعقد راکٹ سازی کا جائزہ لینے امریکہ پہنچا تو وہاں جس چیز نے مجھے متوجہ کیا وہ ایک قدیم پینٹنگ میں جنگی مناظر تھے ، پس منظر میں کچھ راکٹ بھی چل رہے تھے ، لیکن جس چیز نے مجھے حیرت زدہ کردیا وہ اس پیٹنگ میں دکھائے جانے والے فوجی تھے جو گورے نہیں کالی چمڑی والے تھے غور سے دیکھا تو پتہ چلا کہ یہ ٹیپوسلطانؒ کی فوج تھی جو 17ویں صدی کے اختتام میں ایسٹ انڈیا کمپنی سے جنگ لڑرہی تھی، ڈاکٹر عبدالکلام رقم طراز ہیں کہ ’’جب ٹیپو سلطان شہیدہوئے تو انگریزی افواج نے 700تیار شدہ اور 900 غیر تیار شدہ میزائلوں کو اپنے قبضے میں لے لیا ، پھر یہ میزائل انگلینڈ لے جائے گئے او رانہیں Re-Engineeringکے عمل سے گزارا گیا ۔

انگریزی افواج کے میجر ہلٹن کا کہناہے کہ ٹیپو کے دور میں سری رنگا پٹن میں بہترین توپیںڈھالی جاتی تھیں جو ایسٹ انڈیا کمپنی سے زیادہ مار کرنے والی اور باصلاحیت تھیں۔میسور میں جو توپیں تیار ہوتی تھیں ان کے دہانے انگریزی توپوں سے بڑے ہوا کرتے تھے اس لئے میسوری افواج گولہ باری میں ہمیشہ اپنے دشمنوں پر فائق رہتی تھیں، ٹیپوسلطانؒ کے توپ خانہ کی دور دور تک شہرت رہتی تھی، توپ خانوں کو کھینچنے کیلئے چالیس ہزار بیل رہتے تھے، سقوط سری رنگا پٹنم کے بعد انگریزوں کو جومال غنیمت ہاتھ لگا اس میں ساٹھ ہزار بندوقیں، بارہ ہزار گولے، پانچ لاکھ گولیاں اور920دور مار توپوں کے علاوہ بے شمار بارود اور دوسرے اسلحے تھے۔

سلطان کی شہادت کے بعد فرانسیسی فوجی جو اب تک سلطان شہید کی طرف سے لڑرہے تھے ہتھیار ڈال دیئے اور دارالسلطنت پر انگریزوں کامکمل قبضہ ہوگیا ، جنرل ہارس سلطان کی لاش کے قریب پہنچ کر فرط مسرت سے چیخ اٹھا کہ آج سے ہندوستان ہمارا ہے سلطان کیا شہید ہوا ملک کی آزادی کاایک سنہرا اور آخری باب ختم ہوگیا ۔ تاریخ نے پھر ایک بار کروٹ لی ہندوستان کی سیاسی موت ہوگئی ملک میں آزادی کا پرچم سرنگوں ہوگیا ، وطن کا تابناک ماضی ور روشن حال اور پرامید مستقبل ان شہدائے حریت کی لاشوں میں دب گیا ۔ اللہ تعالیٰ اس مرد مجاہد کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ آمین!

متعلقہ خبریں

Back to top button