دلچسپ خبریںسرورق

Titanic کی تفصیلی 3D تصاویر سے کئی رازوں سے پردہ اٹھا

برفانی تودے سے ٹکر: جہاز ڈوبنے سے بچ سکتا تھا؟

لندن، ۱۰؍ اپریل (اردو دنیا نیوز/ایجنسیز):دنیا کے سب سے مشہور بحری حادثے، ٹائی ٹینک، سے جڑے کئی راز اب سامنے آرہے ہیں — وہ بھی جدید ترین 3 ڈی ڈیجیٹل اسکیننگ کی مدد سے۔نیشنل جیوگرافک کی نئی ڈاکیومینٹری Titanic: The Digital Resurrection میں وہ مناظر شامل ہیں جو پہلے کبھی نہیں دیکھے گئے۔

  7 لاکھ 15 ہزار ڈیجیٹل تصاویر:

Magellan نامی ڈیپ سی میپنگ کمپنی نے 2022 میں ایک تین ہفتوں پر محیط مہم کے دوران بحرِ اوقیانوس کی 3800 میٹر گہرائی میں موجود ٹائی ٹینک کے ملبے کی مکمل 3D اسکیننگ کی۔ اس مہم میں 715,000 ڈیجیٹل تصاویر لی گئیں، جس کے نتیجے میں پورے جہاز کی ایک شفاف اور تفصیلی تھری ڈی ماڈلنگ تیار کی گئی۔

  کیا جہاز بچ سکتا تھا؟

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر جہاز کی سمت ذرا سی مختلف ہوتی اور وہ برفانی تودے سے پہلو کے بجائے سیدھے ٹکراتا، تو غالب امکان تھا کہ وہ ڈوبنے سے بچ جاتا۔ یہ انکشاف ان نازک زاویوں کی نشاندہی کرتا ہے جن پر بحری جہاز کی بقا یا تباہی منحصر ہوتی ہے۔

  بجلی کیسے چلتی رہی؟

ایک اور معمہ جسے اس تحقیق میں حل کیا گیا، وہ یہ تھا کہ جہاز کی لائٹس برفانی ٹکر کے بعد بھی گھنٹوں تک کیسے روشن رہیں؟

ماہرین کے مطابق جہاز کے 35 انجینئرز نے بوائلر روم میں پانی بھرنے کے باوجود 2 گھنٹوں تک مسلسل کام کیا اور بجلی فراہم کرتے رہے، جس سے سیکڑوں مسافروں کی جان بچائی جا سکی۔

 ملبے کی دریافت اور اب تک کا سفر:

یاد رہے کہ ٹائی ٹینک کا ملبہ 1985 میں دریافت کیا گیا تھا، یعنی حادثے کے 73 سال بعد یہ جہاز دو حصوں میں تقسیم ہوکر سمندر کی تہہ میں پڑا ہے اور صدی سے زائد عرصے میں اس پر سمندری جرثوموں نے کافی اثر ڈالا ہے۔
مگر جدید ڈیجیٹل اسکیننگ سے اب پورے ملبے کو نہ صرف محفوظ کیا جا رہا ہے بلکہ اس سے تاریخ کے کئی سربستہ راز بھی سامنے آرہے ہیں۔

  ڈاکیومینٹری کب اور کہاں؟

انتھونی جیفن کی تیار کردہ ڈاکیومینٹری "Titanic: The Digital Resurrection” جلد نیشنل جیوگرافک پر نشر کی جائے گی۔ اس میں ٹائی ٹینک کے ماہرین — پارکس اسٹیفنسن، جینیفر ہوپر، اور کرس ہیران — کو ڈیجیٹل ملبے میں گھومتے اور تجزیہ کرتے دکھایا گیا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button