تلنگانہ کی خبریں

ٹمریز کی مخلوعہ جائیدادوں پر تقررات یا تجارت؟ سوالوں کے گھیرے میں آؤٹ سورسنگ

نوکری کے بدلے رقم؟ ٹمریز میں تقررات پر سنگین الزامات

اعلامیہ کے بغیر تقررات، ٹمریز میں اقرباء پروری اور بے ضابطگیوں کی شکایات

حیدرآباد:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)اعلامیہ کی اجرائی کے بغیر تقررات کی فراہمی دراصل عہدیداروں کی چاندی سے زیادہ اہل امیدواروں کے ساتھ ناانصافی کے مترادف ہے۔ اسی لئے کسی بھی ادارہ یا محکمہ کو تقررات کے اصولوں سے انحراف کرنے سے گریز کرتے ہوئے اقرباء پروری کے الزامات سے خود کو محفوظ رکھنے کے علاوہ اہل امیدواروں کو موقع فراہم کرنے کے اقدامات کرنے چاہئے۔

تلنگانہ کے محکمہ اقلیتی بہبود کے تحت خدمات انجام دینے والے اداروں میں کئے جانے والے تقررات، بالخصوص ٹمریز میں مخلوعہ جائیدادوں کی نشاندہی کے بعد تقررات کے سلسلہ میں کئے جانے والے اقدامات سے متعلق مسلسل شکایات موصول ہونے لگی ہیں۔

کہا جا رہا ہے کہ ’’آؤٹ سورسنگ‘‘ کے نام پر منظورہ جائیدادوں پر کئے جانے والے تقررات میں بھاری رقومات وصول کرتے ہوئے تقررات فراہم کئے جا رہے ہیں، اور جن افراد کو تقرر دیا جا رہا ہے انہیں یہ یقین دہانی کروائی جا رہی ہے کہ ان کی ملازمت کو مستقل کرنے کے اقدامات کئے جائیں گے۔

آؤٹ سورسنگ جائیدادوں پر بھی تقررات کے سلسلہ میں ضلع کلکٹر کی نگرانی میں اعلامیہ کی اجرائی کے ذریعہ اہل امیدواروں کو تقررات فراہم کئے جانے چاہئے، لیکن محکمہ اقلیتی بہبود کے تحت خدمات انجام دینے والے اس ادارہ میں نااہل اور آؤٹ سورسنگ ملازمین ہی کی نگرانی میں تقررات کا سلسلہ جاری ہے۔

ٹمریز کے اعلیٰ عہدیداروں اور ذمہ داروں کے علم میں شاید یہ بات نہیں ہے کہ ریاست کے مختلف اضلاع میں موجود ٹمریز کے اسکولوں اور جونیئر کالجس میں مخلوعہ جائیدادوں پر تقررات کے سلسلہ میں کئے جانے والے اقدامات میں مقامی اضلاع کے اہل امیدواروں کو نظرانداز کرتے ہوئے دور دراز علاقوں سے تعلق رکھنے والے افراد کو ترجیح دی جا رہی ہے۔

یہ ترجیح نہ تو تعلیمی قابلیت کی بنیاد پر دی جا رہی ہے اور نہ ہی تجربہ کی بنیاد پر، بلکہ عہدیداروں کو حاصل ہونے والی مبینہ آمدنی کی بنیاد پر ملازمتیں فراہم کی جا رہی ہیں۔

محکمہ اقلیتی بہبود کے تحت خدمات انجام دینے والے تمام ادارہ جات میں ملازمت کے حصول کے لئے آؤٹ سورسنگ کو ابتدائی سیڑھی بنا کر کنٹراکٹ اور بعد ازاں مستقل تقررات کی جو روایات قائم ہو چکی ہیں، انہیں ختم کرنے کی ضرورت ہے تاکہ تقررات کا عمل شفاف بنایا جا سکے۔

حیدرآباد اور سکندرآباد کے اطراف کے اضلاع سے تعلق رکھنے والے ملازمین کو دور دراز علاقوں میں خدمات کے لئے روانہ کرنا، اور مقامی اہل امیدواروں کے بجائے دوسرے اضلاع کے افراد کو بغیر اعلامیہ کے تقررات دینا کئی شبہات کو جنم دے رہا ہے۔

اس سلسلہ میں سیکریٹری محکمہ اقلیتی بہبود و سیکریٹری ٹمریز جناب ایم بی شفیع اللہ آئی ایف ایس سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ جس طرح تلنگانہ اردو اکیڈیمی میں آؤٹ سورسنگ اور کنٹراکٹ ملازمین کی خدمات کو باقاعدہ بنانے سے روکا گیا تھا، اسی طرح ٹمریز میں تقررات کے نام پر جاری مبینہ دھاندلیوں کو بھی فوری طور پر روکا جائے۔

واضح رہے کہ اردو اکیڈیمی میں تقررات کو باقاعدہ بنانے کے معاملہ میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کے تعلق سے محکمہ فینانس نے محکمہ اقلیتی بہبود کو میمو جاری کرتے ہوئے دریافت کیا ہے کہ ان کے خلاف کیا کارروائی کی گئی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button