نفرت انگیز تقاریر سے چھٹکارا پانے کے لیے مذہب کو سیاست سے الگ کرنا ہوگا-سپریم کورٹ
اگر آپ سپر پاور بننا چاہتے ہیں تو سب سے پہلے آپ کو قانون کی حکمرانی کی ضرورت ہے
نئی دہلی، 29مارچ :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) سپریم کورٹ نے نفرت انگیز تقریر کے واقعات پر ایک بار پھر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ سپریم کورٹ نے بدھ کو کہاکہ مذہب کو سیاست کے ساتھ ملانا نفرت انگیز تقریر کا ذریعہ ہے۔سیاستدان اقتدارکے حصول کے لیے مذہب کے استعمال کو تشویشناک بنا دیتے ہیں۔اس عدم برداشت، فکری کمی سے ہم دنیا میں نمبر ون نہیں بن سکتے۔ اگر آپ سپر پاور بننا چاہتے ہیں تو سب سے پہلے آپ کو قانون کی حکمرانی کی ضرورت ہے۔سپریم کورٹ نے کہا کہ پاکستان جاؤ جیسے بیانات سے ملکی وقار مجروح ہوتا ہے ۔عدالت نے مشاہدہ کیا کہ:’ اب ہم کہاں پہنچ گئے ہیں؟ ایک زمانے میں ہمارے یہاں نہرو، واجپائی جیسے مقررین ہوا کرتے تھے، لیکن اب بے کار مقررین کو سننے کے لیے لوگوں کا ہجوم امنڈ آتا ہے۔’
سپریم کورٹ نے کہا کہ نفرت انگیز تقاریر سے چھٹکارا پانے کے لیے مذہب کو سیاست سے الگ کرنا ہوگا۔ باہمی بھائی چارے میں دراڑیں آ گئی ہیں، جب تک سیاست کو مذہب سے الگ نہیں کیا جاتا، اس پر قابو نہیں پایا جا سکتا۔ عدالت عظمیٰ نے کہا کہ نفرت انگیز تقریر خالصتاً سیاست سے متأثرہ ہے۔ جسٹس کے ایم جوزف اور بی وی ناگارتنا کے بنچ نے کہا کہ حکومت ملک میں نفرت انگیز تقریر کے جرم کو کم کرنے کے لیے ایک طریقہ کار کیوں نہیں بنا سکتی؟ جسٹس ناگارتنا نے کہا کہ بھائی چارے کا خیال بہت زیادہ تھا،لیکن اب مجھے یہ کہتے ہوئے افسوس ہو رہا ہے کہ اس بھائی چارے میں دراڑیں آ رہی ہیں۔ جسٹس جوزف نے کہا کہ بڑا مسئلہ یہ ہے کہ سیاست دان مذہب کو استعمال کرتے ہیں۔ ملک میں مذہب اور سیاست ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ مذہب اور سیاست کو الگ کرنے کی ضرورت ہے۔



