آج ا تباعِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ضرورت✍️حبیب الامت حضرت مولانا ڈاکٹر حکیم محمد ادریس حبان رحیمی
اللہ تعالیٰ نے کائنات کومحض اپنے فضل وکرم سے حضرت محمدرسول اللہ کے طفیل میں پیدا فرمایا، یہ ایک ایسے عظیم الشان اورفخرکائنات کے عنوان پر جلسہ کا انعقاد ہے جن کی ثنا خوانی اور جن کی تعریف ساری دنیا بھی کرے توآپ کی تعریف صحیح معنوں میں نہیں ہوسکتی ۔
نبی کی سیرت سے ہرمسلمان وابستہ ہے
آقائے نامدارحضرت محمد رسول اللہ کی سیرت سے ہرمسلمان وابستہ ہے اور ہرمسلمان کوعشق ومحبت ہے ، بقول شاعر
وہ دل ہی اجڑجائے وہ قلب ہی مٹ جائے
جس میں رخِ احمدؐ کی تصویر نہیں ہوتی
مسلمان کے دل میں محمدرسول اللہ کی محبت ہے اوراسی محبت کا نتیجہ ہے کہ سال بھرساری دنیامیں ایسے پروگرام چلتے ہیں اورایسی مجالس منعقد ہوتی ہیں جس میں آپ کا تذکرہ اورذکرخیرہوتا ہے اورآپؐ کی سیرت بیان کی جاتی ہیں ، آپ کے احسانات جوآپ نے انسانیت پرفرمائے ہیں بیان کئے جاتے ہیں ، آپ حسن ِ کائنات ہیں، آپ ساری انسانیت پررحم کرنے والے ہیں ، اللہ تبارک وتعالیٰ نے آپ کورحمۃ للعالمین بناکر بھیجاہے ، حضورپاک نے زندگی کے ہرگوشہ کے لئے اپنی سیرت چھوڑی، میں نے عرض کیاتھاکہ آپ کی سیرت بچوں کے لئے بھی ہے اسی پرایک واقعہ میں آپ کی خدمت میں عرض کررہاہوں ۔
ایک عورت کاواقعہ
ایک عورت حضور کی خدمت میں حاضرہوتی ہے اورعرض کرتی ہے اے اللہ کے رسول ! میرا بچہ بیمار ہے آپ اس پردم کردیجئے اوردعا فرمائیے حضور اس بچہ کوگود میں اٹھالیتے ہیں ، وہ بچہ کتناخوش قسمت ہے کہ شیرخوار ہے ، ابھی ناسمجھ ہے لیکن آقائے دوجہاں کی گودمیں ہے ، آپ اس کواپنی گود میں لیتے ہیں، ابھی اس کے لئے دعا بھی نہیں فرماتے کہ بچے کا پیشاب نکل جاتاہے ، عورت گھبراجاتی ہے اور
عرض کرتی ہے یارسول اللہ: آپ کے کپڑے ناپاک ہوگئے ہیں ، بچے کوواپس دیدیجئے ، مجھے بہت تکلیف ہوئی ، حضورنے ارشاد فرمایا کہ نہیں نہیں اس کو پیشاب کرلینے دو، ایسا نہ ہوکہ اس کا پیشاب بند ہوجائے۔ توپتہ یہ چلاکہ حضور کی سیرت بچوں کے لئے بھی ہے کہ آپ eبچوں پر حددرجہ شفقت فرماتے تھے ۔
یہ مسجد کے کبوترہیں
حضرت محمدرسول اللہ کی مسجد میں بچے شورمچارہے تھے ایک صحابی آئے اور بچوں کو ڈانٹے لگے ، حضورپاک نے ارشاد فرمایا ان بچوں کومت ڈانٹو، ان کومت دھمکاؤ،یہ بچے مسجد کے کبوترہیں ، آپ نے ارشاد فرمایا کہ جس کے دل میں بچوں کے لئے ر حم نہ ہواوربچوں کے لئے پیارنہ ہواس پراللہ کی طرف سے رحمت کا دروازہ بند ہے ، آپ نے ارشاد فرمایا بچے جنت کے باغوں کے پھول ہیں ،
حضور حضرت امام حسین ؓ کو پیار فرماتے اورگردن کے پاس ناک اس طرح لگا لیتے کہ دیکھنے والا یہ محسوس کرتا کہ آپ ان کوسونگھ رہے ہیں،حضور بچوں سے بہت پیارکرتے ، حضرت ابراہیم ؓ جوحضرت ماریہ قبطیہ ؓکے بطن سے پیدا ہوئے تھے ان کا انتقال ہوجاتا ہے ، آپ کی آنکھوں میں آنسوآجاتے ہیں، صحابہ کرام پوچھتے ہیں کہ اے اللہ کے رسول! آپ بھی رورہے ہیں ؟ آپ نے فرمایاہاں ! میں بھی انسان ہوں ، اللہ نے میرے اندر بھی رحم اورشفقت کا مادہ رکھا ہے، یہ بچوں کے متعلق حضور کی سیرت ہے ۔
ایک بچے کا واقعہ
ایک مرتبہ حضورنے ایک بچہ کودیکھا کہ وہ کھجورکے درخت پر ڈھیلا یا پتھرمار رہا ہے ،آپ نے اس کومنع فرمایا اورارشاد فرمایا کہ جوکھجوریں نیچے پڑی ہوئی ہیں ان کواٹھاکرکھالولیکن پتھرنہ مارو،ممکن ہے کہ کسی کے سرکولگ جائے یاکسی کے جسم پرلگ جائے اورنقصان ہو، ایک یہودی نے جب دیکھا کہ حضورe بچے کوپیارکررہے ہیں تواس نے کہااے اللہ کے نبی ! آپ اس بچہ سے اتنا پیار کررہے ہیں جب کہ میرے دس بیٹے ہیں لیکن میں نے کبھی ان کوپیارنہیں کیا، تو آپ نے ارشاد فرمایا کہ تمہارے دل سے اللہ رب العزت نے رحم نکال دیاہے تومیں کیا کروں؟ معلوم ہواکہ بچوں سے پیارکرنا حضور کی سیرت ہے ، میں نے عرض کیا تھا کہ حضور e کی سیرت بچوں کے لئے بھی ہے اور عورتوں کے لئے بھی ،ہم سمجھتے ہیں کہ ہماری عورتیں ہی شکوہ شکایت کرتی ہیں اور ساری خامیاں ہماری عورتوں ہی میں ہے ، ایسا نہیں نبی اکرم کے زمانے میں بھی ایسے واقعات پیش آئے ہیں آپ نے عورتوں کے لئے بھی سیرت چھوڑی ہے ۔
حضور کی زوجہ مطہرہ کا واقعہ
حضور اپنی ایک زوجہ محترمہ ام المومنین حضرت سودہ رضی اللہ عنہا کے پاس سے شہد کھاکر حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کے پاس تشریف لے گئے ، حضرت عائشہ صدیقہؓ نے جان بوجھ کر کہا یا رسول اللہ ! آپ کے دہن مبارک سے مغافیرکی بوآرہی ہے، آپ نے حضرت عائشہؓ کا دل رکھنے کے لئے فرمایا کہ اے عائشہ! میں قسم کھاتاہوں کہ اب کبھی میں شہد نہیں کھاؤں گا، اسلئے کہ تمہیں پسند نہیں ، لیکن قرآن کریم میں اللہ رب العزت نے ارشادفرمایاکہ اے محمد جس چیز کو ہم نے تمہارے حلال کیا ہے تم اس کواپنے اوپر کیوں حرام کرتے ہو؟
حضور نے اس کے بعد شہد کھانا شروع کیا اورقسم کا کفارہ ادا کیا، حضور کا انداز تربیت ایسا تھا کہ اگر کسی بات پرآپ ناراض ہیں توناراضگی اس طرح ہوتی تھی کہ آپ کے چہرے کو دیکھ کرصحابہ معلوم کرلیا کرتے تھے کہ حضور ناراض ہیں ، آپ کی زبان مبارک سے کبھی فحش کلمہ نہیں نکلا، آپ کی زبان مبارک سے کسی کوکبھی کوئی تکلیف نہیں پہونچی ۔
آج ہم سیرت کے ہرپہلو پرغورکریں ، ہم تھوڑے سے غصہ میں کہاں سے کہاں پہونچ جاتے ہیں، ہمارا دماغ اورزبان بے قابوہوجاتی ہیں، خیالات منتشر ہوجاتے ہیں اور زبان سے گندی کندی گالیاں شروع ہوجاتی ہیں ۔
حضور کا ایک یہودی مہمان
ایک مرتبہ آپ کے پاس ایک یہودی آیا، آپ نے بکری کا دودھ نکالا اوراس کوپیش کردیا، یہودی سارادودھ پی گیا، حضور فاقے سے رہے اورایسے ہی سوگئے ، اس یہودی نے جان بوجھ کربسترناپاک کردیا، غلاظت کردی اورصبح ہوتے ہی اٹھ کرگھرسے نکل گیا، راستے میں خیال آیاکہ میں اپنی تلوار اسی کوٹھڑی میں چھوڑ آیا ہوں، واپس ہوتا ہے تو دیکھتا ہے کہ حضور اپنے دست مبارک سے بسترکوصاف کررہے ہیں جس کووہ یہودی خراب کرکے چلاگیا تھا، صحابہ عرض کررہے ہیں کہ اے اللہ کے رسول ! ہم اس کودھودیتے ہیں، اللہ کے رسول نے فرمایا نہیں، یہ میرا مہمان تھا اسلئے اس کی خدمت اور تواضع کرنا میری ذمہ داری ہے ، جب اس یہودی نے دیکھا تو آپ کے اخلاق سے اس قدر متاثر ہوا کہ اسی وقت مسلمان ہوگیا، توحضور کی سیرت دشمنوں کے لئے بھی ہے ۔
بیوی کی دلجوئی
تو میں عرض کررہا تھا کہ کہ نبی کریم نے عورتوں کے لئے بھی سیرت چھوڑی ہے ، حضرت عائشہ صدیقہ ؓساری دنیا کے مسلمانوں کی ماں ہیں ، آپ فرماتی ہیں کہ آپ میری خاطر اور دلداری فرماتے کہ جب کھانا کھاتے ہوئے کوئی ہڈی میرے ہاتھ میں ہوتی اورمیں اس کورکھنا چاہتی توآپ فوراً لے لیتے اوراسی جگہ سے چوستے جہاں سے میں نے اس کو کھایا تھا ۔
یہ آپ کی سیرت ہے عورتوں کے لئے ، حضور کو کتنی محبت تھی حضرت عائشہ ؓ سے اورحضر ت عائشہؓ کوکتنی محبت تھی آپ سے ، کہ آپ کا بچا ہوا کھانا بڑے مزے سے کھایا کرتی تھیں، جب مہمانوں کے کھانے کے بعدبرتن واپس آتے توفرماتی ہیں کہ جس برتن اور پیالے میں آپ کھانا کھاتے میں فوراً پہچان لیتی، صحابہ نے عرض کیا کہ کس طرح سے ؟ آپ نے فرمایاکہ وہ برتن سب سے زیادہ صاف ہوتا تھا ، حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں پھرمیں پیالے کوچاٹتی تھی اوراتناچاٹتی تھی کہ میری انگلی سرخ ہوجاتی ۔



