اسرائیلی حملوں میں اعلیٰ قیادت کا خاتمہ، کیا حزب اللہ بکھر جائے گی؟
نیویارک،11اکتوبر (اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)
اسرائیل کے حملوں میں لبنان کی طاقت ور عسکری تنظیم حزب اللہ کی اعلیٰ قیادت کی ہلاکتوں کے بعد مبصرین یہ خیال ظاہر کر رہے ہیں کہ ان اموات سے اس کا تنظیمی ڈھانچہ بری طرح کمزور ہوا ہے۔اسرائیل نے 27 ستمبر کو ایک حملے میں حزب اللہ کے سربراہ حسن نصر اللہ کو ایک فضائی حملے میں ہلاک کردیا تھا۔ اس سے ایک روز قبل ہی اسرائیل نے حزب اللہ کے مضبوط گڑھ سمجھے جانے والے جنوبی لبنان میں اپنے حملوں کا آغاز کیا تھا۔منگل کو اسرائیل کے وزیرِ اعظم نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اسرائیلی حملے میں نصراللہ کے ممکنہ جانشین ہاشم صفی الدین بھی ہلاک ہوچکے ہیں۔
تاہم حزب اللہ نے تاحال اس کی تصدیق نہیں کی ہے۔اسرائیل کے حکام کے مطابق حالیہ کشیدگی کے دوران اسرائیلی حملوں میں اب تک حزب اللہ کے 25 سینئر کمانڈر مارے گئے ہیں۔واشنگٹن میں قائم فاؤنڈیشن فار ڈیفنس آف ڈیموکریسیز سے وابستہ محقق حسین عبد الحسین کا کہنا ہے کہ حزب اللہ کی کارکردگی ہی سے معلوم ہوتا ہے کہ اعلیٰ قیادت موجود نہیں۔ ان کے بقول بظاہر اس کا کوئی قائد و رہبر نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ جنوبی لبنان میں حزب اللہ اس وقت بھی فعال نظر آتی ہے۔ لیکن یہ صرف حزب اللہ کے تنظیمی ڈھانچے کی وجہ سے ممکن ہے جو اس طرح بنایا گیا ہے کہ اگر ایک حصے کو نقصان پہنچتا ہے تو دوسرا آزادانہ انداز میں اپنی کارروائیاں جاری رکھے۔حسین عبد الحسین کے مطابق ’’آپریشنل سطح تک تو یہ ٹھیک ہے لیکن اسٹریٹجک سطح پر یہ بہتر نہیں ہے۔
منگل کو ٹی وی پر نشر ہونے والے تقریر میں حزب اللہ کے نائب سربراہ نعیم قاسم کا کہنا تھا کہ تنظیم کا کمانڈ اینڈر کنٹرول اور تنظیمی ڈھانچہ سلامت ہے اور اس کی جنگی صلاحیتیں بھی ’برقرار‘ ہیں۔انہوں نے اپنی تقریر میں کہا کہ ہم نے حالیہ نقصان پر قابو پالیا ہے اور تمام عہدوں پر متبادل تقرریاں کردی گئی ہیں۔نعیم قاسم نے کہا کہ اسرائیل پر حزب اللہ کے راکٹ حملوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ لیڈر شپ اور میدان میں موجود یونٹس کے درمیان رابطے برقرار ہیں۔اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ اتوار کو حزب اللہ نے اسرائیل پر 100 سے زائد راکٹ حملے کیے تھے جن میں ساحلی شہر حیفا سمیت شمالی اسرائیل پر بھی کئی راکٹ مارے گئے۔ اس حملے سے حیفا میں کم از کم پانچ افراد زخمی ہوئے تھے۔