قومی خبریں

ٹرین دھماکہ : عدالت نے ملزمان کو الزامات طے کئے بغیر 11 سال جیل میں رکھنے پر برہمی کا اظہار کیا

نئی دہلی، 30 اگست:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)سپریم کورٹ نے مختلف راجدھانی ایکسپریس اور دیگر #ٹرینوں میں 1993 کے سلسلہ وار #دھماکوں کے الزامات طے کئے بغیر ایک ملزم کو 11 سال تک قید میں رکھنے پر ناراضگی کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ یا تو اسے مجرم ٹھہرایا جائے یا اسے بری کر دیا جائے۔ تیز رفتار مقدمے کی طاقت کا حوالہ دیتے ہوئے سپریم کورٹ نے اجمیر میں خصوصی دہشت گردی اور تخریبی سرگرمیوں (روک تھام) ایکٹ عدالت کے جج سے رپورٹ طلب کی کہ ملزم حمیرالدین کے خلاف الزامات طے کیوں نہیں کئے گئے ہیں۔

جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ اور ایم آر شاہ کی بنچ نے کہاکہ خصوصی جج، نامزد عدالت، #اجمیر اور #راجستھان حکومت کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اس حکم کی مصدقہ کاپی کی وصولی کی تاریخ سے دو ہفتے کے اندر اس عدالت میں پیش کریں۔ رپورٹ میں وضاحت ہونی چاہیے کہ الزامات کیوں طے نہیں کئے گئے۔ بنچ نے اپنے حالیہ حکم میں کہا ہے کہ رپورٹ کو تیزی سے جمع کرانے کے لیے رجسٹرار (جوڈیشل) متعلقہ جج کو براہ راست اور راجستھان کے رجسٹرار (جوڈیشل) کے ذریعے حکم کی ایک کاپی فراہم کرے گا۔

سماعت کے دوران ملزم کے وکیل #شعیب #عالم نے کہا کہ درخواست گزار 2010 سے #حراست میں ہے، لیکن #الزامات طے نہیں کئے گئے اور #مقدمے کی #سماعت ابھی شروع نہیں ہوئی۔انہوں نے کہا کہ ملزم کی غیر معینہ مدت تک حراست آرٹیکل 21 کے تحت کسی شخص کے حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔

#ریاست کی طرف سے پیش ہوئے وکیل وشال میگھوال نے اعتراف کیا کہ ابھی تک ملزمان کے خلاف الزامات عائدطے نہیں کئے گئے ہیں۔ اس نے یہ بھی کہا کہ وہ برسوں سے مفرور ہے۔ 

متعلقہ خبریں

Back to top button