بین الاقوامی خبریں

جرمنی میں کبھی ٹرینیں اتنی لیٹ تو پہلے کبھی نہ ہوئی تھیں، آخر کیوں؟

تیز رفتار اور طویل فاصلے کی قریب نصف ٹرینیں نومبر میں تاخیر کا شکار ہوئیں

برلن ، 4دسمبر:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)جرمن ریل آپریٹر ڈوئچے بان کی تیز رفتار اور طویل فاصلے کی قریب نصف ٹرینیں نومبر میں تاخیر کا شکار ہوئیں۔ اخبار بلڈ ام زونٹاگ کے مطابق یہ تقریبا ایک دہائی میں اس طرح کی بدترین صورت حال ہے۔جرمن اخبار بلڈ ام زونٹاگ کے مطابق جرمن ریل آپریٹر ڈوئچے بان (ڈی بی) کی طویل فاصلے کی قریب نصف ٹرینیں نومبر میں تاخیر کا شکار ہوئیں، جو گزشتہ آٹھ برسوں کی خراب ترین صورت حال ہے۔اخبار کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کمپنی کی تقریباً نصف آئی سی ای اور آئی سی ٹرینوں کو نومبر کے مہینے میں تاخیر کا سامنا کرنا پڑا۔اخبار نے ڈی بی کے ترجمان کے حوالے سے بتایا کہ نومبر میں آئی سی ای اور آئی سی کی 52 فیصد ٹرینیں وقت پر اپنی منزل پر پہنچیں جب کہ دیگر تاخیر کا شکار ہوئیں۔ ترجمان نے بتایاکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ طویل فاصلے کی تقریبا 75 فیصد ٹرینیں اپنے سفر کے دوران کم از کم ایک تعمیراتی منصوبے کی وجہ سے سست روی کا شکار ہوتی ہیں۔اعداد و شمار میں چھ منٹ سے کم تاخیر والی ٹرینوں کو شامل نہیں کیا گیا، کیونکہ ڈوئچے بان نے ان ٹرینوں کو بروقت شمار کیا ہے۔

وقت پر منزل تک پہنچنے والی ٹرینوں کی نومبر میں شرح 52 فیصد رہی جب کہ گزشتہ نومبر میں یہ شرح 61 فیصد تھی۔ اس برس جنوری میں یہ شرح 73.2 فیصد تھی جو سال کے وسط میں کم ہو کر 63.5 فیصد رہ گئی تھی اور نومبر میں تو اپنی کم ترین سطح پر پہنچ گئی۔ٹرین کمپنی کے ترجمان کا کہنا تھا کہ وقت کی یہ پابندی ہمارے اپنے معیار کی عکاسی نہیں کرتی اور اس سروس کو بھی پورا نہیں کرتی جس کی ہمارے مسافر ہم سے توقع رکھتے ہیں۔ڈی بی نے بلڈ کو مزید بتایا کہ تزئین و آرائش کے بہت سے نامکمل منصوبوں کی وجہ سے کمپنی کو اس سال کے دوران اپنے تعمیراتی کاموں کو کافی حد تک بڑھانا پڑا ہے۔

گزشتہ سال کے مقابلے میں نومبر میں 11 فیصد زیادہ تعمیراتی منصوبہ جات ہماری خدمات کو متاثر کر رہے ہیں۔جرمن حکومت اور ڈی بی نے ستمبر میں مشترکہ طور پر ایک بڑے ریل نیٹ ورک کو اپ گریڈ کرنے کا اعلان کیا تھا، جسے سن 2030 تک مکمل کیا جائے گا۔ لیکن اس کے ساتھ یہ بھی کہا گیا تھا کہ کام مکمل ہونے تک ٹرینوں کو مزید تاخیر کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔تعمیراتی منصوبوں کے سبب ٹرینوں کی تاخیر سے متعلق اس رپورٹ کے علاوہ رواں ہفتے شدید خراب موسم نے بھی ریل سروس کو شدید متاثر کیا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button