قدرتی اقدامات,یورک ایسڈ کی زیادتی کا علاج✍️پیش کش: ڈاکٹر قرۃ العین فاطمہ عثمان دہلی
آپ کا جسم گردوں کی مدد سے پیشاب کے ذریعے یورک ایسڈ کو خارج کرتا رہتا ہے اور اگر آپ پیورائن والی غذائیں زیادہ مقدار میں لیں اور یورک ایسڈ جسم سے تیزی سے خارج نہ ہوپائے تو یہ خون میں جمع ہوتا رہتا ہے
uric acid پیورائن والی غذائوں کے ہضم ہونے کے بعد بچنے والا فاضل مادہ یورک ایسڈ کہلاتا ہے۔ بہت سی غذائوں میں پیورائن وافر مقدار میں موجود ہوتا ہے جیسے: گوشت، سرڈائن، خشک پھلیاں، شراب۔ جبکہ پیورائن جسم میں بھی بنتا اور ٹوٹتا رہتا ہے۔ آپ کا جسم گردوں کی مدد سے پیشاب کے ذریعے یورک ایسڈ کو خارج کرتا رہتا ہے اور اگر آپ پیورائن والی غذائیں زیادہ مقدار میں لیں اور یورک ایسڈ جسم سے تیزی سے خارج نہ ہوپائے تو یہ خون میں جمع ہوتا رہتا ہے۔جسم میں یورک ایسڈ کی زیادہ مقدار جوڑوں میں درد اور پیشاب اور خون میں تیزابیت پیدا کر دیتی ہے۔
جسم میں یورک ایسڈ جمع ہونے کی کئی وجوہات ہیں جن میں سے چند یہ ہیں:غذا، موروثیت، موٹاپا یا وزن زیادہ ہونا، ذہنی دبائو، صحت کے چند مسائل بھی یورک ایسڈ کا لیول بڑھا دیتے ہیں جیسے گردوں کی بیماری، ذیابیطس، ہائپو تھائرائڈزم، کچھ کینسرز یا کیمو تھیراپی، سوریاسس، میٹھے مشروب کے کڑوے نقصانات کے بارے میں جانتے ہیں؟
یورک ایسڈ کو قدرتی طور پر کس طرح کم کیا جاسکتا ہے
پیورائن والی غذائوں کومحدود کیجئے: یورک ایسڈ کی وجہ بننے والی غذائوں کو محدود کرکے جسم سے یورک ایسڈ کو کم کیا جاسکتا ہے۔ گوشت، سی فوڈ اور سبزیوں میں پیورائن ہوتا ہے جب یہ ہضم ہوتی ہیں تو جسم میں یورک ایسڈ کو چھوڑ دیتی ہیں۔ان غذائوں کا استعمال ترک یا ان میں کمی ضرور کریں۔گوشت، مچھلی، مٹن، گوبھی، مٹر، خشک پھلیاں، مشروم۔
شکر والی غذائیں اور مشروبات: تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ کھانے پینے کی اشیاء میں موجود اضافی شکر خاص کر fructose corn syrup فرکٹوس کورن سیرپ جسم میں یورک ایسڈ کی مقدار کو بڑھا سکتا ہے۔ لہٰذا ڈبے میں پیک اشیاء کو خریدتے وقت ان کے اوپر لگا لیبل ضرور دیکھ لیں۔ اور ایسی غذائوں کا استعمال کم سے کم کریں۔اسی طر ح سوڈا ڈرنکس اور فروٹ جوس میں بھی فرکٹوس اور گلوکوز والی شکر موجود ہوتی ہے۔یہ شکر تیزی سے جذب ہوتی ہے اورخون میں شکر کی مقدار بڑھانے کے ساتھ یورک ایسڈکو بھی بڑھا دیتا ہے۔
زیادہ پانی پیئیں: زیادہ پانی پینے سے گردوں کو یورک ایسڈ تیزی کے ساتھ خارج کرنے میں مدد ملے گی۔ پانی کی بوتل ہر وقت اپنے ساتھ رکھیں اور تھوڑی تھوڑی دیر بعد پانی پیتے رہیں۔
وزن کم کریں: غذا کے ساتھ اضافی وزن بھی یورک ایسڈ کی مقدار میں اضافہ کرتا ہے کیونکہ مسلز کے مقابلے میں فیٹس زیادہ یورک ایسڈ بناتے ہیں۔اسی طرح زیادہ وزن کی وجہ سے بھی گردوں کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے۔جبکہ فوری طور پر وزن میں کمی یورک ایسڈ کے لیول پر مثبت اثر کرے گی۔اس سلسلے میں غذا کے ماہر سے مشورہ کرکے اپنے لئے صحت بخش غذا کا انتخاب کریں۔
جسم میں انسولین کو متوازن کریں: اگر آپ شوگرکے مریض نہیں بھی ہیں تواپنا بلڈ شوگر لیول ضرور چیک کرائیں، انسولین استعمال کرنے والے شوگر کے مریضوں میں بھی انسولین کا لیول زیادہ ہوسکتا ہے۔جسم میں انسولین کی زیادہ مقدار جسم میں یورک ایسڈ کو بڑھاتی ہے۔
اپنی غذا میں زیادہ فائبر شامل کریں: زیادہ فائبر کھانے سے بھی یورک ایسڈ کی زیادتی سے بچا جاسکتا ہے۔ فائبر خون میں شکر اور انسولین کے لیول کو بھی کم کرتے ہیں۔ فائبر کی وجہ سے زیادہ کھانے سے بچت رہتی ہے۔ اپنی روزانہ کی غذا میں 5 سے 10 گرام فائبر ضرور شامل کریں۔ تازہ یا خشک پھل، تازہ سبزیاں، جو، میوے۔سرکہ ایک قدرتی کلینسر اور ڈٹوکسفائر ہے۔سرکہ ہمارے جسم سے فاضل مادہ جس میں یورک ایسڈ شامل ہے باہر نکالنے میں مدد کرتا ہے بلکہ اس میں موجو د میلک ایسڈ یورک ایسڈ کو ٹوڑ کر پیشاب کے ذریعے باہر نکالنے میں مدد کرتا ہے۔
ایک گلاس پانی میں ایک چمچ خالص آرگینک سرکہ حل کر کے پینے سے یورک ایسڈ کنٹرول ہوتا ہے۔یہ محلول چار ہفتہ تک دن میں دو دفعہ استعمال کرنے سے یورک ایسڈ کنٹرول ہوتا ہے۔ لیموںوٹامن سی اور الکلائن سے بھر پور ہوتا ہے۔لیموں کا عرق بظاہر تیزابی خصوصیات رکھتا ہے لیکن اس میں موجود وٹامن سی یورک ایسڈ کو فوری کنٹرول کرتا ہے۔ایک گلاس نیم گرم پانی میں آدھا لیموں نچوڑ کر پینے سے یورک ایسڈ کنٹرول ہوتا ہے۔اس محلول میں حسب ذائقہ شہد یا چینی بھی ملائی جا سکتی ہے۔اس محلول کو صبح نہار منہ چار ہفتہ تک پینے سے جلد فائدہ ہوتا ہے ا سکے علاوہ وٹامن سی لینے کے لئے ڈاکٹر کے مشورے کے مطابق وٹامن سی سپلیمنٹ بھی لئے جا سکتے ہیں۔
عام طور پر ذیا بیطس کے مریضوں کا یورک ایسڈ جلد بڑھ جاتا ہے اور وہ ایسی غذا نہیں کھا پاتے جس سے یورک ایسڈ کنٹرول میں آتا ہے۔لہذا ایسے مریض جو ہر پھل اور ہر سبزی نہیں کھا پاتے انھیں روزانہ ایک گاجر اور تین کھیروں کا رس نکال کر پینا چاہئے۔ اس جوس سے شوگر بھی کنٹرول ہو گی اور یورک ایسڈ بھی کنٹرول ہو گا۔اسی طرح آپ دیسی اجوائن کا استعمال کرکے بھی فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
دیسی اجوائن نہ صرف یورک ایسڈ کی زیادتی کو کنٹرول کرنے میں مددکرتی ہے۔بلکہ کولیسٹرول کی زیادتی ،شریانوں کی تنگی ، گیس اور جوڑوں کے درد سے نجات دلاتی ہے۔ایک چمچ دیسی اجوائن رات کے وقت بھگو کر رکھ دیں۔صبح نہار منہ اسے چھان کر پی لیا کریں۔ یہ کئی طرح کے امراض سے محفوظ رکھنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔



