تمر ہندی سے علاج کیجئے۔ ✍️ڈاکٹر حکیم محمد فاروق اعظم حبان قاسمی رحیمی شفا خانہ بنگلور
اِملی کا درخت تقریباً سارے ہندوستان میں ہوتا ہے۔اِملی کا سدا بہار درخت بہت بڑا ہوتا ہے۔ املی کے پھل اور بیج کا استعمال صرف دوا کے طور پرہی نہیں ہوتا ہے ،بلکہ چٹنی بھی بنائی جاتی ہے۔ املی مختلف سالنوں میں بھی ڈالی جاتی ہے۔ ہمارے یہاں دکن اور جنوب میں تو املی کی ترشی کے بغیر کوئی کھانا ہی تیار نہیں کیا جاسکتا،بلکہ نمک مرچ کی طرح لازمی سمجھا جاتا ہے۔ املی کے بیجوں کو ’’چیاں‘‘ چینچے‘‘ کہتے ہیں۔
املی سے علاج
املی کا گودا‘ بیج‘ چھلکا‘ جڑ اور رس سب دوا کے طور پر استعال کئے جاتے ہیں۔ لیکن گودا اوربیج (چیاں) زیادہ استعمال کئے جاتے ہیں، کچی املی نقصان رساں ہوتی ہے۔ پکی ہوئی املی مسہل دست لانے والی) مشتہی بھوک لگانے والی) اور ہاضم ہوتی ہے۔ پیاس کی شدت کو روکتی ہے بدن میں خون اورصفرا کا غابہ ہوتو اس کو کم کرتی ہے۔ صفرا (پت) کو دستوں کے ذریعے سے نکالتی ہے۔ 40 گرام ڈیڑھ پائو پانی میں بھگودیں ، تین گھنٹے کے بعد صاف پانی نتھار کر مصری یا کچی شکر ملاکر پئیں، صفراوی بخاروں میں اس کے پلانے سے بخار رک جاتا ہے۔
طبیعت کو فرحت اور پیاس کو تسکین ہوتی ہے۔ متلی اور قے ہو تو وہ بھی دور ہوجاتی ہے۔ گرمیوں میں گرمی کی شدت سے دل کی دھڑکن کی شکایت ہو تو وہ بھی املی کا شربت پلانے سے جاتی رہتی ہے۔ ان شکایتوں کے لئے اس کی جوارش (مقوی معدہ اور ہاضم معجون) بناکر بھی استعمال کرتے ہیں۔
‘املی کے 30 گرام گودے کو تھوڑے پانی میں بھگودیں ، جب پھول جائے تو ہاتھوں سے مل کر بیجوں اور ریشے وغیرہ کو نکال دیں اور اس کے اندر گڑ یا شکر اور نمک مرچ بقدر ذائقہ استعمال کریں۔ اس ترکیب کو املی کا پنا کہتے ہیں اور گرمی کے موسم میں بکثرت استعمال کرتے ہیں۔املی کے بیجوں کو پہلے بھاڑ یا بھوبل میں بھون لیا جاتا ہے ۔ اس کے بعد اوپر کا چھلکا اتار کر کوٹ چھان کر سفوف بنالیتے ہیں اور اس کے برابر شکر ملاکر روزانہ 6 گرام کی مقدار میں پانی یا گائے کے دودھ کے ساتھ استعمال کرتے ہیں۔ اس سفوف کو پانی کے ساتھ کھلانے سے دست بند ہوجاتے ہیں۔
ایک سال کی پرانی املی کا گودا جگر، ہاضمے اور آنتوں کے لئے خاص طور پر مفید ہوتا ہے ۔ اسکروی،دایک بیماری جس میں مسوڑھوں سے خون بہتا ہے کے لئے املی کا استعمال بعض حالتوں میں لیموں سے بھی زیادہ مفید پایا گیا ہے۔ دائمی (مستقل ) قبض کے مریضوں کو دس سال پرانی املی کا گودا تین گرام کی مقدار میں روزانہ استعمال کرنے سے کہا جاتاہے کہ دو تین ہفتے میںشفا ہوجاتی ہے املی ، دست آور ہونے کے باوجود بد ہضمی کے دستوں کو فاسد مواد خارج کرکے روک دیتی ہے۔
املی کے پتوں کا جوشاندہ خون کے فساد کو دور کرتا اور صفرا کو خارج کرتا ہے۔
املی کے پتوں کو پانی میں پیس چھان کر پینے سے بخار کم ہوجاتا ہے۔ اور پیشاب کی جلن بھی رفع ہوجاتی ہے۔اس کے پتوں کی پلٹس پھوڑوں کو پکاتی اور صاف کرتی ہے۔ پتوں کے جوشاندے سے کھانڈ (یعنی بورا) کے رس میں سرخ لوہے کو بجھا کر پلانے سے خونی دستوں کو آرام آجاتا ہے۔ پتوں کے رس میں کھانڈ (کچی شکر) ملاکر دینے سے خونی پیچش اور خونی بواسیر کو فائدہ ہوتا ہے۔ املی کا گودا اور پتے دونوں یرقان میں بہت مفید ہے۔ املی کے گودے کو پانی کے ساتھ پیس کر بہترین قسم کا مرہم تیار ہوتا ہے او ر پھوڑوں پر اس کا ضماد (لیپ) کرنے سے وہ بہت جلد پک جاتے ہیں۔املی کے پھولوں کی پلٹس آنکھ پرباندھنے سے آنکھ کی کیچڑ (پیپ)اور سوزش کو فائدہ ہوتا ہے۔ یہ پھول یرقان اور بلغمی، دموی (خون کے ) صفراوی پت کے مرضوں میں بہت مفید ثابت ہوتے ہیں۔
املی کا چھلکا کسیلا، قابض اور مقوی ہے، قے بخار، پیاس اور دائمی قبض میں اس کا جوشاندہ یا خیساندہ (پانی میں بھگوکر ) بہت مفید ہے۔
چھلکے کا کھار(نمک) درد شکم، اور بد ہضمی میں نہایت مفید ہے۔
10 گرام املی کی جڑ کو چھاچھ او رکالی مرچ 3 گرام کے ساتھ پیس کر کابلی چنے کے برابر گولیاں بنالیں۔ خونی پیچش میں بہت مفید ثابت ہوتی ہے۔ املی کے گوند کو بھی پھوڑوں پر ضماد کرنے سے بہت فائدہ ہوتا ہے۔
کمر درد کیلئے اور لیکوریا کیلئے
جو لوگ محنت اور مشقت کا کام کرتے ہوں بالخصوص وزن اٹھانے والوں کیلئے املی کا بیج اللہ کی بڑی نعمت ہے، املی کے بیجوں کو پہلے آگ پر بھون کر چھلکا الگ کرلیا جائے اور باریک سفوف بناکر ہموزن مصری ملالیں، اور صبح وشام ایک ایک چمچ ہمراہ نیم گرم دودھ استعمال کریں، انشاء اللہ چند ماہ کے استعمال سے کمر درد اور لیکوریا کو فائدہ ہوگا۔
بچوں کیلئے
جو بچے اسکول میں کھیل کود میں حصہ لیتے ہیں ان بچوں کو املی کے بیج کا سفوف بناکر گھی ڈال کر سوجی کی طرح ہلکی آنچ پر بھون لیا جائے، اور صبح وشام ایک ایک چمچ دودھ میں ملاکر پلائیں، بچے کی نشو ونمائی میں خاطر خواہ اضافہ ہوگا اور ہڈیاں بھی مضبوط ہوں گی۔ جن بچوں کو پھوڑے پھنسیاں یا کسی بھی قسم کی الرجی ہو انہیں کچی املی استعمال نہ کرائی جائے۔



