بین الاقوامی خبریں

یورپی ممالک میں ایک ممکنہ ’ٹرائیڈیمک‘ کا خطرہ لاحق ہوگیا

اٹلی بھی اس وقت سوائن فلو کے پھیلاؤ کے خطرے سے نمٹنے کی کوشش میں ہے

برسلز ، 13جنوری :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) سانس کی بیماریوں میں مسلسل اضافے کے ساتھ اسپتالوں میں بستروں کی کمی اور صحت کی سہولیات کی فراہمی میں دشواریاں بھی پیش آ رہی ہیں۔یورپی یونین کے تمام ممالک میں اس وقت ’فلو‘ انفیکشن بڑی تشویش کا باعث ہے۔ کورونا وائرس اور ریسپائریٹری سنسیٹیئل وائرس (آر ایس وی) کیسز کی بڑھتی ہوئی تعداد صحت کی فراہمی کے نظام پر منفی اثرات مرتب کر رہی ہیں۔یورپ کے کئی ممالک میں حالیہ ہفتوں میں کووڈ، آر ایس وی اور سوائن فلو کے کیسز میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ اٹلی بھی اس وقت سوائن فلو کے پھیلاؤ کے خطرے سے نمٹنے کی کوشش میں ہے۔ اسپین نے بھی احتیاطی تدابیر کا آغاز کرتے ہوئے ماسک پہننے کے نئے ضوابط متعارف کروا دیے ہیں۔اقوام متحدہ کے ادارہ برائے صحت ڈبلیو ایچ او نے گزشتہ سال دسمبر میں کورونا وائرس سے تقریباً دس ہزار اموات کی تصدیق کی ہے۔ یہ اموات زیادہ تر یورپی ممالک اور امریکہ میں ہوئیں۔

ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس اڈانہوم گیبریئس کی جانب سے یہ بھی بتایا گیا ہے کہ نومبر کے مقابلے میں دسمبر میں مختلف اسپتالوں میں مریضوں کی تعداد میں بیالیس فیصد جبکہ انتہائی نگہداشت کے یونٹس میں مریضوں کی تعداد میں باسٹھ فیصد اضافہ ہوا۔یورپی یونین میں بیماریوں سے بچاؤ کے مرکز (ای سی ڈی سی) نے بھی یورپی ممالک میں انفلوئنزا جیسی سانس کی بیماری کی شرح میں اضافہ کے بارے میں خبردار کیا ہے۔اٹلی اور اسپین سمیت یورپ کے دس ممالک میں موسمی انفلوئنزا کی جانچ پڑتال کی شرح 10 فیصد تک مثبت رہی۔

ای سی ڈی سی کا کہنا ہے کہ اس بیماری کے تیزی سے پھیلاؤ کی وجہ کرسمس اور دیگر تہواروں کی تقریبات کے دوران بڑے اجتماعات سے بھی منسوب کی جا سکتی ہے، جو اسپین میں عام ہیں۔اسپین کی وزیر صحت مونیکا گارسیا نے ملک بھر میں قائم بنیادی صحت کے مراکز میں ماسک پہننا لازمی قرار دے دیا ہے۔گارسیا نے میڈیا سے بات کرتے ہوے کہا کہ ہمیں لوگوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے اور ماسک پہننے سے یہ ممکن ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button