
تریپورہ کے وزیر محنت کے بیٹے پر اجتماعی آبروریزی کا الزام
میرٹ میں ہم جماعت کی ہراسانی سے دلبرداشتہ میڈیکل طالبہ کی خودکشی، ملزم گرفتار
اگرتلہ:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) تریپورہ میں اپوزیشن کانگریس نے ہفتہ کو انوکٹی ضلع کے کمار گھاٹ میں زبردست احتجاج کیا اور اجتماعی عصمت دری میں ملوث وزیر محنت باگبن داس کے بیٹے سمیت تمام ملزمین کی گرفتاری کا مطالبہ کیا۔ ان تمام ملزمان پر 19 اکتوبر کی رات ایک 16 سالہ لڑکی کے ساتھ اجتماعی زیادتی کا الزام تھا۔ تاہم پولیس نے کہا کہ دو افراد بشمول ایک خاتون راجیو داس اور پاپیا ڈے کو اس واقعہ کے سلسلے میں گرفتار کیا گیا ہے اور دیگر کی تلاش جاری ہے ۔ پولیس کا کہنا ہے کہ جب تک اس جرم میں ملوث افراد کا سراغ نہیں لگایا جاتا، عوام کے مطالبے پر کسی کو گرفتار نہیں کیا جا سکتا۔
پولیس کے مطابق متاثرہ خاتون تھانہ فاٹیکروئے کے علاقے کنچن باڑی کی رہنے والی ہے اور اس کا ملزم راجیو کے ساتھ معاشقہ چل رہا تھا۔ متاثرہ، مقامی بی جے پی لیڈر کی بیٹی، ملزم خاتون کے ساتھ کمار گھاٹ آئی تھی جو اسے ایک عمارت میں لے گئی جس پر وزیر کے بیٹے کا قبضہ ہے ۔ متاثرہ لڑکی کے ساتھ راجیو سمیت دیگر گینگ ممبران نے کافی دیر تک عمارت میں اجتماعی عصمت دری کی اور متاثرہ گھر واپس آنے کے بعد اس کی حالت دیکھ کر اس کے والدین اسے فوری طور پر اسپتال لے گئے جہاں اس نے ڈاکٹروں سے اپنی آب بیتی بیان کی۔ متاثرہ کے خاندان نے اگلے دن ایف آئی آر درج کرائی اور اس کی بنیاد پر پولیس نے راجیو اور پاپیا کو گرفتار کر لیا لیکن دیگر ملزمان کو ابھی تک حراست میں نہیں لیا گیا ہے ۔
اس دوران کمار گھاٹ کے کانگریس لیڈر ستیہ بن داس نے الزام لگایا کہ وزیر محنت داس کے بیٹے کی عمارت میں اجتماعی عصمت دری کی گئی اور وہ مبینہ طور پر اس جرم میں ملوث ہے ۔ انہوں نے الزام لگایا کہ پولیس وزیر اور بی جے پی لیڈروں کے دباؤ اور دھمکیوں کے سامنے جھک گئی ہے اور وزیر کے بیٹے کا نام کیس سے ہٹانے کی پوری کوشش کر رہی ہے ۔
میرٹ میں ہم جماعت کی ہراسانی سے دلبرداشتہ میڈیکل طالبہ کی خودکشی، ملزم گرفتار
لکھنؤ:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) اترپردیش کے شہر میرٹھ میں میڈیکل کی 20 سالہ طالبہ نے ہم جماعت لڑکے کی طرف سے ہراساں کیے جانے پر خودکشی کرلی۔ وہ ویویکانند سبھارتی یونیورسٹی میں ڈینٹل سرجری کی سال دوئم کی طالبہ تھی۔پولیس کے مطابق ہم جماعت لڑکے نے طالبہ کو کلاس میں ہراساں کیا اور تھپڑ مارا تھا۔دیگر ہم جماعتوں کی شکایت پر پولیس نے ملزم کو گرفتار کرلیا ہے۔ لڑکی نے ہراساں کرنے سے روکا تو ملزم نے اسے تھپڑ مارا، جس پر دلبرداشتہ ہو کر طالبہ نے کالج کی چوتھی منزل سے چھلانگ لگا دی۔ طالبہ نے 19 اکتوبر کو خودکشی کی، اسے اسپتال منتقل کیا گیا تھا لیکن اس کی ریڑھ کی ہڈی ٹوٹ چکی تھی جبکہ ایک ٹانگ بھی شدید زخمی تھی۔زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے 21 اکتوبر کو طالبہ اسپتال میں انتقال کرگئی۔
میڈیکل کالج کی طرف سے اس واقعہ پر اب تک کسی قسم کا بیان نہیں دیا گیا ہے۔ چھیڑ چھاڑ کی شکار ہونے والی طالبہ کا نام وانیہ شیخ ہے جو تقریباً 48 گھنٹے تک زندگی اور موت کے درمیان جھولتی رہی۔ ملزم طالب علم سدھانت پنوار کو پولیس نے گرفتار کر لیا ہے۔ یہ معاملہ اب سرخیوں میں آ گیا ہے اور اتر پردیش میں خواتین کی حالت پر سوال بھی اٹھنے لگے ہیں۔کالج انتظامیہ کی بڑی لاپروائی یہ سامنے آئی ہے کہ ملزم طالب علم کے خلاف شکایت ملنے کے باوجود کالج نے نہ تو کوئی سنجیدگی دکھائی اور نہ ہی کوئی کارروائی کی۔ وانیہ کے چوتھی منزل سے کودنے کی ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے۔ یہ محض 2 سیکنڈ کی ویڈیو ہے جس میں وانیہ چوتھی منزل سے کودتی ہوئی نظر آ رہی ہے اور نیچے موجود لوگ چیخ رہے ہیں۔
فی الحال ملزم طالب علم کو عدالت نے 14 دن کی عدالتی حراست میں بھیج دیا ہے۔قابل ذکر ہے کہ وانیہ خاندان میں اکلوتی لڑکی تھی۔ وانیہ کا بڑا بھائی انجینئر ہے اور چھوٹا بھائی ابھی درجہ 9 میں تعلیم حاصل کر رہا ہے۔ وانیہ کے والد اسعد سمیع پراپرٹی ڈیلر ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ انھیں قانون پر بھروسہ ہے، بیٹی کو انصاف ضرور ملے گا۔کانگریس کے راجیہ سبھا رکن عمران پرتاپ گڑھی نے اس واقعہ پر یوگی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انھوں نے کہا کہ بی جے پی حکمراں ریاست یوپی بیٹیوں کے لیے قبرگاہ بنتی جا رہی ہے۔



