
ٹی آر ایس نے اسمبلی حلقہ منوگوڑ میں بی جے پی سے آر پار کی لڑائی لڑنے کا منصوبہ تیار کیا
چیف منسٹر کے سی آر بڑے گاڑیوں کے قافلے میں روانہ ہوں گے، پولنگ تک وہی قیام کرنے کا امکان
حیدرآباد:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) ٹی آر ایس نے ضمنی انتخاب میں بی جے پی سے آر پار کی لڑائی لڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔ الیکشن کمیشن کی درپردہ بی جے پی کو تائید پر چیف منسٹر کے سی آر سخت ناراض ہے اور رائے دہی تک اسمبلی حلقہ منوگوڑ میں قیام کرنے پر سنجیدگی سے غور کررہے ہیں۔ تلنگانہ کے ضمنی چناؤ پر ملک کی نظریں جمی ہوئی ہیں۔ ملک کا سب سے مہنگا الیکشن ہونے کی قیاس آرائیاں چل رہی ہیں۔ بی جے پی کے قومی قائدین بالخصوص اترپردیش میں بی جے پی کو کامیاب بنانے کا اعزاز رکھنے والے سنیل بنسل اسمبلی حلقہ منوگوڑ میں قیام کرتے ہوئے بی جے پی کی کامیابی کے لئے خصوصی حکمت عملی پر کام کررہے ہیں۔ ان تمام امور کا جائزہ لینے کے بعد چیف منسٹر کے سی آر نے اسمبلی حلقہ منوگوڑ کے انتخابی مہم کی ذمہ داری خود سنبھالنے کا فیصلہ کیا ہے۔
آج کل میں چیف منسٹر کے سی آر دہلی سے حیدرآباد پہنچ جائیں گے جس کے بعد وہ خود انتخابی مہم پر توجہ دیں گے۔ ویسے بھی قومی پارٹی بی آر ایس تشکیل دینے کا اعلان کرنے کے بعد تلنگانہ میں پہلا ضمنی انتخاب منعقد ہو رہا ہے جس کی جیت اور ہار کا قومی سیاست میں اہم پیغام پہنچے گا۔ اس لئے چیف منسٹر کوئی خطرہ مول لینے کے لئے تیار نہیں ہے۔ بلکہ منوگوڑ سے ہی بی جے پی کے خلاف آر پار کی جنگ لڑنے کی تیاری کررہے ہیں۔ وہ دہلی میں رہ کر بھی پارٹی قائدین سے رابطہ میں تھے۔ حیدرآباد پہنچ کر بی جے پی کا اگلا پچھلا سارا حساب چکتا کرنے کی تیاریاں کررہے ہیں
۔ ٹی آر ایس کے ذرائع سے پتہ چلا ہیکہ چیف منسٹر کے سی آر کی جانب سے اشارے ملنے کے بعد ٹی آر ایس کے تمام قائدین جنہیں انتخابی مہم کی ذمہ داری سونپی گئی ہے وہ سب اسمبلی حلقہ منوگوڑ کے مختلف علاقوں میں پھیل چکے ہیں اور عوام سے ملاقات کرتے ہوئے انتخابی مہم میں شدت پیدا کرچکے ہیں۔ ٹی آر ایس کے سروے میں پہلے ہی ٹی آر ایس کی کامیابی کے امکانات واضح ہوگئے ہیں۔ کانگریس اور بی جے پی کے سروے میں بھی ٹی آر ایس کی کامیابی کے اشارے ملے ہیں۔ گزشتہ انتخابات میں بی جے پی کو صرف 6 فیصد یعنی 12 ہزار ووٹ پول ہوئے تھے۔ تاہم اس مرتبہ بی جے پی اپنی ساری توجہ اسمبلی حلقہ منوگوڑ پر جھونک دی ہے۔ ٹی آر ایس کے انتخابی نشان کار سے مشابہت رہنے والے انتخابی نشانات سے ماضی میں ٹی آر ایس کو نقصان ہوا تھا۔ اس مرتبہ ٹی آر ایس اس پر چوکس ہوگئی ہے اور عوام میں شعور بیدار کرنے پر زیادہ توجہ دے رہی ہے۔
دوسری جانب بی جے پی کروڑہا روپے خرچ کررہی ہے۔ دو دن قبل تلنگانہ بی جے پی کے صدر بنڈی سنجے کا حامی ایک کروڑ روپے کے ساتھ پولیس کو پکڑا گیا ہے۔ اس کے علاوہ روڈ شوز اور جلسوں کے لئے بی جے پی پڑوسی اضلاع سے عوام کی بھیڑ کو اکٹھا کرتے ہوئے بی جے پی کو عوام کی بھاری تائید حاصل ہونے کا تاثر دے رہی ہے۔ چیف منسٹر کے سی آر نے بی جے پی کو اسی انداز میں جواب دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ چیف منسٹر کے سی آر کاروں کے بڑے قافلے میں منوگوڑ پہنچنے اور انتخابی مہم کے اختتام تک وہیں قیام کرنے پر بھی سنجیدگی سے غور کررہے ہیں اور گاؤں گاؤں میں بڑے پیمانے پر انتخابی مہم چلانے کی منصوبہ بندی تیار کرچکے ہیں۔ بی جے پی اور اس کے امیدوار کی اصلیت عوام کے سامنے آشکار کرنے حکومت کی اسکیمات کے تعلق سے عوام میں بڑے پیمانے پر شعور بیدار کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔



