بین الاقوامی خبریںسرورق

ٹرمپ کا 1987 کا ایران منصوبہ نئی کشیدگی میں پھر زیرِ بحث

ڈونلڈ ٹرمپ کا 1987 انٹرویو اور ایران سے متعلق حکمت عملی

واشنگٹن 31 مارچ:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان ایک پرانا ویڈیو کلپ منظرِ عام پر آیا ہے، جس میں موجودہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی چار دہائیاں پرانی سوچ ایک بار پھر عالمی بحث کا موضوع بن گئی ہے۔

یہ ویڈیو 1987 کے ایک ٹی وی انٹرویو کا حصہ ہے، جو حالیہ دنوں میں سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ایکس” پر دوبارہ شیئر کیا گیا اور قلیل وقت میں لاکھوں بار دیکھا گیا۔ اس انٹرویو میں نوجوان کاروباری شخصیت کے طور پر نظر آنے والے ٹرمپ نے ایران کے حوالے سے امریکی پالیسی پر سخت تنقید کرتے ہوئے تجویز دی تھی کہ اگر امریکی مفادات کو نقصان پہنچے تو ایران کے تیل کے وسائل کو نشانہ بنایا جانا چاہیے۔

ادھر موجودہ حالات میں بھی امریکہ اور ایران کے درمیان تناؤ غیر معمولی حد تک بڑھ چکا ہے۔ مختلف بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق واشنگٹن ایران کے اندر محدود نوعیت کی فوجی کارروائیوں کے امکانات پر غور کر رہا ہے، جن میں حساس تنصیبات اور توانائی کے مراکز کو ہدف بنایا جا سکتا ہے۔

رپورٹس کے مطابق زیرِ غور حکمت عملی مکمل جنگ کے بجائے محدود اور تیز رفتار اقدامات پر مشتمل ہو سکتی ہے، جس کا مقصد ایران کی اقتصادی اور جوہری صلاحیت کو کمزور کرنا اور اسے مذاکرات کی میز پر لانا ہے۔

خاص طور پر ایران کا خارک جزیرہ، جو ملک کی تیل برآمدات کا اہم ترین مرکز سمجھا جاتا ہے، ممکنہ اہداف میں شامل بتایا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس مقام پر کسی بھی قسم کی کارروائی عالمی منڈیوں پر فوری اثر ڈال سکتی ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر موجودہ پالیسیوں کا جائزہ لیا جائے تو یہ واضح ہوتا ہے کہ ٹرمپ کی ایران کے حوالے سے حکمت عملی میں بنیادی تبدیلی نہیں آئی، بلکہ وہی پرانا نقطہ نظر آج کے حالات میں ایک نئے انداز سے سامنے آ رہا ہے، جس میں اقتصادی دباؤ اور اسٹریٹجک اہداف کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔

موجودہ صورتحال اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ ماضی کے نظریات کس طرح حال کی عالمی سیاست کو متاثر کر سکتے ہیں، اور آنے والے دنوں میں مشرقِ وسطیٰ میں حالات مزید پیچیدہ ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button