ٹرمپ کا شام کے حوالے سے بڑا اعلان جلد متوقع، امریکی پابندیاں ختم
امریکی صدر ٹرمپ کا اعلان اور شام کی صورتحال
واشنگٹن :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شام کے بارے میں ایک بڑا اعلان کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پابندیاں ہٹائی جا چکی ہیں تاکہ شامی عوام کو معاشی دباؤ سے کچھ ریلیف مل سکے۔ ٹرمپ نے زور دیا کہ "آج ایک بڑا اعلان ہونا چاہیے” تاہم اس اعلان کی تفصیل انہوں نے ظاہر نہیں کی۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر نیویارک میں خطاب کرتے ہوئے شام کے صدر احمد الشرع نے کہا کہ بشار الاسد حکومت پر پابندیوں کا اب کوئی جواز باقی نہیں رہا۔ انہوں نے کہا کہ شامی عوام ان پابندیوں کو براہ راست اپنے خلاف حملہ سمجھتے ہیں۔
احمد الشرع نے مزید کہا:
"شام ایک متنوع اور ہنر مند قوم ہے۔ ہمارے عوام محنتی ہیں اور تجارت ان کے خون میں شامل ہے۔ پابندیاں ہٹائیں اور دنیا نتائج خود دیکھے گی۔”
انہوں نے نیویارک میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے بھی ملاقات کی، جس میں شام کو مستحکم اور خود مختار ریاست بنانے کے مواقع پر تبادلۂ خیال ہوا۔
کانگریس کے بعض ارکان نے سیزر ایکٹ کی منسوخی کی حمایت کی ہے، جس کے تحت بشار الاسد کے دور حکومت میں شام پر سخت معاشی پابندیاں عائد کی گئی تھیں۔ کچھ ریپبلکن اور ڈیموکریٹ قانون ساز چاہتے ہیں کہ اس منسوخی کو نیشنل ڈیفنس آتھرائزیشن ایکٹ میں شامل کیا جائے، جو دسمبر تک منظور ہونے کی توقع ہے۔
یاد رہے کہ ٹرمپ نے رواں سال جون میں ایک ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے شام پر عائد امریکی پابندیوں کو ختم کر دیا تھا۔ اس اقدام کے بعد شام کی عالمی مالیاتی نظام تک رسائی بحال ہوئی اور واشنگٹن نے خانہ جنگی سے متاثرہ ملک کی تعمیر نو میں مدد کا وعدہ کیا۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے اس وقت وضاحت کی تھی کہ اس اقدام سے امریکہ کو اب بھی یہ اختیار حاصل رہے گا کہ وہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرنے والوں، منشیات کے اسمگلروں، کیمیائی ہتھیاروں کی سرگرمیوں میں ملوث عناصر اور داعش یا ایرانی پراکسیوں سے تعلق رکھنے والوں پر پابندیاں عائد کرے۔



