فلسطینیوں کی جبری ہجرت پر ٹرمپ مصر،مگر بین الاقوامی قوانین کیا کہتے ہیں؟
آرٹیکل 8 میں جبری ہجرت کو جنگی جرم کا درجہ دیتا ہے
دبئی، 29جنوری :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) اگرچہ مصر اور اردن فلسطینیوں کی بیرون ملک جبری ہجرت کے منصوبوں کو مسترد کر چکے ہیں تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ فلسطینیوں کی غزہ کی پٹی سے باہر منتقلی کی تجویز سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ ٹرمپ کے مطابق وہ مصری صدر کے ساتھ اس موضوع پر بات کر چکے ہیں۔دوسری جانب بین الاقوامی قانون کے ماہر اور بین الاقوامی قانون سے متعلق امریکی اور یورپی انجمنوں کے رکن ڈاکٹر محمد محمود مہران کا کہنا ہے کہ جبری ہجرت کی صورت میں فلسطینیوں کی غزہ کی پٹی سے باہر ہمسایہ ممالک منتقلی کے حوالے سے امریکی صدر کا بیان بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی اور جنگی جرائم پر اکسانے کے مترادف ہے۔
ڈاکٹر مہران کا کہنا تھا کہ چوتھا جنیوا کنونشن اپنے آرٹیکل 49 میں مقبوضہ اراضی سے افراد کی انفرادی یا اجتماعی جبری منتقلی کو قطعا ًممنوع قرار دیتا ہے۔ اسی طرح بین الاقوامی فوجداری عدالت کا ‘روم اسٹیچو’ اپنے آرٹیکل 8 میں جبری ہجرت کو جنگی جرم کا درجہ دیتا ہے جس پر عدالتی کارروائی لازم ہے۔بین الاقوامی قانون کے ماہر کے مطابق Additonal Protocal 1 کا آرٹیکل 85 شہری آبادی کی جبری منتقلی کو سنگین خلاف ورزی قرار دے کر اس کے خلاف عدالتی کارروائی کو لازم گردانتا ہے۔ بین الاقوامی فوجداری عدالت اس نوعیت کے جرائم پر قانونی کارروائی کا اختیار رکھتی ہے۔ڈاکٹر مہران نے واضح کیا کہ عالمی سلامتی کونسل کی 1967 میں منظور شدہ قرار داد 242 باور کراتی ہے کہ کسی سرزمین پر بزور طاقت قبضہ کرنا قانونا جائز نہیں ہے۔ اقوام متحدہ کے منشور کا آرٹیکل 1(2) اسی امر کی تصدیق کرتا ہے۔
منشور کے مطابق اقوام اور عوام کو اپنے راستے کے فیصلے کا حق حاصل ہے۔ علاوہ ازیں انسانی حقوق سے متعلق عالمی اعلان کا آرٹیکل 13 ہر فرد کو اپنی ریاست کی حدود کے اندر آمد و رفت اور اپنے قیام کی جگہ منتخب کرنے کا حق دیتا ہے۔ڈاکٹر مہران نے بتایا کہ شہری اور سیاسی حقوق سے متعلق بین الاقوامی سمجھوتا (ICCPR) اپنے پہلے آرٹیکل میں باور کراتا ہے کہ اقوام کو اپنا راستہ چننے اور اپنے ملک کی قدرتی دولت اور وسائل کے آزادانہ استعمال کا حق حاصل ہے۔ لہذا فلسطینی قوم بھی اپنی قانونی مزاحمت میں اسی موقف پر ڈٹی ہوئی ہے۔یاد رہے کہ 7 اکتوبر 2023 کو جنوبی اسرائیل پر حماس کے حملے کے بعد چھڑنے والی جنگ کے نتیجے میں غزہ کی پٹی کے تقریبا 24 لاکھ افراد بے گھر ہو گئے۔



