بین الاقوامی خبریںسرورق

ٹرمپ پر ریکارڈ میں جعلسازی کے 34 الزامات عائد

ٹرمپ نے اپنے خلاف عدالتی کارروائی کو امریکہ کی توہین قرار دے دیا

واشنگٹن،4اپریل:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) امریکہ کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر جنسی تعلقات پر دو خواتین کو رقم کی ادائیگی سمیت 34 الزامات عائد کردیئے گئے جبکہ انہوں نے صحت جرم سے انکار کیا ،تاہم امریکا میں تاریخ رقم ہوگئی۔رپورٹ میں بتایا کہ ٹرمپ جب عدالت میں پیش ہوئے تو ان پر فرد جرم کھول دیا گیا اور بتایا گیا کہ ٹرمپ اور دیگر نے 2016 میں امریکی انتخابات سے قبل انتخابی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اپنے بارے میں منفی خبریں ایک منصوبے کے تحت روک دیں اور دو خواتین سابق پورن اداکارہ اسٹورمی ڈینیئلز اور ماڈل کیرن مک ڈوگل ہیں۔نیویارک کے ڈسٹرکٹ اٹارنی ایلون بریگ کے مطابق الزام ہے کہ سابق صدر کی جانب سے ٹرمپ ٹاور کے دربان کو رقم دی گئی، جنہوں نے کہا کہ ان کا شادی کے بعد ایک بچہ ہے۔ڈونلڈ ٹرمپ عدالت میں سماعت کے بعد فلوریڈا میں واقع اپنی رہائش گاہ مار لیگو پہنچے جہاں وہ اپنے وکلا کے ہمراہ تھے۔ ایک سوال پر 76 سالہ ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ مجرم نہیں ہیں۔

ٹرمپ کے ایک وکیل ٹوڈ بلینچے نے صحافیوں کو بتایا کہ ہم مقدمہ لڑنے جا رہے ہیں اور پوری تندہی سے لڑیں گے اور کہا کہ ٹرمپ مذکورہ الزامات پر غصے میں تھے اور بے چین تھے۔وکیل نے کہا کہ اس کے باوجود ٹرمپ ہشاش بشاش تھے اور وہ یہاں نہیں رکیں گے اور نہیں نیچا نہیں دکھایا جاسکتا جبکہ انہیں اس سب کا ادراک تھا۔جج نے اگلی سماعت 4 دسمبر کو مقرر کی اور کسی بھی فریق کے حوالے سے حکم نامہ جاری نہیں کیا۔پراسیکیوٹر کا کہنا تھا کہ ٹرمپ کے خلاف چند ثبوت ستمبر 2016 میں آڈیو ریکارڈنگ سے حاصل کیے گیئے تھے جس میں وہ اور ان کے اٹارنی اس حوالے سے بات کر رہے تھے کہ وہ کس طرح ان کے حوالے سے خبریں دبائیں۔انہوں نے کہا کہ ٹرمپ نے اپنے وکیل کو چیک جاری کیا تاکہ وہ جعل سازی کرے اور کہا گیا کہ وہی رقم معاہدے کا حصہ ہے۔

فرد جرم میں مزید بتایا گیا کہ ٹرمپ نے فراڈ کی نیت سے اپنی رئیل اسٹیٹ کمپنی کے ریکارڈ سے متعلق بھی جعل سازی کی۔ری پبلکن کی جانب سے امریکی صدارتی انتخابات کے سرفہرست امیدوار ٹرمپ نے کہا کہ وہ کمرہ عدالت میں داخل ہوئے تو کچھ نہیں تھا اور بمشکل ایک گھنٹے بعد وہاں سے واپس ہوئے۔ ٹرمپ نے اس سے قبل الزامات کو سیاسی بنیاد پر تیار کیے گئے الزامات سے تعبیر کیا تھا۔نیویارک کے قانون کے مطابق دونوں مقدمات میں سزا 100 سال سے زیادہ قید ہے لیکن اگر اگر ان پر جرم ثابت ہوجاتا ہے تو اصل سزا اس سے کم ہوگی۔ مین ہیٹن گرینڈ جیوری کو ڈسٹرکٹ اٹارنی ایلوین بریگ نے آگاہ کیا کہ فرد جرم عائد کرنے کے بعد ٹرمپ کو ثبوت کے طور پر سنایا گیا کہ 2016 کی صدارتی مہم کے دوران ڈینیئلز کو تقریباً ایک لاکھ 30 ہزار ڈالر ادا کیے۔اٹارنی نے بتایا کہ ڈینیئلز نے کہا تھا کہ انہیں 2006 میں لیک ٹاہوئے ہوٹل میں ٹرمپ کے ساتھ جنسی تعلق کے حوالے سے خاموش رہنے کے لیے ادائیگی کی گئی تھی۔

ٹرمپ نے اپنے خلاف عدالتی کارروائی کو امریکہ کی توہین قرار دے دیا

 واشنگٹن،4اپریل :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)امریکہ کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے خلاف عدالتی کارروائی کو ملک کی توہین قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ وہ کبھی سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ امریکہ میں ایسا بھی ہو گا۔ٹرمپ منگل کو نیویارک کی مقامی عدالت میں پیشی کے بعد واپس ریاست فلوریڈا میں موجود اپنی رہائش گاہ مارا لاگو پہنچے جہاں انہوں نے اپنے حامیوں سے خطاب کیا۔ٹرمپ نے کہا کہ ان کا واحد جرم یہ ہے کہ انہوں نے اپنے ملک کا بے خوف انداز میں ان لوگوں سے دفاع کیا جو اسے تباہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔واضح رہے کہ سابق صدر کو 2016 کے صدارتی انتخابات سے قبل ایک پورن اداکارہ اسٹارمی ڈینیئلز کو خاموش رہنے کے لیے ایک لاکھ 30 ہزار ڈالر کی ادائیگی کے مقدمے کا سامنا ہے۔مین ہٹن کی ایک عدالت نے منگل کو ٹرمپ پر مذکورہ مقدمے میں 34 الزامات عائد کیے ہیں تاہم سابق صدر نے ان الزامات کی صحت سے انکار کیا ہے۔عدالت میں پیشی کے بعد فلوریڈا پہنچنے پر ٹرمپ نے لگ بھگ 25 منٹ تک اپنے حامیوں سے خطاب کیا۔ یہ خطاب ٹرمپ کے حالیہ خطبات سے نسبتاً کم دورانیے کا تھا۔

ٹرمپ نے الزام عائد کیا کہ مخالفین 2024 کے صدارتی انتخابات میں ان کی متوقع کامیابی روکنے کے لیے ان کے خلاف قانونی محاذ کھولے ہوئے ہیں۔ تاہم انہوں نے ان دعووں سے متعلق کوئی ثبوت فراہم نہیں کیے۔سابق صدر نے مین ہٹن ڈسٹرکٹ اٹارنی بریگ پر بھی تنقید کی اور کہا کہ الزامات عائد کرنے سے پہلے وہ مجھے اچھی طرح جانتے تھے۔ ٹرمپ نے اپنے خلاف مقدمے کی سماعت کرنے والے جج جوآن مرچن کو بھی متعصب جج قرار دیا۔ٹرمپ نے اپنے خلاف جاری کیسز کو انتخابی عمل میں بڑے پیمانے پر مداخلت قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی مداخلت پہلے کبھی نہیں دیکھی۔یاد رہے کہ ٹرمپ کو ایسے موقع پر عدالتی کارروائی کا سامنا ہے جب وہ 2024 کے صدارتی انتخابات کی تیاریوں میں مصروف ہیں اور ری پبلکن جماعت کی جانب سے صدارتی نامزدگی کی دوڑ میں وہ آگے دکھائی دے رہے ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button