قومی خبریں

ٹرمپ کے بیان سے ایشیائی منڈیوں میں دباؤ،شیئر بازار میں بڑی گراوٹ

خام تیل کی قیمت میں غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا

نئی دہلی 02 اپریل:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے حالیہ بیان نے نہ صرف عالمی مالیاتی منڈیوں بلکہ ایشیائی بازاروں کو بھی شدید دباؤ میں مبتلا کر دیا ہے۔ جنگ کے فوری خاتمے سے متعلق واضح اشارے نہ ملنے کے باعث سرمایہ کاروں میں بے چینی بڑھ گئی، جس کا براہِ راست اثر بھارتی شیئر بازار پر بھی دیکھنے کو ملا۔

ادھر خام تیل کی قیمت میں غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور یہ بڑھ کر تقریباً 105 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جس نے توانائی کے اخراجات اور مہنگائی کے خدشات کو مزید بڑھا دیا۔ اسی پس منظر میں جمعرات کو دلال اسٹریٹ میں کاروبار کے آغاز کے ساتھ ہی شدید گراوٹ دیکھی گئی۔

گزشتہ بدھ کو جہاں سنسیکس اور نفٹی 50 میں ڈیڑھ فیصد سے زیادہ کی تیزی دیکھی گئی تھی، وہیں آج بازار کھلتے ہی دونوں اہم اشاریے تقریباً ڈیڑھ فیصد تک نیچے آ گئے۔ سنسیکس تقریباً 1500 پوائنٹس کی بھاری گراوٹ کے ساتھ کھلا، جس کے نتیجے میں صرف چند لمحوں میں سرمایہ کاروں کو تقریباً 11 لاکھ کروڑ روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑا۔

بی ایس ای کا مجموعی مارکیٹ کیپٹلائزیشن جو بدھ کے روز 422.01 لاکھ کروڑ روپے تھی، کم ہو کر تقریباً 412 لاکھ کروڑ روپے رہ گئی۔ صبح 09:16 بجے سنسیکس 1,385.82 پوائنٹس یا 1.89 فیصد کی کمی کے ساتھ 71,748.50 پر ٹریڈ کر رہا تھا، جبکہ نفٹی 426.40 پوائنٹس یا 1.88 فیصد گر کر 22,253.00 پر آ گیا۔

بازار کی وسعت بھی منفی رہی، جہاں صرف 566 شیئرز میں اضافہ دیکھا گیا، جبکہ 1823 شیئرز میں گراوٹ آئی اور 130 شیئرز میں کوئی خاص تبدیلی نہیں ہوئی۔

دوسری جانب ڈالر کی مضبوطی نے قیمتی دھاتوں کو بھی متاثر کیا، جس کے نتیجے میں سونے اور چاندی کی قیمتوں میں نمایاں کمی درج کی گئی۔ ماہرین کے مطابق عالمی سطح پر بڑھتی غیر یقینی صورتحال، توانائی بحران کے خدشات اور امریکی پالیسی کے امکانات نے سرمایہ کاروں کو محتاط بنا دیا ہے۔

معاشی ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر عالمی حالات میں استحکام پیدا نہ ہوا تو آنے والے دنوں میں بازار میں مزید اتار چڑھاؤ دیکھنے کو مل سکتا ہے، اور اس کا اثر صرف بھارت ہی نہیں بلکہ پوری عالمی معیشت پر پڑ سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button