ٹرمپ ایران جنگ ختم کرنے پر آمادہ، آبنائے ہرمز بند رہنے کی شرط بھی قابل قبول: رپورٹ
ایران کا سخت ردعمل،آبنائے ہرمز پر عالمی بے چینی برقرار
واشنگٹن 31 مارچ:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)امریکہ اور ایران کے درمیان جاری جنگ چوتھے ہفتے میں داخل ہو چکی ہے اور اسی دوران ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ وہ ایران کے خلاف فوجی مہم ختم کرنے پر آمادہ ہیں، چاہے آبنائے ہرمز بدستور بڑی حد تک بند ہی کیوں نہ رہے۔
امریکی اخبار کی رپورٹ کے مطابق ٹرمپ نے اپنے قریبی معاونین کو بتایا کہ آبنائے ہرمز کو فوری طور پر کھلوانے کے لیے وسیع فوجی کارروائی جنگ کو ان کی مقررہ مدت، یعنی چار سے چھ ہفتوں، سے آگے لے جا سکتی ہے، جس سے وہ گریز کرنا چاہتے ہیں۔ اسی لیے امریکی حکمت عملی کو تبدیل کرتے ہوئے پہلے ایران کی بحری صلاحیت کو کمزور کرنے اور میزائل ذخائر کو محدود کرنے پر توجہ دی جا رہی ہے، جس کے بعد جنگی سرگرمیوں کو مرحلہ وار ختم کیا جائے گا۔
سفارتی ذرائع کے مطابق امریکی قیادت اس بات پر بھی غور کر رہی ہے کہ کشیدگی کم کرنے کے لیے فوجی کارروائیوں کا خاتمہ کیا جائے، چاہے آبنائے ہرمز مکمل طور پر بحال نہ ہو۔ اس سوچ کے پیچھے بڑھتا ہوا معاشی دباؤ اور عالمی منڈیوں میں غیر یقینی صورتحال کو اہم عوامل قرار دیا جا رہا ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ جنگی مرحلے کے بعد امریکہ ایران پر سفارتی دباؤ بڑھائے گا تاکہ عالمی تجارت کے لیے اس اہم بحری راستے کو دوبارہ کھولا جا سکے۔ اگر سفارتی کوششیں ناکام رہیں تو یورپ اور خلیجی اتحادیوں کو اس عمل میں آگے لانے کی حکمت عملی اپنائی جا سکتی ہے، جبکہ فوجی آپشن تاحال موجود ہے مگر فوری ترجیح نہیں۔
دوسری جانب صدر ٹرمپ نے سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران نے آبنائے ہرمز نہ کھولا تو اس کے توانائی کے مراکز کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ تاہم مختلف مواقع پر انہوں نے اس راستے کی اہمیت کو کم بھی ظاہر کیا، جس سے امریکی پالیسی میں غیر یقینی کا تاثر پیدا ہوا ہے۔
ادھر ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق تہران حکومت آبنائے ہرمز پر اپنی گرفت مزید مضبوط بنانے کے اقدامات پر غور کر رہی ہے، جن میں جہازوں پر فیس عائد کرنے اور پابندیوں کے امکانات شامل ہیں۔ تاہم ایران کی جانب سے اس تازہ پیش رفت پر باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، البتہ علاقائی ذرائع کا کہنا ہے کہ تہران کشیدگی میں کمی کا خواہاں ہو سکتا ہے، بشرطیکہ اس کے بنیادی مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔
آبنائے ہرمز، جہاں سے دنیا کے تیل کی بڑی مقدار گزرتی ہے، اس کی طویل بندش عالمی معیشت کو شدید متاثر کر رہی ہے۔ تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے جبکہ کئی ممالک کو توانائی کی سپلائی میں رکاوٹوں کا سامنا ہے۔ کھاد اور سیمی کنڈکٹرز کی تیاری میں استعمال ہونے والے مواد کی قلت بھی صنعتی شعبے کو متاثر کر رہی ہے۔
دوسری جانب یہ تنازع خطے کے دیگر ممالک تک بھی پھیلتا دکھائی دے رہا ہے۔ اسرائیل، لبنان، یمن اور ترکی سے متعلق حالیہ عسکری پیش رفت نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے، جبکہ مختلف محاذوں پر حملوں اور جوابی کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ جنگ بندی کے اشارے امید کی کرن ہیں، تاہم موجودہ حالات میں مکمل استحکام کا حصول آسان نہیں۔ اگر یہ ممکنہ جنگ بندی عملی شکل اختیار کرتی ہے تو یہ نہ صرف خطے میں کشیدگی کم کرے گی بلکہ عالمی طاقتوں کے درمیان ایک نئے سفارتی دور کی بنیاد بھی رکھ سکتی ہے، تاہم اس کے لیے اعتماد سازی کے عملی اقدامات ناگزیر ہوں گے۔
عالمی برادری، خصوصاً یورپی ممالک، اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور کسی بھی مثبت سفارتی پیش رفت کو خوش آئند قرار دے رہے ہیں۔ مبصرین کے مطابق آنے والے دنوں میں پس پردہ مذاکرات میں تیزی آ سکتی ہے، جو خطے میں دیرپا امن کے لیے اہم ثابت ہو سکتی ہے۔



