امریکہ میں غیر قانونی تارکین کے لیے خطرے کی گھنٹی، ٹرمپ کا ملک گیر کریک ڈاؤن
صدر ٹرمپ کا غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف ملک گیر کارروائی کا حکم
واشنگٹن، 16 جون :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (ICE) کو تاریخ کے سب سے بڑے ملک گیر ڈیپورٹیشن آپریشن کا حکم دے دیا ہے، جس کا نشانہ امریکہ کے بڑے ڈیموکریٹ اکثریتی شہر ہوں گے، جن میں لاس اینجلس، نیویارک اور شکاگو سرفہرست ہیں۔
ٹرمپ نے اپنی سوشل میڈیا سائٹ "ٹروتھ سوشل” پر جاری بیان میں کہا:
"ہماری قوم کے ICE افسران جس حوصلے اور جانفشانی سے کام کر رہے ہیں، وہ قابلِ فخر ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف سخت کارروائی کریں تاکہ امریکی عوام کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔”
انہوں نے کہا کہ یہ آپریشن صرف ایک قانونی کارروائی نہیں بلکہ "قومی سلامتی، شہری حقوق، اور ریاستی خودمختاری” کی حفاظت کا مشن ہے۔
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ڈیموکریٹ پارٹی ان غیر قانونی تارکین وطن کو اپنے سیاسی مفادات کے لیے استعمال کرتی ہے، ان کے ذریعے ووٹ بنک بڑھایا جاتا ہے، فلاحی وسائل کا ناجائز فائدہ اٹھایا جاتا ہے، اور امریکہ کے اندرونی معاشرتی نظام کو بگاڑا جاتا ہے۔
"یہی شہر ڈیموکریٹس کا گڑھ ہیں، جہاں غیر قانونی تارکین وطن کے سہارے نہ صرف انتخابات میں دھاندلی کی جاتی ہے بلکہ شہری سہولیات پر بھی قبضہ کیا جاتا ہے۔ ہم ان جرائم زدہ علاقوں کو دوبارہ محفوظ، صاف، اور ترقی یافتہ بنانا چاہتے ہیں۔”
— صدر ٹرمپ
انہوں نے کہا کہ سینکچری شہروں میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو کام کرنے سے روکنا ایک قومی جرم کے مترادف ہے، اور یہ کہ اب ICE، بارڈر پٹرول، FBI، DEA اور دیگر اداروں کو مکمل اختیار دیا گیا ہے کہ وہ ان علاقوں میں موجود غیر قانونی افراد کی فوری شناخت، گرفتاری اور ملک بدری یقینی بنائیں۔
صدر ٹرمپ نے مزید کہا:
"ہم ایک نئے دور میں داخل ہو رہے ہیں جہاں ریاستی قوانین اور قومی سلامتی کو اولین حیثیت حاصل ہوگی۔ جو لوگ ہمارے قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہیں، ان کے لیے اب امریکہ میں کوئی جگہ نہیں ہوگی۔”
ان کا کہنا تھا کہ امیگریشن کے نام پر امریکہ کو ایک "تیسری دنیا کا منظرنامہ” بنایا جا رہا ہے، جس کا فوری تدارک ناگزیر ہے۔
اختتام پر ٹرمپ نے وفاقی اداروں کو پیغام دیا:
"آپ کو میرا مکمل تعاون حاصل ہے۔ جائیے، اور ملک کو غیر قانونی تارکین وطن کے بوجھ سے آزاد کرائیے۔”



