صہیونی مجرموں کو سزا سے بچانے اور فلسطین پر قبضے کو قائم رکھنے کے لیے ’ٹرمپ — نیتن یاھو پلان‘
ٹرمپ-نیتن یاھو منصوبہ: غزہ میں امن یا فلسطینی وجود کی نفی؟
غزہ :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور قابض اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاھو نے غزہ کے لیے نام نہاد "پرامن بقائے باہمی” منصوبہ پیش کیا ہے جسے وہ امن، تعمیر نو اور شہری مشکلات کے خاتمے کے نام پر پیش کر رہے ہیں۔ بظاہر یہ منصوبہ امداد اور بحالی کا عہد محسوس ہوتا ہے، مگر اس کے خدوخال اور شرائط کا جائزہ لینے پر واضح ہوتا ہے کہ یہ فلسطینی حقوق، خود ارادیت اور مزاحمتی قوتوں کے وجود کو ختم کرنے کی کوشش ہے۔
اس منصوبے کی نمایاں شقوں میں 72 گھنٹے کی عارضی جنگ بندی کے بدلے میں تمام اسرائیلی قیدیوں کی واپسی، تقریباﹰ دو ہزار فلسطینی قیدیوں کی جزوی رہائی، حماس اور دیگر گروہوں کو غیر مسلح کرنے اور ان کے ڈھانچے تباہ کرنے کی شرط، اور متاثرین کو غزہ سے باہر منتقل ہونے کے لیے محفوظ راستے فراہم کرنے کی تجاویز شامل ہیں۔ اس کے علاوہ "کونسل برائے امن” کے قیام اور ٹرمپ و ٹونی بلیئر کی سربراہی میں عبوری انتظام چلانے، "بین الاقوامی استحکام فورس” کے ذریعے بیرونی فوجی تعیناتی، اور امداد کو صرف "دہشت گردی سے پاک” علاقوں تک محدود رکھنے کی شقیں بھی ہیں۔ منصوبے میں تعمیر نو کو خصوصی اقتصادی زون اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے ساتھ جوڑا گیا ہے مگر فلسطینی ریاست کے قیام یا قابضیت کے خاتمے کا کوئی ذکر نہیں۔
اس منصوبے کا سب سے خطرناک پہلو یہ ہے کہ امداد کو سیاسی اور سکیورٹی شرائط کے تابع کر کے خوراک اور دوا کو ہتھیار بنایا جا رہا ہے، جو بنیادی انسانی حقوق اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ مزاحمتی قوتوں کو غیر مسلح کرنے کی شرط دراصل فلسطینی قوت کو مستقل طور پر ختم کرنے کی کوشش معلوم ہوتی ہے، جبکہ "کونسل برائے امن” کے ذریعے بیرونی عبوری اقتدار قائم کرنا فلسطینی عوام کی خود ارادیت اور مقامی قیادت کو نظرانداز کرنے کے مترادف ہے۔
قانونی اور اخلاقی نقطۂ نظر سے یہ منصوبہ جنگی جرائم کے مرتکبین کے خلاف احتساب کی راہ روکنے اور قابضیت کو باقاعدہ شکل دینے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ امدادی شرائط اور بیرونی فوجی نفری کی تعیناتی کے بغیر کسی عبوری انتظام کو بین الاقوامی شفافیت، مقامی شمولیت اور قانونی ضمانتوں کے ساتھ تسلیم نہیں کیا جانا چاہیے۔
معاشی طور پر خصوصی اقتصادی زون اور غیر ملکی سرمایہ کاری وقتی ترقی لا سکتے ہیں، مگر جب ریاستی خود ارادیت موجود نہ ہو تو یہ ترقی مقامی عوام کے مفاد میں بجائے بااختیار بنانے کے وسائل کی غصب کاری کا سبب بن سکتی ہے۔ دوبارہ آبادکاری اور زمین کی ملکیت کے امور میں شفافیت اور مقامی شمولیت کے بغیر بڑے معاشی منصوبے مقامی بے دخلی اور اقتصادی عدم مساوات کو بڑھا سکتے ہیں۔
حقیقی اور پائیدار حل اس میں مضمر ہے کہ فلسطینی خود اپنے مستقبل کے فیصلوں میں مکمل شرکت کریں، محاصرہ فوراً ختم کیا جائے، انسانی امداد بغیر سیاسی شرائط فراہم کی جائے، اور جنگی جرائم کے مرتکبین کے خلاف بین الاقوامی سطح پر احتساب ممکن بنایا جائے۔ صرف اسی صورت میں عزت، وقار اور بقا کی بنیاد پر حقیقی امن قائم کیا جا سکتا ہے۔



