قومی خبریں

غزہ سے فلسطینی انخلا کا ٹرمپ منصوبہ: ہم اپنے حصے کا کام کریں گے، اسرائیل

میرا خیال ہے صدر ٹرمپ کا یہ منصوبہ پہلا تازہ تصور

مقبوضہ بیت المقدس،10فروری :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ کو فلسطینیوں سے صاف کرنے کے منصوبے کی تحسین کی ہے۔ اگرچہ دنیا بھر سے ٹرمپ کے اس منصوبے پر تنقید و مذمت پر مبنی بیانات آ رہے ہیں۔اسرائیلی وزیراعظم نے اس تنقید و مذمت کی پروا کیے بغیر کہا ہے کہ اسرائیل صدر ٹرمپ کے منصوبے میں رنگ بھرنے کے لیے غزہ سے فلسطینیوں کے انخلاء کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔نیتن یاہو نے ان خیالات کا اظہار ‘فاکس نیوز’ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کیا ہے۔ ان کا یہ انٹرویو امریکی دورے کے اختتام کے موقع پر سامنے آیا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی غزہ سے فلسطینیوں کے نکالے جانے کے حوالے سے سامنے آنے والے منصوبے جس کے سامنے آنے پر دنیا بھر میں سخت تنقید کی جا رہی ہے، نیتن یاہو نے اس منصوبے کا پوری طرح دفاع کیا اور کہا کہ،میرا خیال ہے صدر ٹرمپ کا یہ منصوبہ پہلا تازہ تصور ہے جو برسوں بعد سامنے آیا ہے اور اس منصوبے میں اتنی جان ہے کہ یہ غزہ کو مکمل طور پر بدل دے گا۔میرے خیال میں یہ منصوبہ بالکل صحیح اپروچ پر مبنی ہے اور صحیح اپروچ کی نمائندگی کرتا ہے۔

ٹرمپ نے وہ سب کچھ کہہ دیا ہے کہ میں چاہتا ہوں کہ سارے دروازے کھول دوں اور انہیں موقع دوں کہ وہ غزہ سے نکل جائیں۔ اس دوران ہم غزہ کو نئے سرے سے تعمیر کر لیں، نیتن یاہو نے صدر ٹرمپ کے منصوبے کو بیان کرتے ہوئے کہا۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ ‘ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ کبھی نہیں کہا کہ اس مقصد کے لیے وہ اپنی مسلح افواج کو غزہ میں لائیں گے۔ جو امریکی فوج کے کرنے کا کام ہوگا وہ غزہ میں ہم کریں گے۔ نیتن یاہو نے یہ بات کھلے انداز میں بیان کی۔

خیال رہے اسرائیل نے غزہ پر 1967 پر قبضہ کیا تھا اور اس قبضے کو 2005 تک جاری رکھا گیا۔ تاہم 2005 میں اسرائیل نے غزہ سے اپنی فوج نکالنے کے ساتھ ساتھ یہودی آبادکاروں کوبھی نکال لیا۔اس کے بعد اسرائیل نے غزہ کی ناکہ بندی شروع کردی۔ تاکہ حماس غزہ پر اپنی حکمرانی کو آسانی سے نبھا نہ سکے۔ اسی ناکہ بندی کے دوران حماس نے 7 اکتوبر 2023 کو اسرائیل پر ایک مثالی حملہ کر دیا۔ اس طرح کا حملہ اسرائیل پر اس سے پہلے کبھی نہیں ہوا تھا۔

اسرائیل و حماس کے درمیان غزہ میں کئی جنگیں ہوئی ہیں۔ تاہم جو جنگ اکتوبر 2023 میں شروع ہوئی اور اب تک کے فیصلے کے مطابق 19 جنوری 2025 تک لڑی جاتی رہی ہے، اس کی ماضی میں کبھی مثال نہیں تھی۔ یہ جنگ انسانی ہلاکتوں، گھروں، سکولوں، ہسپتالوں مسیت مساجد و گرجا گھروں کی تباہی کی ایک بدترین مثال کے طور پر یاد رکھی جائے گی۔ اس میں 48000 سے زائد فلسطینیوں میں سے دو تہائی خواتین اور بچے جنگ میں اسرائیل کی طرف سے قتل کیے گئے ہیں۔نیتن یاہو نے کہا ‘یہ وہی پرانا منصوبہ ہے جو ہم چلا رہے ہیں کہ غزہ کو حماس سے پاک کیا جائے۔

میراخیال ہے کہ ہمیں ٹرمپ کے اس منصوبے کی پیروی کرنی چاہیے۔انہوں نے نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ اہم معاملہ یہ ہے کہ غزہ کے لوگوں کو لینے کے لیے کون سا ملک تیار ہوگا۔ اسرائیلی رہنما نے کہا فلسطینیوں کو غزہ میں واپس آنے کے لیے دہشت گردی سے برائت کا اعلان کرنا پڑے گا۔نیتن یاہو نے کہا کہ ہر کوئی کہتا ہے کہ غزہ ایک کھلی جیل ہے۔ میں انہیں کہتا ہوں اگر وہ غزہ کے لوگوں کو جیل میں سمجھتے ہیں تو وہ انہیں اپنے ہاں لے کیوں نہیں جاتے تاکہ وہ کھلی فضا میں سانس لے سکیں۔نیتن یاہو نے مزید کہا ‘اگر وہ نیک لوگ انہیں لے جائیں گے جو یہ کہتے ہیں کہ ہم نے انہیں جیل میں رکھا ہے تو پھر نہ زبردستی نکالنا ہوگا، نہ نسلی صفائی ہوگی اور نہ ہی لوگوں کو ملک سے باہر نکلنے کا خوف ہوگا۔

انتہا پسند قابض ذہنیت فلسطینی علاقوں کا مطلب نہیں سمجھ رہی ہے: سعودی عرب

ریاض،10فروری :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کی جانب سے غزہ کی پٹی سے فلسطینیوں کی منتقلی کی ضرورت کے اعادہ کے بعد سعودی عرب نے مسئلہ فلسطین پر اپنے مضبوط موقف کی تجدید کی اور نقل مکانی کو مسترد کردیا ہے۔ سعودی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ فلسطینی عوام کا اپنی سرزمین پر حق ہے۔وہ فلسطین میں دخل اندازی کرنے والے یا تارکین وطن نہیں ہیں۔ فلسطینی عوام کا حق مضبوطی سے قائم رہے گا اور کوئی بھی، چاہے جتنا طویل وقت لگا لے، ان سے ان کا یہ حق چھین نہیں سکتا۔سعودی عرب نے فلسطینیوں کی نقل مکانی کے بارے میں اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے بیانات کو مسترد کرتے ہوئے مسئلہ فلسطین کی مرکزیت پر زور دینے والے موقف کو سراہا اور اس بات پر زور دیا کہ دو ریاستی حل کے ذریعے بقائے باہمی کے اصول کو قبول کرنے کے سوا مستقل امن حاصل نہیں کیا جا سکتا۔

سعودی عرب نے فلسطینیوں کو اپنی سرزمین سے بے گھر کرنے کے حوالے سے دیگر ملکوں کی مذمت کو بھی سراہا۔ سعودی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب ایسے بیانات کو دوٹوک طور پر مسترد کرتا ہے جس کا مقصد اسرائیل کے پے درپے جرائم سے توجہ ہٹانا ہے۔سعودی عرب نے نشاندہی کی کہ یہ انتہا پسند قابض ذہنیت نہیں سمجھتی کہ فلسطینی سرزمین فلسطین کے عوام کے لیے کیا معنی رکھتی ہے۔ اس سرزمین سے ان کا جذباتی، تاریخی اور قانونی تعلق کیا ہے؟ یہ ذہنیت نہیں سمجھتی کہ فلسطینی عوام کو زندگی گزارنے کا بنیادی حق حاصل ہے۔ اسی ذہنیت نے غزہ کی پٹی کو مکمل طور پر تباہ کردیا ہے اور وہا ں بسنے والے ایک لاکھ 60 ہزار افراد کو قتل اور زخمی کردیا ہے۔ فلسطین کے ان مقتولین اورزخمیوںمیں زیادہ تر خواتین اور بچے شامل ہیں

متعلقہ خبریں

Back to top button