
ٹرمپ نے AI کا نام بدلنے کا اعلان کیا، امریکی حکومت اب ’سپر انٹیلی جنس‘ اور ’SI‘ استعمال کرے گی
ٹرمپ اور بڑی ٹیک کمپنیوں نے ’سپر انٹیلی جنس‘ معاہدے پر دستخط کر دیے، AI کی جگہ SI اصطلاح استعمال ہوگی
واشنگٹن، 30 ستمبر (اردو دنیا نیوز/ایجنسیز) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مصنوعی ذہانت کے حوالے سے امریکی انتظامیہ کی سرکاری اصطلاح میں تبدیلی کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ وفاقی حکومت اب Artificial Intelligence (AI) کے بجائے Super Intelligence (SI) کی اصطلاح استعمال کرے گی۔ یہ اعلان وائٹ ہاؤس میں ٹیکنالوجی کے شعبے سے وابستہ بڑے ماہرین اور کمپنیوں کے سربراہان کے ساتھ ملاقات کے بعد سامنے آیا۔
ٹرمپ نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ وہ مصنوعی ذہانت کی اصطلاح تبدیل کرنے سے متعلق ایک دستاویز پر دستخط کر رہے ہیں۔ امریکی صدر کے مطابق جدید ٹیکنالوجی کو محض ’’آرٹیفیشل‘‘ کہنا اس کی موجودہ اور مستقبل کی صلاحیتوں کی مکمل عکاسی نہیں کرتا، اسی لیے انتظامیہ نے اس کے لیے ’’سپر انٹیلی جنس‘‘ کی اصطلاح اختیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
وائٹ ہاؤس میں ہونے والی اس ملاقات میں ٹیکنالوجی کی دنیا کی کئی بڑی شخصیات شریک ہوئیں، جن میں میٹا کے سی ای او مارک زکربرگ، گوگل کے سی ای او سندر پچائی، ایکس اے آئی کے بانی ایلون مسک اور دیگر اہم ٹیک کمپنیوں کے سربراہان شامل تھے۔ اجلاس میں جدید ٹیکنالوجی کی ترقی، اس کے محفوظ استعمال اور مستقبل میں اس کی حکومتی سطح پر اہمیت سمیت مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
صدر ٹرمپ کی جانب سے دستخط کیے گئے دستاویز میں امریکی وفاقی حکومت کے لیے ٹیکنالوجی سے متعلق اصطلاحات کے استعمال کی نئی پالیسی بیان کی گئی ہے۔ دستاویز کے مطابق سرکاری اداروں کو ایسی زبان استعمال کرنی چاہیے جو جدید ٹیکنالوجی کی بڑھتی ہوئی صلاحیت، اس کے امکانات اور امریکی عوام کے لیے پیدا ہونے والے نئے مواقع کی بہتر عکاسی کرے۔
دستاویز میں ’’Super Intelligence‘‘ کو ایسی اصطلاح قرار دیا گیا ہے جو جدید ٹیکنالوجی کی طاقت، اس کے وسیع امکانات اور تیزی سے بڑھتی ہوئی صلاحیتوں کو ’’Artificial Intelligence‘‘ کے مقابلے میں زیادہ مناسب انداز میں بیان کرتی ہے۔
نئی پالیسی کے تحت امریکی انتظامیہ کی ایگزیکٹو برانچ، جہاں قانون اجازت دیتا ہو، سرکاری امور میں ’’Artificial Intelligence‘‘ اور ’’AI‘‘ کے بجائے ’’Super Intelligence‘‘ اور ’’SI‘‘ کی اصطلاحات استعمال کرے گی۔ اس تبدیلی کا اطلاق وفاقی حکومت کے متعلقہ سرکاری کام اور دستاویزات میں کیا جائے گا۔
ٹرمپ انتظامیہ نے جدید مصنوعی ذہانت اور کمپیوٹنگ ٹیکنالوجی کو امریکی اقتصادی اور تزویراتی پالیسی کا اہم حصہ بنایا ہوا ہے۔ صدر ٹرمپ پہلے بھی جدید AI ٹیکنالوجی کی ترقی کو امریکہ اور چین کے درمیان عالمی تکنیکی مقابلے سے جوڑ چکے ہیں۔
اسی سلسلے میں وائٹ ہاؤس میں بڑی ٹیک کمپنیوں کے ساتھ ایک الگ معاہدہ بھی سامنے آیا ہے، جس میں جدید ’’سپر انٹیلی جنس‘‘ نظام کی تیاری اور تعیناتی کے دوران حفاظتی اقدامات کو مضبوط بنانے پر اتفاق کیا گیا ہے۔
معاہدے کے تحت متعلقہ کمپنیوں نے اپنے جدید ماڈلز کے لیے متعدد سطحوں پر حفاظتی نگرانی قائم کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ اس میں کمپنی کے اندر حفاظتی کنٹرولز، ماڈلز کی نگرانی، خطرات کی نشاندہی اور خامیوں کو دور کرنے کے لیے مخصوص ٹیمیں شامل ہوں گی۔
اس کے علاوہ بیرونی اور آزاد آڈیٹرز کے ذریعے حفاظتی نظام کا جائزہ لینے کی بھی تجویز شامل ہے۔ کمپنیوں کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی سطح پر بھی نگرانی کا انتظام رکھنے پر اتفاق کیا گیا ہے تاکہ داخلی اور بیرونی آڈٹ سے سامنے آنے والے معاملات کا جائزہ لیا جا سکے۔
یہ حفاظتی اقدامات سائبر سیکیورٹی، بائیو سیکیورٹی اور کیمیائی خطرات جیسے حساس شعبوں پر بھی توجہ مرکوز کریں گے۔ معاہدے میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ جدید AI یا SI ماڈلز کو اس انداز میں تیار کیا جائے کہ وہ غیر ارادی طور پر کسی تکنیکی نظام میں مداخلت یا سائبر حملے کا ذریعہ نہ بنیں۔
معاہدے میں شامل ٹیک کمپنیوں نے مستقبل میں حفاظتی معیارات اور بہترین طریقہ کار وضع کرنے کے لیے باقاعدگی سے باہمی مشاورت جاری رکھنے پر بھی اتفاق کیا ہے۔ اس کے ساتھ یہ امکان بھی ظاہر کیا گیا ہے کہ وقت کے ساتھ ان میں سے بعض حفاظتی اصولوں کو قانونی یا ضابطہ جاتی شکل دی جا سکتی ہے۔
وائٹ ہاؤس کی اس نئی پالیسی اور ٹیک کمپنیوں کے معاہدے کو ایک ہی وسیع حکمت عملی کے دو حصوں کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس میں امریکہ جدید ترین کمپیوٹنگ ٹیکنالوجی کی ترقی کو تیز کرنے کے ساتھ اس کے ممکنہ خطرات سے نمٹنے کے لیے حفاظتی نظام بھی مضبوط کرنا چاہتا ہے۔
ٹرمپ نے جدید ’’سپر انٹیلی جنس‘‘ کی عالمی اہمیت پر بات کرتے ہوئے اسے امریکہ اور چین کے درمیان تزویراتی مقابلے سے بھی جوڑا ہے۔ امریکی صدر کے مطابق مستقبل میں اس ٹیکنالوجی کی برتری عالمی طاقت کے توازن پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔
یوں وائٹ ہاؤس کی تازہ سرگرمیوں میں ایک جانب جدید ٹیکنالوجی کے لیے AI سے SI یعنی Super Intelligence کی سرکاری اصطلاح اپنانے کا فیصلہ سامنے آیا ہے، جبکہ دوسری جانب بڑی ٹیک کمپنیوں سے جدید ترین نظاموں کی حفاظت، آزادانہ جانچ اور بورڈ سطح کی نگرانی کے حوالے سے وعدے لیے گئے ہیں۔



