ایران کے تین جوہری مراکز پر امریکی حملہ، فورڈو پر مکمل بمباری
ایران پر امریکی حملے کے بعد خطے میں کشیدگی میں غیر معمولی اضافہ
واشنگٹن :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ امریکہ نے ایران کے تین اہم جوہری مراکز پر فضائی حملہ کیا ہے، (یہ حملہ اتوار کو بھارتی وقت کے مطابق صبح ساڑھے چار بجے ہوا۔)جن میں فورڈو، نطنز اور اصفہان شامل ہیں۔ یہ اعلان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور اسرائیل کے درمیان شدید جنگ جاری ہے، اور اب امریکہ کی اس کارروائی سے خطے میں تنازع مزید شدت اختیار کر گیا ہے۔
ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر جاری پیغام میں کہا کہ امریکی طیاروں نے ان تینوں جوہری تنصیبوں پر "کامیاب حملہ” کیا ہے۔ خاص طور پر فورڈو مرکز پر مکمل بمباری کی گئی جو ایران کی زیر زمین حساس ترین تنصیب سمجھی جاتی ہے۔
انہوں نے اپنے بیان میں کہا: "ہم نے ایران کے تین جوہری مراکز پر کامیاب حملہ مکمل کر لیا ہے، جن میں فورڈو، نطنز اور اصفہان شامل ہیں۔ تمام طیارے اب ایران کی فضائی حدود سے باہر ہیں اور محفوظ طریقے سے واپس جا رہے ہیں۔ فورڈو پر مکمل بمباری کی گئی۔ ہمارے عظیم امریکی سپاہیوں کو مبارکباد! دنیا میں ایسا کارنامہ کوئی اور فوج انجام نہیں دے سکتی۔ اب وقت ہے امن کا!”
ذرائع کے مطابق، فورڈو اور نطنز ایران کی یورینیم افزودگی کی دو اہم ترین تنصیبات ہیں، جہاں سے ایران اپنے جوہری پروگرام کو فروغ دے رہا تھا۔ نطنز پر اس سے پہلے اسرائیلی حملہ ہو چکا تھا، لیکن اس بار امریکی حملہ بڑے پیمانے پر ہوا ہے۔
سی این این کی رپورٹ کے مطابق، جمعہ کی شب (مقامی وقت) ریاست میسوری کے وائٹمین ایئر فورس بیس سے کئی B-2 اسٹیلتھ بمبار طیارے روانہ ہوئے اور مغرب کی جانب جاتے دیکھے گئے۔ اگرچہ یہ واضح نہیں ہوا کہ یہی طیارے ایرانی جوہری تنصیبات پر حملے میں شامل تھے یا نہیں، لیکن ان میں "بَنکر بسٹر” بم لے جانے کی صلاحیت موجود ہے، جو فورڈو جیسے زیرزمین اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے موزوں ہیں۔
نیویارک ٹائمز کے مطابق، ایران کے اندر اس نوعیت کی امریکی کارروائی 1979ء کے اسلامی انقلاب کے بعد پہلی بار ہوئی ہے، جسے ایران پر براہ راست جنگی کارروائی تصور کیا جا رہا ہے۔ اس اقدام کے ذریعے امریکہ نے پہلی بار ایران کے اندر کسی اہم تنصیب کو نشانہ بنایا ہے، جو بین الاقوامی سطح پر ایک اہم تبدیلی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
اصفہان میں موجود تیسرا ہدف وہ مقام تھا جہاں ایران کا قیمتی افزودہ یورینیم ذخیرہ کیا گیا ہے، جسے جوہری ہتھیاروں کے قریب ترین سطح تک تیار کیا جا چکا ہے۔
اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ نویں روز میں داخل ہو چکی ہے۔ اسرائیل نے 13 جون کو ایران پر ’آپریشن رائزنگ لائن‘ کے تحت جوابی فضائی حملے کیے تھے۔ اس کے ردعمل میں ایران نے ’آپریشن ٹرو پرومس 3‘ کے نام سے اسرائیلی تنصیبات پر میزائل اور ڈرون حملے کیے۔ اب امریکہ کی براہ راست شمولیت نے اس تنازعے کو عالمی جنگ کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔
امریکی حملے میں خاص طور پر B-2 اسٹیلتھ بمبار طیارے استعمال کیے گئے جنہوں نے فردو پر چھ GBU-57 Massive Ordnance Penetrator بنکر بسٹر بم گرائے۔ یہ بم 30,000 پاؤنڈ وزنی ہوتے ہیں اور زیرزمین گہرائی میں چھپے اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ نطنز اور اصفہان پر 30 ٹام ہاک میزائل داغے گئے جنہیں امریکی بحریہ نے لانچ کیا۔
صدر ٹرمپ نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک "بہت کامیاب فوجی آپریشن” تھا، جس کا مقصد ایران کے جوہری پروگرام کو روکنا ہے۔ انہوں نے کہا، "ایران، مشرق وسطیٰ کا بدمعاش، اب امن اختیار کرے، ورنہ اسے اس سے کہیں بڑی تباہی کا سامنا کرنا ہوگا۔”
اسرائیل کی خوشی
اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے صدر ٹرمپ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ "امریکہ نے بھرپور طاقت کا مظاہرہ کیا ہے اور تاریخ گواہ ہوگی کہ صدر ٹرمپ نے دنیا کے خطرناک ترین نظام کو مہلک ہتھیاروں سے روکنے کے لیے بروقت اقدام کیا۔” اسرائیلی فضائیہ نے اس سے قبل نو دنوں تک ایران کی دفاعی تنصیبات پر بمباری کی، جس نے امریکی حملے کی راہ ہموار کی۔
ایران کی مذمت اور انتقام کی دھمکی
ایرانی جوہری توانائی تنظیم نے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ایرانی صدر مسعود پزیشکیان نے کہا کہ ایران اپنا جوہری پروگرام کسی صورت نہیں روکے گا۔ سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے خبردار کیا کہ امریکی مداخلت سے "ناقابل تلافی نقصان” ہوگا۔
ایران کی جانب سے اسرائیل پر خودکش ڈرون حملے کیے گئے ہیں، جب کہ یمن میں حوثی ملیشیا نے امریکہ کے خلاف بحیرہ احمر میں دوبارہ حملے شروع کرنے کی دھمکی دی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ اگر حملے جاری رہے تو ردعمل مزید "تباہ کن” ہوگا۔
فردو جیسے مقامات جہاں 60 فیصد یورینیم کی افزودگی ہو رہی تھی، وہاں حملے سے تابکاری کے اخراج کا شدید خطرہ ہے۔ Arms Control Association نے حملوں کو "غیر ذمہ دارانہ” قرار دیا اور کہا کہ اس سے ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی ترغیب مل سکتی ہے۔
خطے میں کشیدگی بڑھنے کے خدشے کے تحت سعودی عرب اور مصر نے حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسرائیل پر الزام لگایا کہ وہ "علاقائی امن کو تباہ” کر رہا ہے۔ یورپی یونین نے تمام فریقین سے مذاکرات کی طرف واپس آنے کی اپیل کی ہے۔ اس صورتحال پر او آئی سی نے استنبول میں ہنگامی اجلاس طلب کیا ہے۔
امریکی سیاسی حلقے بھی تقسیم نظر آتے ہیں۔ ریپبلکن سینیٹر لنڈسی گراہم اور جان کارنن نے ٹرمپ کے اقدام کو سراہا، جب کہ کانگریس مین تھامس میسی نے اسے آئین کے خلاف قرار دیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمن نے بھی اس حملے کی حمایت کی، ایران کو عالمی خطرہ قرار دیتے ہوئے۔



