ٹرمپ کا انتباہ: حماس نے یرغمالیوں کو رہا نہ کیا تو سنگین نتائج بھگتنا ہوں گے!
اگر یرغمالیوں کو نہ چھوڑا تو حماس کے لیے کوئی جگہ نہیں
واشنگٹن:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کی رات ایک سخت بیان میں فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس کو کھلی دھمکیاں دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر اسرائیلی یرغمالیوں کو فوری طور پر رہا نہیں کیا گیا، تو "حماس کا خاتمہ یقینی ہے۔”
ٹرمپ نے اپنی سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں کہا، "حماس یا تو فوراً تمام یرغمالیوں کو رہا کرے اور مرنے والوں کی لاشیں واپس کرے، ورنہ ان کا وجود ختم ہو جائے گا۔” انہوں نے مزید کہا کہ وہ اسرائیل کو ہر وہ چیز فراہم کر رہے ہیں جو "حماس کے خلاف مشن مکمل کرنے کے لیے درکار ہے۔”
"اگر یرغمالیوں کو نہ چھوڑا تو حماس کے لیے کوئی جگہ نہیں!”
ٹرمپ نے حماس کی قیادت کو خبردار کیا کہ "یہ ان کے لیے آخری موقع ہے کہ وہ غزہ چھوڑ دیں، ورنہ انجام سنگین ہوگا۔” انہوں نے مزید کہا، "کوئی بھی حماس کا رکن محفوظ نہیں رہے گا اگر انہوں نے میرے کہے پر عمل نہ کیا۔”
انہوں نے حماس کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا، "صرف ذہنی بیمار اور پاگل لوگ ہی نعشوں کو اپنے پاس رکھتے ہیں، اور تم لوگ بھی ایسے ہی ہو!”
ٹرمپ کا نیا موقف سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ٹروتھ سوشل” پر سامنے آیا ہے۔ امریکی صدر نے غزہ کے لوگوں پر زور دیا کہ وہ اس وقت درست فیصلہ کریں جب کہ حماس کی قیادت سے مطالبہ کیا کہ یہ ان کے غزہ سے چلے جانے کا مناسب وقت ہے۔واضح رہے کہ واشنگٹن حماس کو دہشت گرد تنظیموں میں شمار کرتا ہے۔دوسری جانب ایک با خبر اسرائیلی ذریعے نے بتایا ہے کہ حماس مذاکرات میں کسی لچک کا مظاہرہ نہیں کر رہی ہے۔
حماس اور امریکہ کے درمیان مذاکرات
یہ دھمکیاں ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب حماس کے نمائندے قطر کے دارالحکومت دوحہ میں امریکی حکومت کے ایلچی آدم بوهلر سے مذاکرات کر رہے تھے۔ ایک اعلیٰ حماس رہنما کے مطابق، یہ مذاکرات اس وقت شروع ہوئے جب ٹرمپ نے دو ہفتے قبل حماس سے کہا تھا کہ وہ "نیک نیتی” کے طور پر امریکی شہریوں کو رہا کرے۔
اس کے بعد، حماس نے اسرائیلی-امریکی یرغمالی ساگوی ڈیکل چین کو دیگر دو قیدیوں کے ساتھ رہا کیا۔ اس رہائی کو جنگ بندی معاہدے کے تحت چھٹے مرحلے کی قیدیوں کی تبادلے کی ایک کڑی سمجھا جا رہا ہے۔
اسرائیل کی ہٹ دھرمی اور جنگ بندی کا مستقبل
حماس کے رہنما نے کہا کہ تنظیم نے ایک جامع معاہدے کی پیشکش کی تھی جس میں جنگ کے مکمل خاتمے کی تجویز شامل تھی، مگر اسرائیل کی جانب سے تاخیر اور معاہدے سے انحراف کے باعث جنگ بندی کا دوسرا مرحلہ شروع نہ ہو سکا۔
دوسری جانب، اسرائیلی حکومت نے غزہ کے لیے انسانی امداد کو مکمل طور پر معطل کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں 1.9 ملین سے زائد فلسطینی بےگھر ہو چکے ہیں اور شدید قحط کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
واشنگٹن نے تصدیق کی ہے کہ اس نے اسرائیل کے مشورے سے فلسطینی تنظیم حماس کے ساتھ براہ راست خفیہ رابطے کیے۔
اردو دنیا واٹس ایپ گروپ میں شامل ہونے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں
https://chat.whatsapp.com/2N8rKbtx47d44XtQH66jso



