حماس فوراً ہتھیار ڈالے، ورنہ بھاری قیمت چکانا ہوگی: ٹرمپ
اسرائیل کو امریکی حمایت کا اعلان، غزہ، ایران اور مشرق وسطیٰ پر سخت مؤقف
واشنگٹن :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فلسطینی تنظیم حماس کو سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ فوری طور پر اپنے ہتھیار ڈال دے، بصورت دیگر اسے سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ٹرمپ نے واضح الفاظ میں کہا کہ اگر حماس نے اس پر عمل نہ کیا تو تمام تر ذمہ داری اسی پر عائد ہوگی۔
یہ بیان فلوریڈا میں اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاھو سے ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس میں دیا گیا۔ اس موقع پر ٹرمپ نے اعلان کیا کہ امریکہ اسرائیل کو ہر سطح پر غیر محدود حمایت فراہم کرتا رہے گا۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ انہوں نے نیتن یاھو کے ساتھ زیادہ تر اہم امور پر اتفاق کر لیا ہے اور اسرائیل نے غزہ سے متعلق اپنی ذمہ داریاں پوری کی ہیں۔ ان کے مطابق حماس کی جانب سے ہتھیار ڈالنے کے اشارے ضرور ملے ہیں، مگر اگر یہ عمل مکمل نہ ہوا تو سخت کارروائی ناگزیر ہوگی۔
غزہ کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے ایک متنازع بیان میں کہا کہ موجودہ حالات برقرار رہے تو ممکن ہے غزہ کے نصف باشندے وہاں سے نقل مکانی پر مجبور ہو جائیں۔ ان کے اس بیان کو خطے میں تشویش اور بحث کا باعث قرار دیا جا رہا ہے۔
مغربی کنارے کے حوالے سے امریکی صدر نے کہا کہ نیتن یاھو درست فیصلے کریں گے، تاہم انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ آباد کاروں کے مظالم اور تشدد کے معاملے پر دونوں کے درمیان مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا۔
ٹرمپ نے بتایا کہ امریکہ لبنان کی جانب سے حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کی کوششوں پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے اور اس عمل کی نگرانی کی جا رہی ہے۔
ایران کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ مذاکرات کے لیے تیار ہے، خاص طور پر ایران کے جوہری مقامات کو تباہ کرنے کے بعد بات چیت کا امکان موجود ہے۔ تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایران نے دوبارہ جوہری صلاحیت حاصل کرنے کی کوشش کی تو ہر ممکن خطرے کا خاتمہ کیا جائے گا۔
شام سے متعلق ٹرمپ نے کہا کہ وہ نیتن یاھو اور شامی صدر احمد الشرع کے درمیان تعلقات بہتر بنانے کی کوشش کریں گے۔ ان کے مطابق شام میں اقلیتوں کے تحفظ اور محفوظ سرحدوں کو یقینی بنایا جائے گا۔
اسی موقع پر اسرائیل کی جانب سے صدر ٹرمپ کے لیے نوبل امن انعام کی حمایت کا اعلان بھی سامنے آیا، جس پر نیتن یاھو نے کہا کہ ٹرمپ نے اسرائیل کو غیر معمولی اور غیر محدود حمایت فراہم کی ہے۔
واضح رہے کہ اس ملاقات سے قبل نیتن یاھو نے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے بھی ملاقات کی، جس میں خطے کی سلامتی اور اقتصادی تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کے لیے تعاون جاری رکھنے کی اہمیت پر زور دیا، جو ٹرمپ کے 2020 کے امن منصوبے سے ہم آہنگ ہے۔
یہ ملاقات فلوریڈا کے علاقے مارا لاگو میں ہوئی، جہاں نیتن یاھو نے صدر ٹرمپ کی رہائش گاہ پر ان سے ملاقات کی۔ یہ ٹرمپ کی دوبارہ صدارت کے بعد دونوں رہنماؤں کے درمیان پانچویں ملاقات تھی۔



