
یونانی ہلدی کو یونانی میں قدیم دور سے ہی ایک چمتکاری ادویہ کے طور پر پہنچانا جاتا ہے۔ یونانی میں ہلدی کو ایک اہم ادویہ کہا گیا ہے۔باورچی خانے میں اس کا اہم مقام ہے اور مذہبی طور پر اس کی بہت ا ہمیت ہے۔ شادی میں تو ہلدی کی رسم کا اپنا ایک خاص مقام ہے۔ہلدی میں ہوا میں تحلیل ہونے والا تیل 8ء 5 فیصد، پروٹین 3ء 6 فیصد، رقیق 1ء5 فیصد، معدنی اجزا 5ء 3 فیصد، کاربوہائیڈ ریٹ4ء 68 فیصد کے علاوہ وٹامن اے پایا جاتا ہے۔ ہلدی عمل انہضام کے مسائل ، جوڑوں کے درد، خون کے بہاؤ کے مسائل، کینسر، بیکٹیریا کے انفیکشن، ہائی بلڈ پریشر اور ایلڈیل کولیسٹرول کے مسائل اور جسم کے خلیوں کی ٹوٹ پھوٹ کی مرمت میں مفید ہے۔
اس کے علاوہ ہلدی کی ایک قسم کالی ہلدی کی شکل میں بھی ہوتی ہے۔ علاج کیلئے کالی ہلدی پیلی ہلدی کے مرکب سے زیادہ مفید ہوتی ہے۔گرم دودھ کے ساتھ ہلدی کا استعمال کرنے سے چوٹ کا درد، جسم کی ٹوٹ پھوٹ اور سوجن میں ہلدی راحت دلاتی ہے۔گرم دودھ میں ہلد ی اور کالی مرچ ملا کر پینے سے سردی لگ کر آنے والا بخار اور تکلیف دہ بیماریاں دور ہوتی ہے۔گرم دودھ میں ہلدی اور گھی ڈال کر پینے سے سردی، کھانسی، نزلہ اور زکام سے چھٹکارا ملتا ہے۔ ہلدی کو شہد کے ساتھ چاٹنے سے بلغمی کھانسی ختم ہوجاتی ہے۔
دودھ کے ساتھ ہلدی کا چورا لینے سے پیٹ کے کیڑے مرجاتے ہیں اور قبض بھی دور ہوتا ہے۔ پسی ہوئی ہلدی کو گھی میں بھون کر اس کے مرکب کو ہاتھ پیروں کی انگلیوں کے درمیان میں لگانے سے برسات کے دنوں کے زخم اور پھوڑے پھنسی کے زخم ٹھیک ہوجاتے ہیں۔بار بار پیشاب آنے کی پریشانی میں پانی کے ساتھ ہلدی کی پھنکی لینے سے پیشاب سے متعلق دشواریاں دور ہوجاتی ہیں۔ ہلدی اور نمک کی پھنکی سے گیس یا ہوا کا بننا بھی بند ہوجاتا ہے۔ ہلدی آنکھ کی بیماریوں میں بہت مفید ہے۔
آنکھیں آنے پر ہلدی کے پانی میں رنگے کپڑے کا ٹکڑا رکھنے اور اس سے آنکھوں کا میل پوچھنا فائدہ مند ہے۔ ہلدی پاؤڈر کا منجن کرنے سے دانت صاف ہوتے ہیں۔ ہلدی کے کسیلے اور کڑوے رس سے دانت اور مسوڑوں کو مضبوطی ملتی ہے۔ کسیلے رس سے مسوڑوں کی سوجن دور ہوتی ہے اور کڑوے رس سے دانتوں کے جراثیم خارج ہوجاتے ہیں۔



