سال میں دو انجکشن روزانہ بلڈ پریشر کی گولیوں کی جگہ لے سکتے ہیں، ماہرین کا دعویٰ
کیا سال میں دو بار لگنے والا انجکشن بلڈ پریشر کو قابو کرے گا؟ ہائپرٹینشن کے علاج میں بڑی تبدیلی متوقع
نئی دہلی 16 فروری:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) دنیا بھر میں ہائی بلڈ پریشر کے علاج کے طریقوں میں بڑی تبدیلی کی امید پیدا ہوگئی ہے۔ معروف طبی جریدے لینسیٹ میں شائع ایک نئی سائنسی جائزہ رپورٹ کے مطابق سال میں صرف دو مرتبہ لگنے والے انجکشن روزانہ گولیاں کھانے کی ضرورت کو کم کر سکتے ہیں، جس سے لاکھوں مریضوں کو طویل مدت تک بلڈ پریشر قابو میں رکھنے میں مدد مل سکتی ہے۔
طبی ماہرین کے مطابق ہائی بلڈ پریشر کو خاموش قاتل کہا جاتا ہے کیونکہ یہ ایک ارب سے زیادہ افراد کو متاثر کر رہا ہے۔ بھارت میں اندازاً ہر تین میں سے ایک بالغ فرد اس مرض میں مبتلا ہے، مگر شعور کی کمی اور باقاعدہ علاج نہ ہونے کے باعث صرف ایک چھوٹا طبقہ ہی اپنا بلڈ پریشر قابو میں رکھ پاتا ہے۔ یہ بیماری دل کے دورے، فالج، گردوں کی خرابی اور ذہنی کمزوری جیسے خطرناک نتائج کا سبب بن سکتی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ روزانہ دوائیں لینے میں بے قاعدگی علاج کی سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ بہت سے مریض خوراک چھوڑ دیتے ہیں، ضمنی اثرات سے گھبرا جاتے ہیں یا پیچیدہ ادویاتی نظام کو برقرار نہیں رکھ پاتے۔ اسی مسئلے کے حل کے طور پر طویل اثر رکھنے والے انجکشن تیار کیے جا رہے ہیں جو جسم کے اُن حیاتیاتی نظاموں کو نشانہ بناتے ہیں جو بلڈ پریشر کو کنٹرول کرتے ہیں۔
یہ نئے انجکشن خاص طور پر اُس ہارمون نظام پر اثر انداز ہوتے ہیں جو خون کی نالیوں کے سکڑاؤ اور جسم میں سیال کے توازن کو قابو میں رکھتا ہے۔ ماہرین کو امید ہے کہ ایک بار دوا دینے کے بعد کئی مہینوں تک بلڈ پریشر مستحکم رکھا جا سکے گا، اور مریضوں کو صرف سال میں دو بار طبی مرکز جا کر انجکشن لگوانا ہوگا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ طریقہ اُن مریضوں کے لیے انقلابی ثابت ہو سکتا ہے جو روزانہ دوا لینے میں مشکل محسوس کرتے ہیں، مصروف زندگی گزارتے ہیں یا ایک سے زیادہ بیماریوں کا علاج کروا رہے ہیں۔ بزرگ افراد کے لیے بھی یہ ماڈل آسانی پیدا کر سکتا ہے کیونکہ بہتر پابندی علاج کے نتائج کو براہِ راست بہتر بناتی ہے اور دل کی مہلک بیماریوں کے خطرے کو کم کرتی ہے۔
تاہم سائنس دانوں نے خبردار کیا ہے کہ انجکشن مکمل طور پر گولیوں کی جگہ نہیں لیں گے۔ انہیں اُن مریضوں کے لیے متبادل یا اضافی علاج کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جنہیں روزمرہ علاج میں دشواری پیش آتی ہے یا جنہیں مزید مضبوط کنٹرول کی ضرورت ہوتی ہے۔ طبی حلقوں میں اس پیش رفت کو ہائی بلڈ پریشر کے عالمی علاج میں ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔



