تلنگانہ کی خبریں

ایک سال میں دو لاکھ جائیدادوں پر تقررات ، 6 ماہ میں میگا ڈی ایس سی

حیدرآباد کی ہمہ جہتی ترقی، ڈرگس کے خاتمہ کا عہد ، کالیشورم پراجکٹ میں بدعنوانیوں کی تحقیقات کا منصوبہ

دھرانی پورٹل کی جگہ بھو ماتا پورٹل، اقلیتوں اور کمزور طبقات کی یکساں ترقی ، اسمبلی اور کونسل کے مشترکہ اجلاس سے گورنر ڈاکٹر سوندرا راجن کا خطاب

حیدرآباد ۔15۔ڈسمبر:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) گورنر ڈاکٹر ٹی سوندرا راجن نے تلنگانہ عوام کو بھروسہ دلایا کہ کانگریس حکومت عوام سے کئے گئے تمام وعدوں کی تکمیل کرے گی۔ تمام طبقات کی یکساں ترقی اور سماجی انصاف کی فراہمی کے وعدہ پر عمل کرکے تلنگانہ کو ملک کیلئے ایک مثالی ریاست میں تبدیل کیا جائے گا۔ گورنر سوندرا راجن اسمبلی و کونسل کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کر رہی تھیں۔ تیسری تلنگانہ اسمبلی کی تشکیل کے بعدگورنر کا یہ پہلا خطاب تھا جس میں انہوں نے ریونت ریڈی حکومت کی تعریفوں کے پل باندھئے ۔ گورنر نے اعلان کیا کہ ایک سال میں دو لاکھ سرکاری جائیدادوں پر تقررات کئے جائیں گے اور اندرون 6 ماہ میگا ڈی ایس سی کے ذریعہ اساتذہ کی مخلوعہ جائیدادوں پر تقررات ہونگے۔ بے گھر خاندانوں کو مکانات کی فراہمی کیلئے ایکشن پلان تیار کیا جارہا ہے اور اندراماں ہاؤزنگ اسکیم کے تحت مکانات کی تعمیر کیلئے 5 لاکھ روپئے کی امداد دی جائے گی ۔ ایس سی اور ایس ٹی خاندانوں کو ایک لاکھ روپئے اضافی رقم دی جائیگی ۔

گورنر نے کانگریس کی معلنہ 6 ضمانتوں کا حوالہ دیا اور کہا کہ حکومت نے اقتدار کے اندرون 48 گھنٹے دو ضمانتوں پر عمل کا آغاز کردیا ہے ۔ مہا لکشمی اسکیم کے تحت آر ٹی سی میں خواتین کو مفت سفر کی سہولت کا 9 ڈسمبر سے آغاز ہوا جبکہ راجیو آروگیہ شری اسکیم کے تحت مفت علاج کی حد 10 لاکھ روپئے مقرر کی گئی۔ گورنر نے کانگریس کے انتخابی منشور میں کئے گئے تمام وعدوں کی تکمیل کا تیقن دیا۔ انہوں نے کہا کہ رعیتو بھروسہ ، گروہا جیوتی، اندراماں ہاؤزنگ، یووا وکاسم اور دیگر اسکیمات پر عمل آوری کے عہد کی حکومت پابند ہے۔ حکومت اسمبلی کے ذریعہ یہ وعدہ کر رہی ہے کہ انتخابی منشور پر عمل آوری کیلئے ایکشن پلان تیار کیا جارہا ہے ۔ انہوں نے کسانوں ، نوجوانوں ، ایس سی ، ایس ٹی اور بی سی طبقات کیلئے جاری ڈکلیریشن پر عمل کا وعدہ کیا۔ گورنر نے کہا کہ زرعی شعبہ کو بلا وقفہ مفت برقی سربراہ کی جائے گی اور دو لاکھ روپئے تک زرعی قرضے معاف کئے جائیں گے۔

انہوں نے کالیشورم پراجکٹ کے میڈی گڈہ اور انارم بیاریج کی تعمیر میں بے قاعدگیوں اور کرپشن کی تحقیقات کا اعلان کیا۔ انہوں نے بعض نئے آبپاشی پراجکٹس کی تعمیر کا بھروسہ دلایا ۔ گورنر نے کہا کہ پرجا وانی پروگرام میں زیادہ تر شکایات اراضی سے متعلق ہیں۔ کانگریس نے دھرانی پورٹل کی جگہ بھو ماتا پورٹل متعارف کرنے کا فیصلہ کیا جو شفاف رہے گا اور اراضیات کے مسائل کی یکسوئی کی جائے گی۔ سرکاری اراضیات کے تحفظ کیلئے لینڈ کمیشن تشکیل دیا جائیگا۔ گورنر نے تلنگانہ کو ڈرگس سے پاک بنانے کا وعدہ کیا اور کہا کہ حکومت ممنوعہ ادویات اور منشیات کے خلاف کارروائی کریگی۔ خصوصی گرے ہانڈس و آکٹوپس کی طرح تلنگانہ اینٹی نارکوٹک بیورو میں فل ٹائم ڈائرکٹر کا تقرر کیا جائے گا ۔ حکومت کا ایکشن پلان ڈرگ مافیا پر قابو پانے کے ساتھ ان کا مکمل خاتمہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کے مستقبل سے کھلواڑ کرنے والوں کو بخشا نہیں جائیگا اور منشیات کیس میں ملوث کسی کو بخشا نہیں جائے گا ۔

حیدرآباد کی ترقی کا ایکشن پلان بیان کرکے گورنر نے کہا کہ حیدرآباد سے ریاست کو زائد آمدنی ملتی ہے۔ حیدرآباد کی یہ ترقی کانگریس دور حکومت کی دین ہے۔ انفارمیشن ٹکنالوجی سے لے کر میٹرو ٹرین ، شمس آباد انٹرنیشنل ایرپورٹ ، آؤٹر رنگ روڈ اور دیگر پراجکٹس کانگریس دور میں شروع کئے گئے۔ موسیٰ ندی کو پاک و صاف کرنے اور آبگیر علاقہ کو روزگار پیدا کرنے کے مرکز میں تبدیل کرنے ایکشن پلان تیار کیا گیا ۔ شہر کی ہمہ جہتی ترقی حکومت کا بنیادی مقصد ہے۔ حیدرآباد کو مرکز بناکر ریاست کو تین زونس میں تقسیم کرنے کا منصوبہ ہے۔ ریاستی گورنر نے بی آر ایس دور حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ برقی اداروں کا قرض 81516 کروڑ ہوچکا ہے اور یہ ادارے مالیاتی بحران میں ہیں۔ برقی اداروں کو 50275 کروڑ کا نقصان ہوا ۔

سیول سپلائیز کارپوریشن پر 56000 کروڑ قرض اور 11000 کروڑ کا خسارہ ہے ۔ ہر محکمہ پر بھاری قرض ہیں، ہر کارپوریشن نے قرض حاصل کیا جس سے ریاست کو مالی بحران کا سامنا ہے ۔ تلنگانہ کا مالیاتی نظم و ضبط تباہ ہوچکا ہے۔ حکومت ہر محکمہ کی مالی حالت پر وائیٹ پیپر جاری کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ فضول خرچی کو روک کر مالی بے قاعدگیوں پر قابو پایا جائے گا۔ گورنر نے کہاکہ ان تمام طبقات کو انصاف فراہم کیا جائے گا جو آج تک امتیازی سلوک اور جبر کا شکار تھے۔ کسانوں ، طلبہ ، ملازمین ، غریبوں ، ایس سی ، ایس ٹی ، بی سی ، اقلیتوں ، ریٹائرڈ ملازمین اور شہیدان تلنگانہ کے خاندانوں کی ترقی اور بھلائی کے اقدامات کئے جائیں گے ۔ گورنر نے مجالس مقامی کے نمائندوں کو اختیارات دینے کا تیقن دیا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button