لبنان میں جان بحق حماس کے رہنما العاروری کی دو بہنوں کو گرفتار کر لیا: اسرائیل
حماس کے سرکردہ رہنما صالح العروری کی دو بہنوں کو حراست میں لیا
مقبوضہ بیت المقدس ، 15جنوری:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) فلسطینی ذرائع اور اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ اسرائیلی فوجیوں نے رواں ماہ لبنان میں مارے گئے حماس کے سرکردہ رہنما صالح العروری کی دو بہنوں کو حراست میں لیا ہے۔خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق دو جنوری کو بیروت کے ایک مضافاتی علاقے میں حماس کے نائب سربراہ العروری کی ہلاکت کو اسرائیلی ڈرون حملے سے منسوب کیا گیا تھا جس سے یہ خدشہ پیدا ہوا کہ غزہ میں اسرائیل کی جنگ ایک علاقائی تنازعے میں بدل سکتی ہے۔اسرائیلی فوج نے اتوار کو ایک بیان میں کہا کہ اس نے دو خواتین کو مقبوضہ مغربی کنارے سے ریاست اسرائیل کیخلاف ’دہشت گردی‘ پر اکسانے کے بعدحراست میں لیا۔االعروری کے بہنوئی عوار العروری نے بتایا کہ دو خواتین اور خاندان کے کئی دیگر افراد کو ’انتظامی حراست میں رکھا گیا ہے۔فلسطینی قیدیوں کے کلب نامی ایک گروپ نے بتایا کہ 52 سالہ دلال العروری اور 47 سالہ فاطمہ العروری کو رام اللہ شہر کے قریب الگ الگ مقامات سے گرفتار کیا گیا۔
اسرائیلی فوج نے العروری پر 7 اکتوبر کو غزہ سے حماس کے جنگجوؤں کے جنوبی اسرائیل میں ہونے والے حملے کی منصوبہ بندی میں مدد کرنے کا الزام لگایا تھا۔اسرائیلی کے جاری کردہ سرکاری اعداد وشمار کے مطابق اس حملے کے نتیجے میں 1,140 افراد ہلاک ہوئے تھے۔غزہ کی وزارت صحت کے مطابق غزہ میں اسرائیل کی فوجی مہم کے نتیجے میں کم از کم 23,843 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے ہیں۔فلسطینی قیدیوں کے کلب نے بتایا کہ غزہ جنگ شروع ہونے کے بعد سے اب تک مغربی کنارے میں 5,875 فلسطینیوں کو حراست میں لیا گیا ہے۔گروپ کی رپورٹ کے مطابق ان میں سے 1,970 کو انتظامی حراست میں رکھا گیا ہے۔ اس اسرائیلی قانون کے تحت مشتبہ افراد کو چھ ماہ تک کی مدت کے لیے بغیر کسی الزام یا مقدمے کے قید میں رکھا جا سکتا ہے اور اس عرصے کو بعد میں بڑھایا بھی جا سکتا ہے۔



