بین الاقوامی خبریںسرورق

قبرص میں وروشا کو کھولنے کا ترک منصوبہ، اقوام متحدہ کی طرف سے تنقید

نیویارک،24؍جولائی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے 23 جولائی جمعہ کے روز ترکی کی جانب سے شمالی قبرص (Turkish Cypriot resort) کے ساحلی شہر وروشا کو دوبارہ کھولنے کے منصوبوں کی مذمت کی۔ یہ شہر سن 1974 میں اس تنازعے کے بعد سے بند پڑا ہے، جس کے باعث جزیرہ قبرص دو حصوں میں تقسیم ہو گیا تھا۔عالمی ادارے کی سلامتی کونسل نے جمعے کے روز ایک بیان میں کہاکہ سلامتی کونسل کا مطالبہ ہے کہ اس سے متعلق تمام عملی اقدامات روک دیے جائیں اور اکتوبر 2020 کے بعد سے وروشا سے متعلق جو بھی اقدامات کیے گئے ہیں، انہیں بھی واپس لیا جائے۔

پندرہ رکنی سلامتی کونسل نے اپنے مشترکہ بیان میں اس بات پر بھی زور دیا کہ اس سلسلے میں ”ہر قسم کی ایسی مزید یک طرفہ کارروائیوں سے بچنے کی ضرورت ہے، جو (اقوام متحدہ کی) قراردادوں کے مطابق نہیں ہیں۔بیان میں مزید کہا گیا کہ وروشا کو دوبارہ کھولنے سے ”جزیرہ قبرص پر کشیدگی میں اضافے کے ساتھ ساتھ اس تنازعے کے تصفیے کے امکانات کو بھی نقصان پہنچ سکتا ہے۔

یورپی یونین، #امریکا اور جنوبی قبرص کی حکومت شمالی #قبرص کے اس بند پڑے شہر کو دوبارہ کھولنے کے #ترکی کے منصوبے پر پہلے ہی نکتہ چینی کر چکے ہیں۔شمالی قبرص کے اس شہر کو مقامی زبان میں #وروشا جبکہ ترک زبان میں ماراس کہا جاتا ہے۔ سن 1974 میں ترکی کے زیر کنٹرول شمالی قبرص اور یونان کے زیر کنٹرول جنوبی قبرص کے درمیان ہونے والی جنگ کے بعد سے یہ شہر پوری طرح سے بند پڑا ہے۔اس وقت یونان نے بغاوت کے ذریعے جزیرہ قبرص کو اپنے علاقے میں ضم کرنے کی کوشش کی تھی، جس کی وجہ سے ترکی نے قبرص پر حملہ کر دیا تھا۔

گزشتہ برس ترکی نے شمالی قبرص کی انتظامیہ کے ساتھ مل کر اس شہر کو دوبارہ کھولنے کا اعلان کیا تھا۔تنقید کے باوجود ترکی اپنے اس موقف پر قائم ہے کہ اب جزیرہ قبرص کے تنازعے کا تصفیہ صرف دو ریاستی حل کی بنیاد پر ہی ممکن ہے اور انقرہ اپنے اس موقف پر مسلسل زور دے رہا ہے کیونکہ سن 2004 میں قبرص کو دوبارہ متحدہ کرنے کی اقوام متحدہ کی تمام تر کوششیں ناکام ہو گئی تھیں۔

منگل کے روز ترک صدر رجب طیب #ایردوآن نے شمالی قبرص کا دورہ کیا تھا اور کہا تھا کہ اس تنازعے کے حل کے لیے اقوام متحدہ کی نصف صدی کی کوششیں ناکام ثابت ہوئی ہیں اور اب اس کا حل یہی ہے کہ دو قوموں کے لیے ‘برابر حقوق کے ساتھ دو ریاستیں ہوں۔

ترک صدر سن 1974 کے حملے کی 47 ویں برسی کے موقع پر شمالی قبرص کے دورے پر گئے تھے۔ اس وقت ترک #فورسز کے حملے کے دوران ہزاروں افراد اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہو گئے تھے۔ترک وزارت خارجہ نے اپنے ایک بیان میں سلامتی کونسل کے بیان کو یہ کہہ کر مسترد کر دیا ہے کہ یہ موقف بعید از حقیقت ہے۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے صدر نے جو بیان دیا ہے، ہم اسے مسترد کرتے ہیں۔‘‘انقرہ میں وزارت خارجہ کا مزید کہنا تھا، ”ان دعووں کے برعکس، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی کوئی مخالفت نہیں ہو رہی۔ مزید یہ کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادیں جائیداد اور خود مختاری کے حقوق سے بالا تر بھی نہیں ہو سکتیں۔

‘‘1974 میں ترکی کے قبرص پر حملے کے بعد سے وروشا کا ساحلی شہر ویران پڑا ہے۔ یہ جزیرہ اسی وقت نسلی بنیادوں پر تقسیم ہوگیا تھا۔ حملے سے چار برس قبل تک اس کا ساحل چہل پہل سے آباد رہتا تھا لیکن آج اونچے اونچے درختوں اور بلند عمارات والا یہ ساحلی علاقہ ‘بھوتوں کا شہر‘ دکھائی دیتا ہے۔ترکی کے اثر و رسوخ والے شمالی قبرصی حصے کے عوام نے وروشا کو کھولنے کے ترک فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے جبکہ جنوبی حصے کے شہریوں نے اس کے خلاف احتجاجی جلوس بھی نکالا تھا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button