بین الاقوامی خبریں

امریکہ کے فضائی حملوں کا طالبان کی پیش قدمی پر اثر ہو رہا ہے: پینٹاگان

نیویارک ،11؍اگست :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)امریکہ کے فضائی حملے طالبان کی افغانستان بھر میں پیش قدمی کو متاثر کر رہے ہیں تاہم امریکی محکمہ دفاع پینٹاگان کے عہدیداروں نے خبردار کیا ہے کہ صرف #امریکی قوت #عسکریت پسندوں کے حملوں کو پسپا کرنے کے لیے کافی نہیں ہو گی۔ رپورٹ کے مطابق امریکہ کئی ہفتوں سے قطر میں واقع اپنے فضائی اڈے العدید اور خلیج فارس میں اپنے کیریئر اسٹرائیک گروپ سے طالبان کے اہداف کو نشانہ بنا رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق #جنگجووں پر حملے کے لیے اے 130 گن شپس اور ایم کیو نائن ریپر ڈرونز کی مدد لی جا رہی ہے۔ایسے میں جب طالبان دعویٰ کر رہے ہیں کہ ان کے گروپ نے گزشتہ پانچ دنوں میں سات صوبائی دارالحکومتوں پر قبضہ کر لیا ہے، امریکہ کی جانب سے کیے جانے والے حملوں کے موثر ہونے کے بارے میں کئی سوالات موجود ہیں۔منگل کو #طالبان نے ایک #ٹوئٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ افغانستان کا آٹھواں #صوبائی دارالحکومت (بدخشاں صوبے کا #دارالخلافہ فیض آباد) بھی قبضے میں آنے والا ہے۔

#پینٹاگان کے پریس سیکریٹری جان کربی نے کہا ہے کہ ہم بہت پر اعتماد ہیں کہ ہمارے فضائی حملے انہی اہداف کو نشانہ بنا رہے ہیں جنہیں ہم نشانہ بنانا چاہتے ہیں اور اس کے طالبان پر اثرات ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ ہم پہلے کہہ چکے ہیں کہ افغان فورسز اپنے ملک کے دفاع کی اہلیت و صلاحیت رکھتی ہے اور ان کی عددی قوت بھی زیادہ ہے۔ اب یہ افغان قیادت کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان صلاحیتوں کو استعمال میں لائے۔ادھر وائٹ ہاوس میں صدر جو بائیڈن نے منگل کے روز صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 31 اگست تک امریکی انخلا مکمل کرنے پر نظر ثانی نہیں ہو گی اور افغان فورسز کو لڑائی کے لیے خود کو تیار کرنا ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے 20 برسوں کے دوران افغانستان میں ایک ٹریلین (دس کھرب) ڈالر سے زیادہ خرچ کیے ہیں۔ ہم نے تین لاکھ افغان فورسز کو تربیت دی اور انہیں جدید سامان سے لیس کیا ہے، ان کی تعداد طالبان سے کہیں زیادہ ہے۔امریکی عہدیدار زور دے رہے ہیں کہ افغان فورسز جم کر لڑیں جس سے افغان حکومت کو طالبان کے ساتھ جاری مذاکرات میں کچھ فائدہ پہنچے۔ لیکن افغان صدر اشرف غنی کے گزشتہ ماہ اس اعلان کے باوجود کہ ملک میں استحکام کے لیے فوج نے نئی مہم شروع کر دی ہے، زمین پر ایسی پیش رفت کم ہی دکھائی دیتی ہے۔

ادھر طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے منگل کے روز سوشل میڈیا پر سلسلہ وار پوسٹوں میں دعویٰ کیا کہ #طالبان جنگجووں نے افغانستان کے صوبے فراہ کے دارالحکومت فراہ پر قبضہ کر لیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ان کی فورسز فیض آباد شہر کو بھی فتح حاصل کرنے کے قریب ہیں۔ یہ شہر بدخشاں صوبے کا دارالحکومت ہے۔محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے منگل کو ایک پریس کانفرنس کے دوران ان خیالات کا اظہار اس سوال پر کیا جس میں ان سے پوچھا گیا تھا کہ آیا طالبان کی جانب سے صوبائی دارالحکومتوں پر قبضے کے بعد سفارتی عملے میں مزید کمی لائی جا سکتی ہے؟

ترجمان نے کہا کہ افغانستان میں سیکیورٹی کے اعتبار سے چیلنجنگ ماحول ہو۔ ہم روزانہ کی بنیاد پر خطرات کا جائزہ لے رہے ہیں۔ سفارتخانہ #واشنگٹن میں سینئر عہدیداروں کے ساتھ مستقل رابطے میں ہے اور یہ عہدیدار آگے وائٹ ہاوس سے رابطے میں ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button