بین ریاستی خبریں

متحدہ عرب امارات اوپیک سے الگ، عالمی توانائی سیاست میں نیا موڑ

اوپیک کی طاقت اور یو اے ای کی علیحدگی کی حقیقت کیا ہے؟

دبئی 29 اپریل:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) عالمی تیل منڈی ایک بڑے تغیر سے گزر رہی ہے جہاں متحدہ عرب امارات کی جانب سے اوپیک اور اوپیک پلس سے علیحدگی کے اعلان نے توانائی کی سیاست کو ایک نئے مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ تقریباً ساٹھ برس تک اس اتحاد کا حصہ رہنے کے بعد یو اے ای کا یہ فیصلہ نہ صرف معاشی حکمت عملی میں تبدیلی کو ظاہر کرتا ہے بلکہ مشرق وسطیٰ میں بدلتی ہوئی سفارتی صف بندیوں کی بھی عکاسی کرتا ہے۔

اوپیک، جس کا قیام 1960 میں ہوا اور جس کا صدر دفتر ویانا میں قائم ہے، دنیا کے بڑے تیل پیدا کرنے والے ممالک کا ایک طاقتور اتحاد رہا ہے۔ اس کا بنیادی مقصد عالمی سطح پر تیل کی پیداوار کو منظم کر کے قیمتوں میں استحکام پیدا کرنا ہے۔ رکن ممالک مشترکہ طور پر پیداوار کے کوٹے طے کرتے ہیں تاکہ منڈی میں توازن برقرار رکھا جا سکے۔یو اے ای اس تنظیم میں 1967 میں شامل ہوا تھا اور اسے ایک منظم اور ذمہ دار رکن کے طور پر جانا جاتا رہا ہے۔

متحدہ عرب امارات کی علیحدگی کے پیچھے سب سے اہم وجہ اس کی بڑھتی ہوئی پیداواری صلاحیت بتائی جا رہی ہے۔ یو اے ای روزانہ تقریباً 29 لاکھ بیرل تیل پیدا کرتا ہے، جو اسے دنیا کے بڑے تیل پیدا کرنے والے ممالک میں شامل کرتا ہے۔گزشتہ برسوں میں یو اے ای نے تیل نکالنے کی اپنی صلاحیت میں نمایاں اضافہ کیا ہے اور وہ اپنی مکمل استعداد کے مطابق پیداوار بڑھانا چاہتا ہے، جبکہ اوپیک کی جانب سے مقرر کردہ کوٹے اس کے راستے میں رکاوٹ بن رہے تھے۔

دوسری جانب سعودی عرب، جو اوپیک کا سب سے بااثر رکن تصور کیا جاتا ہے، طویل عرصے سے تنظیم کی پالیسیوں پر اثرانداز ہوتا رہا ہے۔ توانائی پالیسی کے معاملات پر یو اے ای اور سعودی عرب کے درمیان اختلافات وقت کے ساتھ نمایاں ہوئے، جس کے نتیجے میں یو اے ای نے آزادانہ راستہ اختیار کرنے کا فیصلہ کیا۔

ماہرین کے مطابق اس اقدام سے اوپیک کی اجتماعی طاقت کو دھچکا لگ سکتا ہے، کیونکہ یو اے ای نہ صرف ایک بڑا تیل پیدا کرنے والا ملک ہے بلکہ تنظیم کے اندر نظم و ضبط رکھنے والے ارکان میں بھی شمار ہوتا تھا۔ اس سے قبل قطر بھی 2019 میں اوپیک سے علیحدہ ہو چکا ہے، جس سے تنظیم کی داخلی یکجہتی پر سوالات اٹھے تھے۔

عالمی سطح پر بدلتے ہوئے توانائی کے منظرنامے نے بھی اوپیک کی طاقت کو محدود کیا ہے۔ امریکہ میں شیل آئل کی پیداوار میں اضافہ اور روس جیسے ممالک کے بڑھتے ہوئے کردار نے مارکیٹ میں مسابقت کو تیز کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں اوپیک کو اوپیک پلس جیسے وسیع اتحاد بنانے پڑے تاکہ وہ اپنا اثر برقرار رکھ سکے۔

سیاسی تناظر میں دیکھا جائے پاکستان کا کردار بھی اس معاملے میں زیر بحث آیا ہے۔ یو اے ای کو اس بات پر ناراضی ہے کہ پاکستان، جو سعودی عرب کا قریبی اتحادی ہے، نے ایران اور امریکہ کے درمیان سفارتی رابطوں میں کردار ادا کرنے کے باوجود یو اے ای کے خلاف ایران کے اقدامات پر واضح مؤقف اختیار نہیں کیا۔ امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ مذاکرات میں پاکستان کی ثالثی نے بھی یو اے ای کو تشویش میں مبتلا کیا۔ یو اے ای کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان واقعی امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کرنا چاہتا ہے تو اسے مکمل غیر جانبداری کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ بصورت دیگر اس کا کردار خطے میں عدم توازن پیدا کر سکتا ہے۔

اقتصادی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو اوپیک سے علیحدگی کے بعد یو اے ای کو سب سے بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ وہ سعودی اثر و رسوخ سے آزاد ہو کر اپنی تیل پیداوار میں اضافہ کر سکے گا۔ امریکہ اور دیگر عالمی طاقتوں کی بڑھتی ہوئی توانائی کی ضروریات کے پیش نظر یو اے ای اب زیادہ لچکدار پالیسی اپنا سکے گا۔

ماہرین کا خیال ہے کہ اگر دیگر ممالک نے بھی اسی طرح اپنی قومی ترجیحات کو ترجیح دیتے ہوئے اوپیک سے علیحدگی اختیار کی تو تنظیم کی عالمی حیثیت مزید کمزور ہو سکتی ہے۔ ساتھ ہی دنیا تیزی سے قابل تجدید توانائی کے ذرائع کی طرف بڑھ رہی ہے، جو مستقبل میں تیل کی اہمیت کو کم کر سکتی ہے۔

یہ تمام عوامل اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ عالمی توانائی کی سیاست ایک نئے دور میں داخل ہو رہی ہے، جہاں روایتی اتحاد کمزور اور قومی مفادات زیادہ نمایاں ہوتے جا رہے ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button