بین ریاستی خبریںسرورق

بی جے پی نے پیسے کے بل پر بلدیاتی انتخابات جیتے: ادھو ٹھاکرے

"انتخابات میں دولت اور تحائف کے زور پر جمہوریت کو خریدا گیا"

ممبئی 17،جنوری:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)مہاراشٹر کے بلدیاتی انتخابات میں شکست کے بعد شیو سینا (یو بی ٹی) کے سربراہ ادھو ٹھاکرے نے بھارتیہ جنتا پارٹی پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ بی جے پی نے پیسے اور مفت تحائف کے زور پر انتخابات میں کامیابی حاصل کی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ووٹ حاصل کرنے کے لیے گھریلو اشیاء، ساڑیاں اور دیگر قیمتی سامان بڑے پیمانے پر تقسیم کیا گیا۔

ہفتہ کے روز ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ادھو ٹھاکرے نے کہا کہ انتخابی مہم کے دوران بے تحاشا دولت بہائی گئی۔ الیکشن سے چند دن قبل بڑی مقدار میں نقد رقم تقسیم کی گئی، جبکہ عوام کو مکسر، واشنگ مشینیں اور دیگر سامان دیا گیا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اتنی بڑی رقم کہاں سے آئی اور اس پر ای ڈی اور سی بی آئی نے کارروائی کیوں نہیں کی۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر یہ سب کچھ قانونی تھا تو پھر نوٹ بندی کا مقصد کیا تھا۔ ادھو ٹھاکرے کے مطابق انتخابی عمل میں شفافیت مکمل طور پر متاثر ہوئی ہے اور اس کی غیر جانبدارانہ تحقیقات ہونی چاہیے۔

ادھو ٹھاکرے نے بی جے پی کو ملنے والے ووٹوں پر بھی سوالات اٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ اسمبلی انتخابات کے دوران وزیر اعظم کی ریلیوں میں بڑی تعداد میں نشستیں خالی تھیں، جس سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر ووٹ کس نے ڈالے۔ ان کا کہنا تھا کہ خالی نشستیں ووٹ نہیں ڈال سکتیں۔

بی ایم سی میں میئر کے انتخاب پر بات کرتے ہوئے ادھو ٹھاکرے نے خدشہ ظاہر کیا کہ جس طرح ان کی پارٹی کو توڑ کر اقتدار حاصل کیا گیا، اسی طرح اب شندے گروپ کی شیو سینا میں بھی توڑ پھوڑ کر کے بی جے پی اپنا میئر بنائے گی۔ انہوں نے اسے جوڑ توڑ کی سیاست قرار دیا۔

ریزورٹ سیاست پر تنقید کرتے ہوئے ادھو ٹھاکرے نے کہا کہ جن جماعتوں نے اپنے منتخب کونسلروں کو فائیو اسٹار ہوٹلوں میں رکھا ہوا ہے، انہیں عوام کو بتانا چاہیے کہ انہیں کس بات کا خوف ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر سب کچھ شفاف ہے تو پھر کونسلروں کو قید رکھنے جیسا ماحول کیوں بنایا گیا۔

اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 227 وارڈز والی بی ایم سی (BMC) میں بی جے پی اتحاد نے 118 نشستیں حاصل کیں، جبکہ شیو سینا (یو بی ٹی) کو 65 سیٹیں ملیں۔ پوری اپوزیشن کو ملا کر بھی اکثریت حاصل نہیں ہو سکی، جس سے سیاسی غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔

راج ٹھاکرے کی ایم این ایس کے ساتھ اتحاد کے سوال پر ادھو ٹھاکرے نے فی الحال کوئی واضح جواب نہیں دیا۔ انہوں نے کہا کہ انتخابی نتائج پر غور کیا جا رہا ہے اور اتحاد سے متعلق فیصلہ بعد میں کیا جائے گا، تاہم زمینی سطح پر دونوں جماعتوں کے درمیان ہم آہنگی بہتر رہی ہے۔

ہندوتوا کے مسئلے پر بی جے پی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ادھو ٹھاکرے نے کہا کہ ہندوتوا کسی ایک پارٹی کی جاگیر نہیں بلکہ ایک وسیع نظریہ ہے، جسے انتخابات کے دوران سیاسی فائدے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر بالا صاحب ٹھاکرے نے بی جے پی کو ابتدا میں سہارا نہ دیا ہوتا تو یہ جماعت بہت پہلے سیاسی طور پر کمزور ہو چکی ہوتی۔

ادھو ٹھاکرے نے واضح کیا کہ بلدیاتی انتخابات کے نتائج ان کی جماعت کو کمزور نہیں کریں گے اور شیو سینا آئندہ بھی ممبئی میں اپنی سیاسی جدوجہد جاری رکھے گی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button