بین ریاستی خبریں

ادھو ٹھاکرے نے الیکشن کمیشن کے فیصلے کو چیلنج کردیا

ممبئی ، 10اکتوبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) مہاراشٹر میں شیوسینا پارٹی کے انتخابی نشان کو لے کر تنازع تھمنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ 10 اکتوبر 2022 کو ادھو ٹھاکرے نے شیوسینا کے نشان اور نام پر الیکشن کمیشن کی طرف سے لگائی گئی پابندی کو دہلی ہائی کورٹ میں چیلنج کیا ہے۔شیوسینا کو لے کر دو دھڑوں (ادھو ٹھاکرے اور ایکناتھ شندے دھڑے) کے درمیان گزشتہ کئی ماہ سے سیاسی کشمکش چل رہی تھی۔ دونوں دھڑوں کے درمیان یہ مقابلہ ہے کہ یہ بالا صاحب ٹھاکرے کی اصل شیوسینا ہے۔ مہاراشٹر کے سابق وزیر اعلیٰ ادھو ٹھاکرے نے ہفتہ کو الیکشن کمیشن کے حکم کے خلاف دہلی ہائی کورٹ سے رجوع کیا۔

الیکشن کمیشن نے ادھو ٹھاکرے کے دھڑے اور ان کے حریف ایکناتھ شندے دھڑے سے کہا ہے کہ وہ ممبئی کے اندھیری ایسٹ میں ہونے والے ضمنی انتخاب کے لیے ایک نیا نام اور ایک نیا نشان منتخب کریں۔الیکشن کمیشن نے اس سے قبل امیدواروں سے کہا تھا کہ وہ پارٹی کے نام اور نشان پر اپنے دعوے کی حمایت کے لیے8 اگست2022 تک دستاویزات کے ثبوت جمع کرائیں۔اس تنازعہ میں پہلے شیو سینا کے ایکناتھ شندے دھڑے نے 4 اکتوبر2022 کو ہونے والے اندھیری ایسٹ اسمبلی ضمنی انتخاب کے لیے کمان اور تیر کے نشان کے لیے الیکشن کمیشن سے درخواست کی تھی۔ساتھ ہی ادھو ٹھاکرے دھڑے کی درخواست کی آخری تاریخ 7 اکتوبر2022 تک بڑھا دی گئی۔

ادھو ٹھاکرے کے دھڑے نے ہفتہ کو اپنا جواب دیا اور حریف دھڑے کی طرف سے جمع کرائے گئے دستاویزات کو احتیاط سے دیکھنے کے لیے مزید چار ہفتوں کا وقت مانگا۔اسی وقت شندے دھڑے اور ادھو دھڑے نے اندھیری ایسٹ سیٹ کے ضمنی انتخابات کے لیے اپنی اپنی پارٹی کے نام اور انتخابی نشان الیکشن کمیشن کو جمع کرائے تھے۔ جس کے بعد اب کمیشن نے فیصلہ کرنا ہے کہ کس گروپ کو کون سا انتخابی نشان ملے گا۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ دونوں گروپوں نے اپنے وکلا کے ذریعے فہرست انہیں بھیج دی ہے۔ کمیشن نے کہا تھا کہ ادھو اور شندے دھڑے شیوسینا کے نام اور نشان کا استعمال نہیں کر سکتے۔ دونوں گروپوں کو نئے انتخابی نشان اور نام کے حوالے سے آج تک کا وقت دیا گیا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button