
اجین شاہی مسجد کے حصے پر بلڈوزر پہنچے تو آبدیدہ ہوگئے رضاکار، خود ہی انہدام شروع کردیا
مدھیہ پردیش ہائی کورٹ نے مسجد کمیٹی کی اپیل خارج کردی-
اجین، 28 ستمبر (اردودنیانیوز/ایجنسیز)مدھیہ پردیش کے تاریخی شہر اجین میں سنگھستھ 2028 کی تیاریوں کے تحت سڑک کی توسیع کے لیے شاہی مسجد کے سڑک کی جانب آنے والے حصے کو ہٹانے کی کارروائی کے دوران پیر کو کشیدگی پیدا ہوگئی۔ کارروائی کی مخالفت میں مقامی افراد رات بھر مسجد کے اندر اور باہر موجود رہے، جبکہ صبح احتجاج کے دوران پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپ، پتھراؤ اور آنسو گیس کے استعمال کی اطلاعات سامنے آئیں۔
اجین انتظامیہ کے مطابق کنتھال چوراہے سے گوپال مندر تک تقریباً 900 میٹر طویل سڑک کو 15 میٹر تک چوڑا کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ راستہ گوپال مندر، مہاکال مندر اور کشیپرا ندی کی جانب جانے والے اہم راستوں میں شامل ہے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ سنگھستھ 2028 کے دوران بڑی تعداد میں عقیدت مندوں کی آمد متوقع ہے، اس لیے ٹریفک کی روانی اور بھیڑ کو منظم کرنے کے لیے سڑک کی توسیع ضروری ہے۔
مسجد کے متاثرہ حصے کو ہٹانے کی کارروائی کے خلاف اتوار کی رات بڑی تعداد میں مقامی افراد مسجد کے قریب جمع ہوگئے۔ بعض افراد نے رات بھر مسجد میں رہ کر دعائیں اور عبادت کی، جبکہ دیگر لوگ مسجد کے باہر موجود رہے۔ اس دوران علاقے میں بڑی تعداد میں پولیس فورس تعینات رہی اور انہدامی مشینری بھی موقع پر موجود تھی۔
اطلاعات کے مطابق انتظامیہ اور مسجد کمیٹی کے نمائندوں کے درمیان بات چیت ہوئی، جس کے بعد سڑک کی زد میں آنے والے حصے کو مسجد سے وابستہ افراد کی جانب سے خود ہٹانے پر اتفاق ہوا، تاکہ بلدیاتی مشینری کے ذریعے براہ راست انہدام نہ کرنا پڑے۔
پیر کی صبح مسجد کے متاثرہ حصے کو گرین نیٹ سے ڈھانپنے کے بعد بعض رضاکاروں نے اسے خود ہٹانے کا کام شروع کیا۔ موقع سے سامنے آنے والی ویڈیوز میں بعض افراد کو انتہائی جذباتی حالت میں یہ کام کرتے دیکھا گیا۔
مسجد کے حصے کو ہٹانے کی کارروائی کے دوران احتجاج اور نعرے بازی کے بعد صورتحال مزید کشیدہ ہوگئی۔ پولیس کے مطابق ہجوم کی جانب سے پتھراؤ کیا گیا، جس کے بعد مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کے گولے داغے گئے اور بعض مقامات پر لاٹھی چارج بھی کیا گیا۔
پولیس کے مطابق واقعے میں بعض اہلکاروں کو چوٹیں آئیں۔ کرائم برانچ میں تعینات تھانہ انچارج پشپا پانچال بھی کارروائی کے دوران زخمی ہوئیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ خواتین کو محفوظ مقام تک منتقل کرنے کی کوشش کے دوران ان کے ہاتھ پر چادر کے کونے سے کٹ لگا، جس پر انہیں ابتدائی طبی امداد دی گئی۔
احتجاج میں خواتین بھی شریک ہوئیں اور ناکہ نمبر 5 کے قریب سڑک پر جمع ہوکر احتجاج کیا۔ پولیس نے علاقے کی گلیوں میں آمدورفت محدود کرتے ہوئے اضافی نفری تعینات کردی۔
پولیس نے بتایا کہ واقعے کے سلسلے میں 10 افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ پولیس کے مطابق ان میں سوشل میڈیا سے وابستہ پانچ افراد بھی شامل ہیں، جن پر ماحول خراب کرنے کا الزام ہے۔ بعض افراد کو حراست میں لیے جانے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کی ویڈیوز، سی سی ٹی وی ریکارڈنگ اور دیگر دستیاب فوٹیج کی بنیاد پر مزید افراد کی شناخت کی جا رہی ہے۔
شاہی مسجد کے حصے کو ہٹانے کا معاملہ پہلے ہی مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کی اندور بنچ میں زیر سماعت رہ چکا ہے۔ 9 ستمبر کو جسٹس سندیپ این بھٹ کی سنگل بنچ نے میونسپل کارپوریشن کے نوٹس کے خلاف دائر درخواستیں خارج کردی تھیں۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ میونسپل کارپوریشن نے کارروائی کے لیے قانونی طریقہ کار اختیار کیا اور متعلقہ فریق کو اپنا اعتراض پیش کرنے کا موقع دیا۔ عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ سڑک کی توسیع کے منصوبے سے دیگر مذہبی تعمیرات کے بعض حصے بھی متاثر ہوئے ہیں۔
عدالت کے مطابق سڑک کی توسیع کا مقصد ٹریفک انتظام اور عوامی سہولت سے متعلق ہے، خصوصاً سنگھستھ 2028 کے دوران بڑی تعداد میں عقیدت مندوں کی آمد کے پیش نظر۔
28 ستمبر کو مسجد کمیٹی کی جانب سے دائر اپیل پر ہائی کورٹ کی ڈویژن بنچ میں بھی سماعت ہوئی۔ اس دوران مسجد انتظامیہ اور اجین میونسپل کارپوریشن کے درمیان طے پانے والی شرائط اور کارپوریشن کی یقین دہانیوں کو عدالتی ریکارڈ کا حصہ بنایا گیا اور اپیل کو نمٹا دیا گیا۔
رپورٹس کے مطابق فریقین کے درمیان مسجد کے سڑک کی جانب آنے والے تقریباً تین فٹ حصے کو ہٹانے اور متعلقہ مینار کو منتقل کرنے سے متعلق اتفاق رائے سامنے آیا۔ مجوزہ سڑک کی توسیع کی زد میں مسجد کے نماز ہال اور مینار کا کچھ حصہ آنے کی بھی بات عدالت کے سامنے رکھی گئی۔
اس طرح مسجد سے متعلق کارروائی مختلف مراحل میں انتظامیہ، مسجد کمیٹی اور عدالت کے درمیان طے ہونے والی شرائط کے مطابق آگے بڑھ رہی ہے۔
شاہی مسجد کو مقامی طور پر تقریباً 600 سال قدیم بتایا جاتا ہے، جبکہ بعض ذرائع اس کی عمر 636 سال بیان کرتے ہیں۔
اجین انتظامیہ کے مطابق سنگھستھ 2028 کی تیاریوں کے تحت شہر میں سڑکوں کی توسیع، ٹریفک مینجمنٹ اور بنیادی سہولتوں سے متعلق مختلف منصوبوں پر کام جاری ہے۔ کنتھال چوراہے سے گوپال مندر تک سڑک کی توسیع بھی اسی منصوبے کا حصہ ہے۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس راستے سے اہم مذہبی مقامات اور کشیپرا ندی کی جانب بڑی تعداد میں لوگوں کی آمدورفت ہوتی ہے اور سنگھستھ کے دوران متوقع اضافی ہجوم کے پیش نظر سڑک کو کشادہ کرنا ضروری ہے۔
پیر کے واقعے کے بعد علاقے میں اضافی پولیس فورس تعینات کردی گئی اور حساس مقامات پر نگرانی بڑھا دی گئی۔ پولیس واقعے کے دوران ہونے والے پتھراؤ اور دیگر واقعات کی تحقیقات کر رہی ہے، جبکہ انتظامیہ کی جانب سے لوگوں سے امن برقرار رکھنے اور افواہوں پر توجہ نہ دینے کی اپیل کی گئی ہے۔



