بین الاقوامی خبریں

برطانوی AI بحری جہاز ہرمز میں مائنز ہٹانے کیلئے متحرک، خلیجی کشیدگی میں نیا موڑ

آبنائے ہرمز میں مائنز ہٹانے کیلئے برطانوی AI جہاز کی تیاری عالمی کشیدگی کا نیا مرحلہ ہے

لندن 31 مارچ:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)خلیج میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران برطانیہ نے آبنائے ہرمز میں مصنوعی ذہانت سے لیس بحری جہاز بھیجنے کی تیاری تیز کر دی ہے، جس کا مقصد سمندر میں بچھائی گئی بارودی سرنگوں (مائنز) کو تلاش کر کے صاف کرنا ہے۔

برطانوی اخبار کی رپورٹ کے مطابق "آر ایف اے لاِم بائے” نامی یہ خصوصی جہاز جدید خودکار نظام، زیرِ آب ڈرونز اور مائن تلاش کرنے والی کشتیوں سے لیس ہوگا، جو سمندر کی تہہ میں موجود خطرناک دھماکہ خیز مواد کی نشاندہی اور اسے ناکارہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

وزارتی ذرائع کے مطابق دفاعی حکام نے ہنگامی منصوبے کی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت اس جہاز کو ضرورت پڑنے پر ہرمز بھیجا جا سکتا ہے، تاکہ عالمی تجارتی بحری راستوں کو بحال رکھنے میں مدد دی جا سکے۔

یہ جہاز اس وقت جبلِ طارق میں مرمت کے مراحل سے گزر رہا ہے، جس کے بعد اسے جدید مائن کلیئرنس ٹیکنالوجی سے لیس کیا جائے گا۔ دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ جہاز نہ صرف آپریشن کی قیادت کر سکے گا بلکہ دیگر برطانوی مائن کلیئرنس یونٹس کو بھی سپورٹ فراہم کرے گا۔

ذرائع کے مطابق اس جہاز میں تقریباً 500 فوجیوں کو لے جانے کی گنجائش موجود ہے، جبکہ طبی سہولیات اور دفاعی نظام بھی اس کا حصہ ہیں، جس سے یہ ہنگامی حالات میں ایک مکمل آپریشنل پلیٹ فارم بن جاتا ہے۔

دوسری جانب امریکہ نے بھی خطے میں اپنی عسکری موجودگی بڑھا دی ہے، جہاں ایک بڑا حملہ آور بحری جہاز ہزاروں فوجیوں کے ساتھ مشرقِ وسطیٰ پہنچ چکا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ پیش رفت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ عالمی طاقتیں ہرمز کے اسٹریٹیجک راستے کو ہر قیمت پر کھلا رکھنا چاہتی ہیں۔

واضح رہے کہ مارچ کے آغاز سے آبنائے ہرمز میں بحری نقل و حمل شدید متاثر ہے۔ روزانہ تقریباً 20 ملین بیرل تیل اس اہم راستے سے گزرتا ہے، اور اس کی بندش کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور شپنگ اخراجات میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر مائن کلیئرنس آپریشن جلد کامیاب نہ ہوا تو نہ صرف عالمی تجارت بلکہ توانائی کی سپلائی چین بھی مزید بحران کا شکار ہو سکتی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button