بین الاقوامی خبریں

برطانیہ میں فرسٹ کزن میرج پر نیا تنازعہ، این ایچ ایس کی گائیڈلائن پر شدید تنقید

برطانیہ میں چچازاد بھائی بہن کی شادیوں پر بحث تیز، حکومت پر عوامی دباؤ بڑھا

لندن :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)برطانیہ کی نیشنل ہیلتھ سروس (NHS) نے حال ہی میں جاری کردہ اپنی گائیڈلائن میں قریبی رشتہ داروں یعنی فرسٹ کزن میرج (چچا، ماموں یا پھوپھی کے بچوں کے درمیان شادی) کے بارے میں متنازعہ موقف اختیار کیا ہے۔ اس گائیڈلائن میں ان شادیوں کے سماجی اور خاندانی فوائد کو اجاگر کیا گیا ہے، جس پر طبی ماہرین اور عوامی حلقوں کی جانب سے شدید اعتراضات سامنے آ رہے ہیں۔

دنیا بھر میں ہونے والی سائنسی تحقیقات اس بات پر متفق ہیں کہ قریبی رشتہ داروں کے درمیان شادی کرنے سے بچوں میں پیدائشی نقائص، ذہنی اور جسمانی معذوریاں اور جینیاتی بیماریاں پیدا ہونے کا خطرہ عام شادیوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہوتا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق ایسے جوڑوں کے بچوں میں بعض موروثی امراض کے امکانات دوگنے سے بھی زیادہ بڑھ جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کئی ممالک میں ان شادیوں کے خلاف بیداری مہم چلائی جاتی ہے اور عوام کو خطرات سے آگاہ کیا جاتا ہے۔

این ایچ ایس کی اس نئی گائیڈلائن میں کہا گیا ہے کہ فرسٹ کزن میرج کے کچھ سماجی فوائد بھی ہیں، مثلاً خاندان کے اندر رشتہ داریوں کو مضبوط کرنا، جائیداد اور وراثت کو ایک ہی خاندان میں محفوظ رکھنا اور بچوں کی تربیت میں خاندانی تعاون حاصل ہونا۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ ان ’’فوائد‘‘ کو نمایاں کرتے ہوئے ادارے نے سنگین طبی نقصانات کو پسِ پشت ڈال دیا ہے جو کہ عوامی صحت کے نقطہ نظر سے انتہائی غیر ذمہ دارانہ رویہ ہے۔

اس گائیڈلائن پر نہ صرف طبی ماہرین بلکہ سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے بھی سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ برطانیہ جیسے ترقی یافتہ ملک میں جہاں تحقیق اور سائنسی شواہد کو اولین حیثیت حاصل ہونی چاہیے، وہاں سرکاری ادارے کا اس طرح کے حساس معاملے میں متنازعہ اور غیر متوازن معلومات دینا ایک تشویشناک امر ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ اس حوالے سے واضح پالیسی مرتب کرے، عوام کو خطرات سے آگاہ کرے اور صحت عامہ کے تحفظ کے لیے سائنسی بنیادوں پر اقدامات کرے، ورنہ اس گائیڈلائن کی وجہ سے عوام میں گمراہ کن پیغام جا سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button