بین الاقوامی خبریں

برطانیہ کی خفیہ ایجنسی MI6 کی تاریخ میں پہلی بار خاتون سربراہ کا تقرر

بلیز میٹروویلی کو MI6 کی 18ویں چیف بنایا گیا

لندن:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)برطانیہ نے اپنی خفیہ ایجنسی MI6 (سیکریٹ انٹیلیجنس سروس) کی سربراہی کے لیے پہلی بار ایک خاتون کو مقرر کر کے تاریخ رقم کر دی۔ وزیرِاعظم سر کیئر اسٹارمر نے پیر کے روز اعلان کیا کہ بلیز میٹروویلی کو MI6 کی 18ویں چیف بنایا گیا ہے، جو اس عہدے پر فائز ہونے والی پہلی خاتون ہوں گی۔

47 سالہ بلیز میٹروویلی 1999 میں MI6 میں شامل ہوئیں، اور اس وقت ادارے میں ٹیکنالوجی اور جدت (Innovation) کے شعبے کی ڈائریکٹر جنرل ‘Q’ کے طور پر خدمات انجام دے رہی ہیں۔ وہ رواں سال کے آخر میں موجودہ چیف سر رچرڈ مور کی جگہ عہدہ سنبھالیں گی۔

وزیراعظم اسٹارمر نے اس تقرری کو "تاریخی” قرار دیتے ہوئے کہا:
"برطانیہ کو اس وقت بے مثال نوعیت کے خطرات کا سامنا ہے — چاہے وہ دشمن ممالک کے جاسوس جہاز ہوں یا ہمارے عوامی نظام کو ہدف بنانے والی سائبر سازشیں، MI6 کی قیادت اب پہلے سے زیادہ اہم ہے۔”

بلیز میٹروویلی نے کہا:
"MI6 کی قیادت سنبھالنا میرے لیے اعزاز کی بات ہے۔ ہماری خفیہ سروس برطانیہ اور اس کے عوام کے تحفظ میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہے۔”

MI6 کی بنیادی ذمہ داریاں دہشتگردی کی روک تھام، دشمن ریاستوں کی سرگرمیوں کا انسداد، اور سائبر سکیورٹی کو بہتر بنانا شامل ہیں۔ چیف آف MI6، جسے عام طور پر "C” کہا جاتا ہے، واحد رکن ہوتا ہے جس کی شناخت عوامی طور پر ظاہر کی جاتی ہے اور وہ براہِ راست وزیرِ خارجہ کو جوابدہ ہوتا ہے۔

میٹروویلی اس سے پہلے MI5 (برطانیہ کی داخلی انٹیلیجنس ایجنسی) میں بھی ایک ڈائریکٹر کے طور پر فرائض انجام دے چکی ہیں، اور انہوں نے اپنی تعلیم کیمبرج یونیورسٹی سے اینتھروپولوجی (Anthropology) میں حاصل کی۔ ان کا زیادہ تر کیریئر مغربی ایشیا اور یورپ میں آپریشنل سرگرمیوں پر مشتمل رہا ہے۔

سر رچرڈ مور، موجودہ MI6 چیف نے اپنے بیان میں کہا:
"بلیز ایک نہایت قابل خفیہ افسر اور رہنما ہیں، اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں ہماری سب سے نمایاں سوچ رکھنے والی شخصیت ہیں۔ ان کی تقرری میرے لیے باعث مسرت ہے۔”

متعلقہ خبریں

Back to top button