برطانیہ آنے والوں کی تعداد کم کرنے کیلئے قوانین مزید سخت
تاریخ میں اس سے پہلے کسی وزیر اعظم نے ایسا نہیں کیا۔
لندن :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)برطانیہ آنے والوں کی تعداد کم کرنے کیلئے کنزرویٹو حکومت نے کریک ڈاؤن شروع کردیا ہے۔ برطانوی حکومت نے ملک میں تارکین وطن کی بڑھتی ہوئی تعداد پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی حکومت نے تارکین وطن کی تعداد کم کرنے کے لیے نئے قوانین کا اعلان کیا ہے۔ برطانیہ کے ہوم آفس نے کہا کہ اس اقدام سے لگ بھگ 300,000 افراد متاثر ہوں گے، جو نئے قوانین کے تحت اب برطانیہ میں داخل ہونے کے اہل نہیں ہوں گے۔ اس سے قبل برطانوی وزیراعظم رشی سنک نے کہا تھا کہ نقل مکانی کی سطح بہت بلند ہے اور وہ اسے تبدیل کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔رشی سنک نے ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں کہا، "ہم نے ابھی تک نیٹ مائیگریشن میں اب تک کی سب سے بڑی کٹوتی کا اعلان کیا ہے۔
تاریخ میں اس سے پہلے کسی وزیر اعظم نے ایسا نہیں کیا۔ نئے قوانین میں غیر ملکی کارکنوں کے لیے ہنر مند ویزے کے حصول کے لیے غیر ملکی کارکنوں کی تنخواہ کی حد میں اضافہ کی حد مقرر کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ خاندان کے افراد کو بطور کفیل لانے پر بھی پابندی ہے۔ ہائی امیگریشن کا حوالہ دیتے ہوئے، برطانیہ کے وزیر اعظم رشی سنک نے کہا کہ یہ قوانین ہجرت کو کم کرنے میں مدد کریں گے اور صرف ملک کو فائدہ پہنچے گا۔
برطانیہ کے ہوم سکریٹری جیمز کلیورلی نے ہاؤس آف کامنز میں اعلان کیا کہ کارروائی کے ایک حصے کے طور پر، صحت اور نگہداشت کے ویزے پر موجود ڈاکٹر اب اپنے خاندان کے کسی فرد کو اپنے ساتھ نہیں لا سکیں گے۔ ایسے میں ایک بات طے ہے کہ اس فیصلے کا اثر ہندوستانیوں پر بھی پڑے گا۔ ساتھ ہی، ہنرمند ورکرز کے برطانیہ آنے کے لیے کم از کم تنخواہ کی شرط 26,200 سے بڑھا کر 38,700 پاؤنڈ کردی گئی۔ہوم سیکرٹری جیمز کلیورلی کے مطابق اس حد کا اطلاق فیملی ویزا کیٹیگری پر بھی ہو گا جو کہ اس وقت 18,600 برطانوی پاؤنڈز ہے۔ جیمز کلیورلی کے مطابق نئے قوانین 2024 کے اوائل میں نافذ العمل ہوں گے۔غیرملکی میڈیا کے مطابق ہیلتھ اور سوشل ورکرز کے ویزا پر آنے والے زیادہ تنخواہ کی حد سے مستثنیٰ ہوں گے۔ہوم سکریٹری جیمز کلیورلی نے پارلیمنٹ میں نئے اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ بیرون ملک سے آنے والے ہنر مندوں کو والدین اور بچے لانے کی اجازت بھی نہیں ہوگی۔ان کا مزید کہنا تھا کہ غیر ملکی طلبہ قریبی عزیزوں کو بھی برطانیہ نہیں لاسکیں گے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ طلباء کے زیر کفالت افراد پر پابندی کی وجہ سے 3 لاکھ کم لوگ برطانیہ آئیں گے۔ برطانوی حکام کے مطابق ہیلتھ ویزا کے لیے درخواست گزاروں کی تعداد میں 76 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ اورا سٹوڈنٹ ویزا کے لیے درخواست دہندگان میں 43 فیصد ہندوستانی ہیں۔ یہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ ہندوستانیوں میں برطانیہ میں آباد ہونے اور تعلیم حاصل کرنے کی کتنی خواہش ہے۔



