قومی خبریں

 یوکرین بحران:  مہلوک طالب علم نوین کھانے کیلئے لائن میں کھڑا تھا کہ روسی میزائل آن گرا 

یوکرین میں روسی بمباری میں ہندوستانی طالب علم کی موت
نئی دہلی ، یکم مارچ:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)جنگ زدہ یوکرین میں ایک ہندوستانی طالب علم اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔ یوکرین میں بم دھماکے میں ایک ہندوستانی طالب علم کی موت ہو گئی ہے۔
اس کی تصدیق وزارت خارجہ نے کی ہے۔اپوزیشن نے الزام لگایاہے کہ مودی حکومت نے سستی اورلاپرواہی برتی،جب مہینہ بھرسے وہاں حالات خراب ہونے کااندازہ تھا تو سرکارنے اس وقت اقدام کیوں نہیں کیا۔سرکارانتخابی تشہیرمیں لگی رہی۔ابھی وہ صرف ایڈوائزری جاری کررہی ہے اورکریڈیٹ لینے میں لگی ہے۔
کرناٹک کے ہاویری سے تعلق رکھنے والے ہندوستانی طالب علم نوین شیکھرپا کی موت اس وقت ہوئی جب منگل کو روسی فوجیوں نے ایک سرکاری عمارت کو دھماکے سے اڑا دیا۔
پی جی کورس میں میڈیکل کے آخری سال کی طالبہ پوجا پر ہراج نے کہاہے کہ وہ صرف کھانا لینے باہر گیا تھا۔ ہم ہاسٹل میں رہنے والے دوسرے بچوں کے لیے کھانے کا بندوبست کرتے ہیں، لیکن وہ گورنر کی رہائش کے پیچھے ایک فلیٹ میں رہتے ہیں۔
وہ ایک گھنٹے سے زیادہ لائن میں کھڑا رہا، پھر وہاں ہوائی حملہ ہوا، جس میں گورنر ہاؤس کو دھماکے سے اڑا دیا گیا اور وہ بھی مارا گیا۔پوجا نے طالب علم کا فون ڈائل کرتے ہوئے کہاہے کہ وہ مارا گیا تھا۔
یوکرین کی ایک خاتون نے جواب دیاہے کہ انہوں نے کہاہے کہ اس کے پاس یہ فون نہیں ہے،اسے اس وقت مورگ (مردہ خانے) لے جایا جا رہاہے۔نوین کے ساتھی سریدھرن گوپال کرشنن نے کہاہے کہ نوین کی موت یوکرین کے وقت کے مطابق صبح 10.30 بجے ہوئی۔
وہ کرانہ کی دکان کے باہر لائن میں کھڑا تھا جب وہ لوگوں پر روسی فوج کی فائرنگ میں مارا گیا۔ ہمارے پاس اس کی لاش کے بارے میں کوئی معلومات نہیں ہیں۔ ہم میں سے کوئی بھی ہسپتال جانے کی پوزیشن میں نہیں ہے جہاں اسے رکھا گیاہو گا۔
نوین نے کھانے اور نقدی کے لیے بنکر سے نکلنے سے پہلے اپنے والد سے بات کی تھی۔نوین نے والد کو بتایا تھا کہ جس بنکر میں وہ کرناٹک کے کچھ دوسرے لوگوں کے ساتھ چھپا ہوا تھا وہاں کھانا پانی ختم ہوگیاتھا۔ نوین خار کیف کے نیشنل میڈیکل یونیورسٹی میں میڈیکل کے لاسٹ ایئر کا طالب علم تھا۔
مہلوک طالب علم کا تعلق کرناٹک کے ہاویری سے تھا ، وہ یوکرین میں ایک بڑی سرکاری عمارت کے قریب رہتا تھا جسے روسی فوجیوں نے دھماکوں سے اُڑا دیا تھا۔یوکرین میں اس المناک حادثے کی تصدیق کرتے ہوئے وزارت خارجہ نے ٹویٹ کیاہے ۔
وزرات خارجہ نے کہا کہ ہم گہرے دکھ کے ساتھ ا س بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ آج صبح خار کیف میں روسی طیارہ کی بمباری میں ایک ہندوستانی طالب علم ہلاک ہوگیا ہے۔
وزارت ان کے خاندان سے رابطے میں ہے، ہم لواحقین سے گہری تعزیت کا اظہار کرتے ہیں۔وہیں کرناٹک کے وزیر اعلیٰ بسواراج بومئی نے کہا کہ شیکھر گوڈا نے کہا کہ غم سے دم گھٹ رہا ہے ، انہوں نے صبح فون پر اپنے بیٹے سے بات کی تھی اور وہ ہر روز دو یا تین بار فون کرتے تھے۔
 پوجا پرہراج نے کہا کہ وہ کھانا لینے گیا  مہلوک طالب علم گورنر ہاؤس کے بالکل پیچھے ایک فلیٹ میں دو گھنٹے تک لائن میں کھڑا تھا کہ اچانک گورنر ہاؤس فضائی حملے میں اڑا دیا گیا، جس میں نوین کی موت ہوگئی ۔
 ہندوستانی سفارت خانے نے کسی طالب علم سے رابطہ نہیں کیا۔روسی حملہ میں مہلوک طالب علم کے والد کا سنگین الزام
سرکارخو ب دعوے کررہی ہولیکن خودمقتول کے والدنے پول کھول دی ہے ۔ان کاکہناہے کہ سفارت خانے نے کوئی رابطہ نہیں کیا۔کرناٹک کا رہائشی ایک ہندوستانی طالب علم منگل کی صبح جنگ زدہ یوکرین کے خارکیو شہر میں مسلح تصادم میں مارا گیا۔ روسی حملے کے بعد یوکرین کی جنگ میں کسی ہندوستانی شخص کی موت کا یہ پہلا واقعہ ہے۔
کرناٹک کے ایک طالب علم کے والد، جو روسی حملے کے دوران یوکرین میں گولی باری میں مارے گئے تھے، نے منگل کو الزام لگایاہے کہ ہندوستانی سفارت خانے سے کسی نے بھی یوکرین کے کیف میں پھنسے ہندوستانی طلبہ سے رابطہ نہیں کیا۔
نوین شیکھرپا گیانگودر کے اہل خانہ نے بتایاہے کہ نوین کھارکیو میڈیکل کالج میں چوتھے سال کا طالب علم تھا۔ اس کے چچااجن گوڑانے دعویٰ کیاہے کہ نوین کرناٹک کے دیگر طلباء کے ساتھ کھرکیو میں ایک بنکر میں پھنس گیا تھا۔ وہ صبح کرنسی کی تبدیلی اور کھانے پینے کی اشیاء لینے گیا تھا کہ گولہ باری کی زد میں آکر ہلاک ہوگیا۔
خبرکے بعد چلگیری میں متاثرہ کے گھر پر سوگ پھیل گیا اور بڑی تعداد میں لوگ اس کے اہل خانہ کو تسلی دینے پہنچ گئے۔ اجنا گوڑا نے کہاہے کہ اس نے منگل کو ہی اپنے والد سے فون پر بات کی تھی اور بتایا تھا کہ بنکر میں کھانے پینے کے لیے کچھ نہیں ہے۔ سانحہ کی اطلاع ملتے ہی چیف منسٹر بسواراج بومئی نے گیانگودر کو فون کیا اور تعزیت پیش کی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button