
امیش پال قتل کیس: تجسس ختم، عتیق احمد کے دونوں بیٹے چائلڈ پروٹیکشن ہوم میں
یوپی کے مشہور امیش پال شوٹ آؤٹ کیس میں نامزد ایم پی عتیق احمد کے دو نابالغ بیٹوں کی مبینہ گمشدگی کے ایک ماہ بعد سسپنس ختم ہو گیا
الٰہ آباد،24مارچ :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) یوپی کے مشہور امیش پال شوٹ آؤٹ کیس میں نامزد ایم پی عتیق احمد کے دو نابالغ بیٹوں کی مبینہ گمشدگی کے ایک ماہ بعد سسپنس ختم ہو گیا ہے۔ الٰہ آباد کے دھومن گنج پولیس اسٹیشن کی طرف سے سی جے ایم کورٹ میں تفصیلی رپورٹ داخل کیے جانے کے بعد عتیق احمد کے بچوں کے بارے میں سسپنس ختم ہو گیا ہے۔ سی جے ایم کورٹ کے حکم پر دھومن گنج تھانے کے انچارج راجیش موریہ کی طرف سے دائر تفصیلی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ عتیق احمد کے دونوں بیٹے کہاں ہیں۔رپورٹ کے مطابق عتیق کے دونوں بیٹے پریاگ راج کے راج روپ پور علاقے میں چائلڈ پروٹیکشن ہوم میں ہیں۔ پولیس نے بتایا ہے کہ عتیق کے نابالغ بیٹوں اعجاز اور ابان کو راج روپ پور چائلڈ پروٹیکشن ہوم میں رکھا گیا ہے۔
عتیق کی اہلیہ شائستہ پروین کے وکیل اب راج روپ پور میں چائلڈ پروٹیکشن ہوم جائیں گے اور فیزیکلی تصدیق کریں گے، جس کے بعد وہ پیر کو سی جے ایم عدالت کے سامنے اپنا موقف رکھیں گے۔ اس معاملے کی دوبارہ سماعت پیر 27 مارچ کو ہوگی۔ دراصل الٰہ آبادپولیس نے اپنی رپورٹ میں بتایا تھا کہ 2 مارچ کو عتیق کے دونوں بیٹے ان کے گھر کے قریب لاوارث پائے گئے تھے۔نابالغ ہونے کی وجہ سے دونوں کو CWC کے سامنے پیش کیا گیا، جس کے حکم سے انہیں چائلڈ پروٹیکشن ہوم میں داخل کرایا گیا۔ حالانکہ پولیس نے یہ کبھی نہیں بتایا کہ دونوں بیٹوں کو کس چائلڈ پروٹیکشن ہوم میں رکھا گیا ہے۔
سی جے ایم کورٹ نے اس سلسلے میں پولیس سے 6 بار رپورٹ طلب کی تھی۔ واضح معلومات نہ دینے کی وجہ سے سی جے ایم کورٹ نے اسٹیشن انچارج دھومن گنج کو ذاتی طور پر طلب کیا تھا۔ عتیق کی اہلیہ شائستہ پروین نے دعویٰ کیا کہ پولیس نے ان کے دو نابالغ بیٹوں کو امیش پال شوٹ آؤٹ کیس کے صرف 3 گھنٹے بعد ان کے گھر سے حراست میں لیا تھا۔ اس کے بعد سے اس کا کوئی سراغ نہیں ملا۔ شائستہ پروین نے سی جے ایم کورٹ میں درخواست دائر کی تھی جس میں اپنی نابالغ بیٹیوں کا پتہ لگانے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔



